غلام حُر بن یزید ریاحی
شہید دیکھا تو فوج اشقیا ٔ پر حملہ آور ہو گیا کافی ملاعین کو تہِ تیغ کر کے خدمت
امام ؑ میں پہنچا اور اذن جہاد حاصل کر کے دوبارہ میدان میں گیا اور مصروف جہاد ہو
کر آخر شہید ہوا۔
اس ملعون نے امام مظلوم ؑ کی پیشانی کوپتھرسے زخمی کیاتھا۔
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وار دہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص شہدائے کربلا میں سے ہے۔
یہ شخص امام حسین ؑ کا خاص شیدائی تھا اور شجاعت۔۔ دلاوری۔۔ شرافت اور بزرگی میں اپنی نظیر آپ تھا، معاویہ کی موت کے بعد جب شیعان کوفہ کا سلیمان بن صرو خزاعی کے گھر میں اجتماع ہوا اور صلاح و مشورہ کے بعد امام ؑ کودعوتی خطوط لکھے گئے تو وہاں سے مکہ کی…
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے اس کے علاوہ اس کے تفصیلی حالات کا علم نہیں ہو سکا۔
یہ انسان نماکتایک چشم اورمبروص تھا اوراس کے بال مثل خنزیر کے بالوں کے تھے، جب بروز عاشور حضرت سیدالشہدأ کے سینہ پر سوارہوا توامام مظلوم ؑ نے آنکھ کھولی اورفرمایا تو کون ہے؟ جواس بلند مقام پر سوارہوا ہے جو پیغمبر کی بوسہ گا ہ ہے؟ کہنے لگا میں شمر بن ذی الجوشن ضبابی…
مالک اشتر کا فرزند جناب ابراہیم اپنے باپ کی طرح طاقت و شجاعت میں اپنی نظیر آپ تھا اور فن سپہ گری میں مہارت تامہ رکھتا تھا، جب اس کو امام زین العابدین کی جانب سے اجازت کی خبر ہوئی تو فوراً اس جماعت کے ساتھ شریک ہو گیا اور اس سے مختار کی قوت…