عبدالا علیٰ بن یزید کلبی
حضرت مسلم کے کوفہ میں آنے کے بعد یہ ان کا دست وبازوتھا اورحضرت مسلم کی شہادت
کے بعد گرفتارہوکر ابن زیاد کے پیش ہوا اوراس نابکار کے حکم سے قتل ہوکر درجہ
شہادت پر فائز ہوا۔
اس کو صحابیت رسالتمآبؐ کا شرف حاصل تھا اپنے زمانہ میں بڑا شجاع دلیر اور مرد میدان تھا کئی جنگوں میں جوہر شجاعت دکھا چکا تھا عمروبن سعد کے ہمراہ کربلا آیا اور جب دیکھا کہ انہوں نے صلح کی تمام شرائط ٹھکرا دی ہیں تو امام حسین ؑ کی فوج میں شامل ہو گیا…
اس کو مختار کے سامنے لایا گیا تو اس نے پوچھا تو وہ ملعون ہے جو راہ شام میں مظلوم ؑ کے سر کو نیزہ پر سوار کرتا تھا؟ اور زینب عالیہ کی پشت پر تازیانہ بھی مارتا تھا؟ تو اس نے انکار کیا پس مختار نے اس کا بند بند جدا کر کے اس…
حضرت علی ؑکے خاص الخاص شیعوں میں سے تھا اور جناب رسالتمآب کی صحبت کا شرف بھی اسے حاصل تھا، بوقت شہادت اس کی عمر ۹۸ برس تھی، قبیلہ مراد کا سردار تھا، جب سوار ہوتا تھا تو بروایت چارہزار جنگی سوار اور آٹھ ہزار پیادے سلاح پوش اس کے ہمر کاب ہوا کرتے تھے،…
’’ناسخ التواریخ‘‘ سے اس کا شہدائے کربلا میں سے ہونا مذکوہ ہے۔۔ حالات کی تفصیل کا کوئی علم نہیں۔
’’آمالی۔۔ صدوق‘‘ سے منقول ہے کہ وہب اور اس کی ماں نصرانی تھے امام حسین ؑ کے ہاتھ پر دونوں اسلام سے مشرف ہوئے۔۔۔ بحارالانوار سے منقول ہے کہ روز عاشور تک وہب کو شادی کئے ہوئے سترہ دن سے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا جب زوجہ وہب نے وہب کو آمادہ جہاد کیا تو…
’’قمقام فرہاد میرزا‘‘ سے منقول ہے کہ انہوں نے ’’تذکرہ الخواص‘‘ سے نقل کیا ہے جب سرہائے شہدأ کو کوفہ میں لایا گیا توقاسم بن اصبغ مجاشعی روایت کرتاہے میں نے ایک گھوڑے سوار کودیکھا کہ اس کے گھوڑے کی گردن سے ایک نوجوان کا سرلٹکا ہواتھا جس کا چہرہ مبارک چودھویں کے چاند کی…