سعد بن بشر حضرمی
التواریخ‘‘ سے اس کا شہدائے کربلا میں سے ہونا مذکوہ ہے۔۔ حالات کی تفصیل کا کوئی
علم نہیں۔
یہ کوفہ سے بمعہ چند ساتھیوں کے خفیہ طور پر نکل کر خدمت امام ؑ میں پہنچا اور روز عاشور شرف شہادت سے فیض یاب ہوا۔
یہ دونوں شہزادے حضرت مسلم کے فرزند تھے لیکن بروایت مشہور جناب رقیہ بنت علی ؑ کے شکم اطہر سے نہیں تھے کیونکہ جناب رقیہ کاصرف ایک ہی شہزادہ تھا جس کا نام عبداللہ تھا اوروہ میدانِ کربلامیں درجہ شہادت پر فائز ہوا اس میں بھی اختلاف ہے کہ مدینہ سے حضرت مسلم کے ہمراہ…
’’ذخیرۃ الدارین‘‘ سے منقول ہے کہ یہ حضرت عقیل کا فرزند تھا اوراس کی والدہ امّ ولد تھیں اورکربلامیں شہید ہوا، نیز رجال مامقانی سے بھی اس کا شہید کربلامیں سے ہونا منقول ہے۔
محمد بن حنفیہ کی قافلہ اہل بیت سے ملاقات بروایت ’’فرسان الہیجا ، ناسخ اوردمعہ ساکبہ‘‘ سے مروی ہے کہ مدینہ میں محمد بن حنفیہ کو قافلہ اہل بیت کی واپسی کی اطلاع ملی تو اُٹھ کرجلدی سے باہر نکلے اوردمعہ ساکبہ کی روایت ہے کہ بشیر نے جب اہل مدینہ کو اطلاع دی تو…
ان کا نام عمروبن عبداللہ تھا اور قبیلہ بنی صائد تھا جو قبیلہ حمدان کی ایک شاخ تھی ، یہ بزرگوار حضرت امیر ؑ کے سرباز شیعوں میں سے تھے۔۔۔ چنانچہ تمام جنگوں میں یہ آپ ؑ کے ہمرکاب رہے اور آپ ؑ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن ؑ کی غلامی میں رہے۔…
ان کی والدہ ماجدہ کا نام رملہ تھا اورامام حسن ؑ کی شہادت کے وقت ان کی عمر تقریباً تین چار برس تھی اورپھر امام حسین ؑ کے زیرسایہ انہوں تربیت پائی، کتب معتبرہ میں کہیں ان کی شادی کا ذکر موجود نہیں اورجناب فاطمہؑ بنت حسین ؑ جو کربلامیں موجود تھیں وہ حضرت حسن…