ان کی والدہ کا نام خولہ بنت منظور بن ریان فزاری تھا، یہ حسن مثنی کے نام سے مشہو رہیں۔۔۔ یہ فاضل جلیل اورنہایت متقی تھے، اپنے زمانہ میں حضرت امیر ؑ کے صدقات کے نگران رہے، لہوف سے منقول ہے کہ انہوں نے اپنے عم ّ نامدار کے سامنے خوب جہاد کیا اورسترہ ملاعین کو فی النار کیا اوراٹھا رہ کا ری زخم اس کو لگے، چنانچہ زخموں کی تاب نہ لا کرزمیں پر گرپڑے دشمنوں نے اس کو مقتول سمجھ کر وہیں چھوڑدیا بعد میں جب ملاعین نے اس کو قتل کرنا چاہاتو اسمأ بن خارجہ جو اس کا ماموں تھا اس نے چھڑالیا اورکہا کہ یہ ہمارا بھانجاہے پس وہ اپنے ہمراہ اس کو کوفہ میں لایا، جب ابن زیاد کو یہ خبر پہنچی توچونکہ اسمأ بن خارجہ قبیلہ فزارہ کا سردار تھا اوریہ قبیلہ کوفہ کے تمام عرب قبائل میں سے بڑی جمیعت پر مشتمل تھا اس لئے ابن زیاد نے مصلحت اسی میں سمجھی کہ اس کو نہ چھیڑا جائے، پس اسمأ بن خارجہ نے ان کا علاج کرایا جب صحت مند ہوگئے تو مدینہ میں بھیج دیا اوران کا مدینہ میں ہی انتقال ہوا۔
حضرت حسن مثنیٰ کے جناب فاطمہ کبریٰ کے بطن سے تین لڑکے اوردولڑکیاں تھیں: عبداللہ محض ، ابرہیم غمر ، حسن مثلث ، زینب ، کلثوم
مدینہ منورہ میں نہایت جلیل ومحترم شخصیت کے مالک تھے اوربنی ہاشم کے رئیس سمجھے جاتے تھے ان کی وفات کے بعد حضرت امیر ؑ کے صد قات کی تولیت ان کے فرزند حضرت عبداللہ محض کے سپرد ہوئی۔

Leave a Reply