anwarulnajaf.com

ناکثین ، قاسطین

وَإِن نَّكَثُواْ أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُواْ فِي
دِينِكُمْ فَقَاتِلُواْ أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لاَ أَيْمَانَ لَهُمْ
لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ {التوبة/12}أَلاَ
تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُواْ أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّواْ بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ
وَهُم بَدَؤُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللّهُ أَحَقُّ أَن
تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤُمِنِينَ {التوبة/13}قَاتِلُوهُمْ
يُعَذِّبْهُمُ اللّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ
وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ {التوبة/14}
وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللّهُ عَلَى مَن يَشَاء وَاللّهُ
عَلِيمٌ حَكِيمٌ {التوبة/15}أَمْ حَسِبْتُمْ أَن
تُتْرَكُواْ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّهُ الَّذِينَ جَاهَدُواْ مِنكُمْ وَلَمْ
يَتَّخِذُواْ مِن دُونِ اللّهِ وَلاَ رَسُولِهِ وَلاَ الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً
وَاللّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ {التوبة/16}
اور اگر توڑدیں اپنی قسموں کو  بعد عہد
کرنے  کے اور اعتراض کریں تمہارے  دین 
میں تو جنگ کرو کفر کے سرغنوں  سے
تحقیق  ان کی کوئی قسم نہیں تاکہ  وہ بازاۤئیں  
تم کیوں نہیں لڑتے  ایسی قوم سے  جنہوں نے 
تمہارے عہد کو توڑ   ڈالا  اور رسول کے نکالنے  کا ارادہ 
کیا اور  وہ ابتدا کر چکے  ہیں  
پہلی دفعہ کیا  ان سے ڈرتے  ہو؟ تو اللہ 
زیادہ سزاوار  ہے  کہ 
اس  سے ڈر و  اگر 
مومن  ہو  ان سے لڑو خدا ان کو عذاب دیگا تمہارے
ہاتھوں
   اور ان کو رسوا کرے  گا اور تمہاری مدد کرے گا   اور شفادے 
گا  مومن قوم کے دلوں  کو اللہ ختم کرے  گا ان کے دلوں 
کے غصہ کو اور توبہ قبول کرے گا جس 
کی چاہے  اور اللہ جاننے والا
دانا
  ہے کیا تم  نے خیال
کیاکہ چھوڑ دیے
  جاؤ گے  اور نہ جانے گا اللہ ان کو جنہوں  نے جہاد کیا تم  میں سے 
اور نہ بنائے  اللہ اور اس کے
رسول
  اور مومنوں  کے علاو 
کوئی اندرنی  دوست اور خدا
جانتاہے
  جو تم کرتے  ہو   
وان نکثو       حنان
بن سدیر سے روایت ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا اپنے فرمایا کہ
بصرہ
 کے کئی اۤدمی میرے
پاس ائے اورانہوں نے طلحہ اور زبیر کے متعلق مجھ سے پوچھاتو میں نے جواب دیا وہ
ائمۃالکفر   تھے یعنی کفر کے سرغنے اور
امام تھے کیونکہ  بصرہ  میں جب دونوں فوجیں ایک دوسرے  کے بالمقابل 
ہوئیں  تو حضرت علی علیہ السلام نے
اپنے ساتھیوں سے فرمایا جلدی مت کرو  پہلے
میں اپنا عذر تمام  کردوں جو میرے ان کے
اللہ کے درمیان ہے پس کھڑے ہو کر فرمایا اے اہل بصرہ کیا میں نے حکم میں کوئی ظلم
کیاہے انہوں نے جواب دیاکہ نہیں پھر فرمایا کہ میں نے کسی قسم کی خلاف ورزی کی ہے
تو انہوں نے جواب دیاکہ  نہیں کیا میں نے
اپنے اور اپنی عیال کےلئے مال دنیا جمع کیا ہے اور تم کو محروم کیاہے تو کہنے لگے
نہیں پھر فرمایا کیامیں نے تم میں حدودکوجاری کیا 
اور غیروں کو معافی دی ہے کہنے لگے کہ نہیں پس فرمایا کیاوجہ ہے کہ میری
بیعت کو تم توڑرہے ہو اور غیر کی بیعت کو تم نے نہیں توڑا  میں نے معاملہ کی حقیقت کو پر کھا ہے پس سوائے
کفر اور تلوار کے مجھے کوئی بات نظر نہیں ائی 
یہ کہہ کر اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور یہ اۤیت پڑھی وان نکثوا
لایۃ   پھر قسم کھاکر فرمایا کہ اس اۤیت کے
مصداق یہی لوگ ہیں اوراۤج تک اس اۤیت کے مصداق لوگوں سے لڑائی نہیں ہوئی تھی یعنی
اس اۤیت پر پہلے پہل  میں عمل کررہاہوں اور
جب سے اتری ہے اۤج تک تشنہ تعمیل تھی برہان وصافی  
اور
تفسیر مجمع البیان اور برہان میں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام  جنگ 
جمل سے فارغ ہوئے توایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں ذکر فرمایا کہ جناب رسالت
مآب  نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ اے علی  لتقتلن الفئۃ الناکثتہ والفئۃ الناغیتہ والفئۃ 
المارقتہ یعنی  تم
بیعت توڑنے والوں بغاوت کرنے والوں اوردین سے خارج ہونے والوں سے ضرور لڑوگے
  پس پہلی جماعت سے مراد جنگ جمل والے ہیں جن کے
سرغنے طلحہ وزبیر تھے اور ان کو ناکثین کہا جاتاہے اور دوسری جماعت سے مراد جنگ
صفین والے
  ہیں جن کا سرغنہ معاویہ تھااور
ان کو قاسطین کہا جاتاہے اور تیسری جماعت نہراوان کے خارجیوں کی ہے جن کو مارقین
  کہا جاتاہے بہر کیف یہ لوگ اس اۤیتہ مجیدہ  کے تاویل میں مصداق ہیں اورتنزیل  کے لحاظ سے اس کے مصداق روسا قریش اور
اکابرمشرکین تھے جنہوں
  نےعہد شکنی کی
ابتدا کی تھی

الاتقاتلون بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد قوم یہود ہے جنہوں
نے عہد کو پہلے پہل  توڑا اور مسلمانوں کے
خلاف کفار کی امداد  ی اور مدینہ سے رسول
خدااور مسلمانوں کے نکالنے  کی تدبیر یں
کیں اور بعضوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد بھی کفار مکہ ہیں انہوں نے مسلمانوں پر
جوروستم کی ابتدابھی کی تھی اور مکہ سے نکال بھی دیا تھا اور پھر عہد کے توڑنے کی
ابتدابھی انہوں نے ہی کی تھی

ویذھب غیظ قلوبھم  
یعنی جو مومن مدت سےکفار کے ظلم وتشدد کا نشانہ بنے ہوئے تھے اب ان کے دل
ٹھنڈے ہوں گے اور کافرلوگ ذلیل  وخوار ہوں
گے پس ان سے لڑواور خوب لڑو

ویتو ب
اللہ      یعنی اب بھی اگران میں سے کوئی
توبہ کرنا چاہے توتوبہ کا دروازہ بند نہیں بلکہ خداتوبہ کرنے والوں کی توبہ کو
قبول فرماتاہے بشرطیکہ دل سے توبہ کرے مشیت کی قید لگانے کا مقصد یہی ہے کہ وہ
چونکہ دلوں کے حالات کادانا بینا ہے پس جس کی توبہ صدق نیت سے ہوگی اس کو قبول کرے
گا  اور جوزبان سے توبہ کرے گا اور دل صاف
نہ ہوگا   تو خدااس کی توبہ قبول نہ کرےگا


قاسطین
بروایت
عیاشی ابوالاغرینی یاتیمی سے منقول ہےکہ جنگ صفین کا میں تماشادیکھرہاتھاکہ عباس
بن ربیعہ  بن حارث بن عبدالمطلب ہتھیار
لگائے ہوئے سر پرخود رکھے ہوئے مشکی گھوڑے پر سوارتھے اور ادھر فوج شام کی طرف
سےایک بہادر عرار بن ادھم نای میدان میں نکلا اوراس نے عباس کا للگارا پس حضرت
عباس بن ربیعہ اس کے مقابلے میں نکلے گھوڑوں سے اُتر کو دونوں نے پاپیادہ  تلوار سے لڑائی کی کافی دیر تک مقابلہ
ہوتارہااور  زروہوں کی مصبوطی کی وجہ سے
کوئی ایک دوسرے پر غالب نہ اۤسکا اۤ خر کار عباس نے اس شامی کومار گرایا پس لوگوں
میں نعرہ تکبیر کی گونج پیدا ہوئی کہ زمین بھی رزتی نظر اۤئی میں سنا کہ ایک شخص
نے یہی اۤیت تلاوت فرمائی

قاتلوھم یعذ بھم اللہ  الایتہ  
جب میں نے مڑ کر دیکھا تو تو حضرت علیؑ تھے اۤپ نے مجھ سے پوچھا کہ ہماری
طرف سے کون لڑرہا تھا تو میں  نے جواب  دیا اۤپ کی قوم کے بزرگ زادے عباس بن ربعیہ تھے
پس حضرت نے عباس کو بلایا اور فرمایا کیا میں نے تم کو اور حسن وحسین وعبداللہ بن
جعفر کو ایک جگہ ٹھہرے رہنے کو نہیں کہا تھا پھر کیوں تم میدان میں گئے اس نےعرض
کی اے اقا اس شامی نے مجھےللگار اتھا اس لئے 
میں چلا گیا اۤپ نے فرمایاکہ معاویہ چاہتاہے کہ بنی ہاشم کی نسل ختم ہو
جائے تم ہرگز میدان میں  نہ جاؤ اور اپنے
امام کی اطاعت کو لازم پکڑو ادھر معاویہ نے اپنی فوج میں اۤوازدی کہ کوئی ہے
جوعرار کا بدلہ لے چنانچہ دونجدی جوان میدان میں کودے اور عباس کوللکارا عباس نے
کہا میں اپنے سردار سے اجازت لے لوں چنانچہ خدمت امام میں پہنچ کوحقیقت بیان
کی  اۤپ نے فرمایااپنے ہتھیار اور گھوڑا
مجھے دے دو  چنانچہ عباس کے ہتھیار لگا کر
اس کے گھوڑے پر سوار ہوکر خود میدان میں پہنچے انہوں نے پوچھا سردار سے اجازت لے
لی ہے تو اۤپ نے اۤیت قراۤن پڑھی

اذن للذین یقاتلون  
الایۃ    یعنی جو لوگ جہاد کرتے ہیں ان کو اجازت دی گئی
ہے کیوںکہ وہ مظلوم ہیں پس یداللہی جمبش 
سے ایک کا سر قلم کیا اسکے بعد فورا دوسراۤیاتواس کو بھی دربان جہنم کے
حوالہ کیااور واپس اکرگھڑااور ہتھیار عباس کو واپس کردیئے معاویہ یہ خبر سن کو بہت
شرمندہ ہوا        مختصر ازبرہان

ام
حسبتم     یعنی خداوند کریم مومنوں کو
ازماتاہے اس بناء پر ارشادہے کیا انہوں نے یہ سمجھا ہےکہ ہمیں ایساہی چھوڑدیا جائے
گا بلکہ خداتوپرکھنا چاہتاہےکہ مجاہد کون ہیں اور میدان جنگ سے کنارہ کرنے والے
کون ہیں اور یہ بھی دیکھتاہے کہ اللہ ورسول ومومنین کے ساتھ دل وجان اور قلب ولسان
سےکون کون ہیں اور ظاہری محبت رکھ کر اندرونی طور پر اغیار سے محبت رکھنے والے کون
ہیں اور اس کے باطنی مصادیق کےلحاظ سے معصومین علیہ السلام  سے متعدد روایت منقول ہیں کہ اۤیت مجیدہ میں مومنین
 سےمرادائمہ ہدی علیہ السلام ہیں
اور ولیجہ سے مرادہر وہ شخص ہے جو اولوالامر کےعلاوہ ہو اور لوگوں کو اپنی اطاعت
کی دعوت دے 


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *