anwarulnajaf.com

صفات سلبیہ

صفات سلبیہ

یعنی وہ صفات جن سے اس کی ذات مبرا ہے اللہ کی مثل  نہیں وہجسم نہیں نہ وہ عرض ہے نہ جوہر  ہے نہ مرکب ہے 
نہ اس میں اختلاف ہے نہ وہ کسی مکان میں ہےاور نہ کسی جہت  میں ہے کیونکہ یہ سب مخلوق کی صفات ہیں اور
اللہ کے شایان شان نہیں ہیں  اللہ نہ کسی
شے میں
ہے  نہ کسی شئے سے ہے اور نہ اس سے
کوئی شئے  ہے نہ وہ کسی شئے کے اوپر
ہے  نہ اس کے اوپر کوئی شئے  ہے نہ وہ کسی شئے  سے مافوق 
ہے نہ تحت ہے اور نہ کوئی شئے  اس
سے منسوب ہے کیونکہ یہ سب حوادث کی صفتیں ہیں اوراللہ قدیم ہے پس حوادث کے صفات سے
پاک مبرا ہے

اللہ کسی شئی  میں
حلول نہیں کرتا اور نہ کسی شئے
کے ساتھ وجود  میں متمد ہونا ہے یعنی وحدۃ الوجود کا قول باطل
ہے

اللہ کی رویت 
ناممکن ہے پس وہ نہ دنیا میں نظر آتاہے اور نہقیامت کے روز نظر آئے گا  نہ اس کو نیک لوگ دیکھ سکتے ہیں پس اپنی کنہ
حقیقت  کو وہ خود ہی دیکھ سکتاہے  البتہ قلوب اس کی عظمت کے آثار  کا معائنہ کرسکتے ہیں اور آنکھیں اس کی مصنوعات
کی سیر کرکے دعوت فکر  کا سامان مہیاکرسکتی
ہیں لاتدرکۃ الابصار وھو یدرک الابصار یعنی اس کو کوئی آنکھ نہیں پاسکتی اور وہ
تمام آنکھوں کااوراک کرتاہے (انعام)

اللہ کو نہ حواس ظاہرہ پاسکتی ہیں یعنی قوت باصرہ قوت ذائقہ
قوت شامہ اور قوت لامسہ پس کان اس کی آواز نہیں سنتے آنکھ  اس کا نظارہ نہیں کرسکتی زبان اسکا ذائقہ  نہیں چکھ سکتی 
ناک اس کی بوتک نہیں پہنچ سکتی اور ہاتھ اس کو چھو نہیں سکتے کیونکہ آواز
رنگ ذائقہ بواور سردی وگرمی وغیرہ نہ تھیں اور وہ تھا پس وہ ان کیفیات کا خالق اور
اعضاء کا بھی خالق ہے اور ان سے پہلے ہے

اللہ کو حواس باطنہ بھی ادراک نہیں کرسکتی یعنی حس مشرک
خیال قوت متصرفہ واہمہ اور حافظہ کیونکہ ان میں سے کسی کے مشابہ نہیں پس یہ قوتیں
اس کےادراک سے قاصر ہیں توحید پروردگار اور اس کی صفات ثبوتیہ  وسلبیہ کے متعلق ہم نے جوکچھ لکھا ہے  وہ شیخ احمد احسائی اعلی اللہ مقامہ کی کتاب
حیوۃ النفس سے ملخص کیاہے شیخ موحوم پر جو الزام عائد کیاجاتاہے کہ وہ تو حید فی
العبادۃ کے قائل نہیں بلکہ نماز میں ایاک نعبد کہتے ہوئے حضرت علی کے تصورکو ضروری
سمجھتے ہیں یہ محض حاسد ملاؤں کی بہتان تراشی ہے انہوں نے زیارت جامعہ کے الفاظ
ومقدمکم  امام طلبتی کی تشریح  کرتے ہوئے فرمای اکہ اپنی مرادوں میں آئمہ  کی تقدیم کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کو اپنا شفیع
مانتے ہیں لاانہ یتخیل عندالعبادۃ صورھم تمثیلھم 
کمایفعلونہ اھل التصوف  یعنی تقدیم
کا یہ معنی نہیں کہ عبادت میں انکی صورتوں اور مثالوں کا تصور کیاجائے جس طرح صوفی
لوگوں کا دستور ہے کہ اپنے پیروں کا تصور کرتے ہیں اور پیر خود انکو ایسا
کرنے  کا حکم دیتے ہیں اور شیخ نے صوفیوں
کے مسلک کی پوری وحاحت کرنے کے بعد ان پر العنت بھیجی اور انکے مسلک کو باطل ثابت
کیا اورآخر میں پھر اپنے نظر یئے  کو ان
لفظوں میں دھرایا فلایجور ان تتصورصورۃ النبی صلی اللہ علیہ والہ او علی علیہ
السلام  اوالائمتہ  علیہم 
السلام عند توجھک الی اللہ تعالی 
لان ھذ اشرک وکفر یعنی یہ جائز نہیں کہ تم نبی یاحضرت علی آئمہ طاہرین
علیہم السلام  کا تصور نماز میںکرو جب تم
اللہکی طرف متوجہ ہورہے ہوکیونکہ یہ کفر اور شرک ہے (شرح زیارت جامعہ 284سطر
1تا13)


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *