سورة الإنشقاق (84) — al-Inshiqaq — The Rending — الاِنْشِقَاقِ
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
إِذَا السَّمَاء انشَقَّتْ (1) وَأَذِنَتْ
لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ (2) وَإِذَا
الْأَرْضُ مُدَّتْ (3) وَأَلْقَتْ
مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ (4) وَأَذِنَتْ
لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ (5) يَا
أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ (6) فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ
بِيَمِينِهِ (7) فَسَوْفَ يُحَاسَبُ
حِسَابًا يَسِيرًا (8) وَيَنقَلِبُ
إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُورًا (9) وَأَمَّا
مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ وَرَاء ظَهْرِهِ (10) فَسَوْفَ
يَدْعُو ثُبُورًا (11) وَيَصْلَى
سَعِيرًا (12) إِنَّهُ كَانَ فِي
أَهْلِهِ مَسْرُورًا (13) إِنَّهُ
ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ (14) بَلَى
إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا (15) فَلَا
أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ (16) وَاللَّيْلِ
وَمَا وَسَقَ (17) وَالْقَمَرِ
إِذَا اتَّسَقَ (18) لَتَرْكَبُنَّ
طَبَقًا عَن طَبَقٍ (19) فَمَا
لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (20) وَإِذَا
قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ (21) ( سجدة مستحبة ) بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ
يُكَذِّبُونَ (22) وَاللَّهُ
أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ (23) فَبَشِّرْهُم
بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (24) إِلَّا
الَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ (25)
لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ (2) وَإِذَا
الْأَرْضُ مُدَّتْ (3) وَأَلْقَتْ
مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ (4) وَأَذِنَتْ
لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ (5) يَا
أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ (6) فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ
بِيَمِينِهِ (7) فَسَوْفَ يُحَاسَبُ
حِسَابًا يَسِيرًا (8) وَيَنقَلِبُ
إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُورًا (9) وَأَمَّا
مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ وَرَاء ظَهْرِهِ (10) فَسَوْفَ
يَدْعُو ثُبُورًا (11) وَيَصْلَى
سَعِيرًا (12) إِنَّهُ كَانَ فِي
أَهْلِهِ مَسْرُورًا (13) إِنَّهُ
ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ (14) بَلَى
إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا (15) فَلَا
أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ (16) وَاللَّيْلِ
وَمَا وَسَقَ (17) وَالْقَمَرِ
إِذَا اتَّسَقَ (18) لَتَرْكَبُنَّ
طَبَقًا عَن طَبَقٍ (19) فَمَا
لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (20) وَإِذَا
قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ (21) ( سجدة مستحبة ) بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ
يُكَذِّبُونَ (22) وَاللَّهُ
أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ (23) فَبَشِّرْهُم
بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (24) إِلَّا
الَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ (25)
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے ( شروع کرتا ہوں )
جب آسمان پھٹے گا (1) اور اپنے رب کے (حکم کے ) سامنے کان
دھرے گا اور اس کے لئے سزاوار بھی یہی ہے
(2) اور جب زمین پھیلائی جائے گا (3) اور جو کچھ اس میں ہے اس کو پھینک دے گی اور
خالی ہو جائے گی (4) اور اپنے رب کے (حکم کے) سامنے کان دھرے گی اور اس کےلئے
سزوار بھی یہی ہے(5)اے انسان! تو کافی مشقت کر کے پانے رب کی طرف جانے والا ہے پس اس کی (جزا کی) ملاقات کرے گا (6) پس
لیکن جس کو اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا (7) تو اس کا حساب آسان ہو گا (8)
اور اپنے اہل کی طرف خوش خوش پلٹے گا (9) اور لیکن جس کو اعمالنامہ پیٹھ کے پیچھے
ملے گا (10) تو عنقریب اپنی ہلاکت و تباہی پر ور مچائے گا (11) اور جہنم میں جلے
گا (12) بے شک وہ (دنیا میں ) اپنے اہل میں خوشحال تھا (13) اسے خیال تھا کہ ہر گز
نہ پلٹایا جائے گا(14) ہاں ہاں تحقیق اس کا رب اس کو خوب جانتا ہے (15) پس مغربی
سرخی کی قسم اور ات کی (16) اور رات میں پناہ لینے والی چیزوں کی قسم (17) اور
چاند کی قسم جب پورا ہو(18) تم درجہ بدرجہ سوار ہو گے (آگے بڑھو گے) (19) ان کو
کیا ہے کہ نہیں ایمان لاتے (20) اور جب ان پر پڑھا جائے قرآن تو سجدہ نہیں کرتے
(21) بل جو لوگ کافر ہیں جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ جانتا ہے جو دل میں رکھتے ہیں
(23) پس ان کو خوشخبر دو دردناک عذاب کی (24) سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں
اور نیک عمل بجا لائے تو ان کےلئے نہ ختم ہونے والا اجر ہو گا(25)
دھرے گا اور اس کے لئے سزاوار بھی یہی ہے
(2) اور جب زمین پھیلائی جائے گا (3) اور جو کچھ اس میں ہے اس کو پھینک دے گی اور
خالی ہو جائے گی (4) اور اپنے رب کے (حکم کے) سامنے کان دھرے گی اور اس کےلئے
سزوار بھی یہی ہے(5)اے انسان! تو کافی مشقت کر کے پانے رب کی طرف جانے والا ہے پس اس کی (جزا کی) ملاقات کرے گا (6) پس
لیکن جس کو اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا (7) تو اس کا حساب آسان ہو گا (8)
اور اپنے اہل کی طرف خوش خوش پلٹے گا (9) اور لیکن جس کو اعمالنامہ پیٹھ کے پیچھے
ملے گا (10) تو عنقریب اپنی ہلاکت و تباہی پر ور مچائے گا (11) اور جہنم میں جلے
گا (12) بے شک وہ (دنیا میں ) اپنے اہل میں خوشحال تھا (13) اسے خیال تھا کہ ہر گز
نہ پلٹایا جائے گا(14) ہاں ہاں تحقیق اس کا رب اس کو خوب جانتا ہے (15) پس مغربی
سرخی کی قسم اور ات کی (16) اور رات میں پناہ لینے والی چیزوں کی قسم (17) اور
چاند کی قسم جب پورا ہو(18) تم درجہ بدرجہ سوار ہو گے (آگے بڑھو گے) (19) ان کو
کیا ہے کہ نہیں ایمان لاتے (20) اور جب ان پر پڑھا جائے قرآن تو سجدہ نہیں کرتے
(21) بل جو لوگ کافر ہیں جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ جانتا ہے جو دل میں رکھتے ہیں
(23) پس ان کو خوشخبر دو دردناک عذاب کی (24) سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں
اور نیک عمل بجا لائے تو ان کےلئے نہ ختم ہونے والا اجر ہو گا(25)
سورة الإنشقاق
·
یہ سورہ مکیہ ہے سورہ الانفظار کے بعد
نازل ہوا ہے۔
یہ سورہ مکیہ ہے سورہ الانفظار کے بعد
نازل ہوا ہے۔
·
اس کی آیات کی تعداد بسم اللہ الرحمٰن
الرحیم کو ملا کر چھبیس (26) ہے۔
اس کی آیات کی تعداد بسم اللہ الرحمٰن
الرحیم کو ملا کر چھبیس (26) ہے۔
·
جو شخص اس سورہ مجیدہ کی تلاوت کرے گا
حدیث نبوی میں ہے کہ اس کو اعمال نامہ بروز محشر پشت سے نہیں دیا جائے گا اور اگر
اس کو لکھ کر اس عورت پر باندھ دیا جائے جس کا بچہ جننا مشکل ہو گیا ہو تو فوراً
بچہ پیدا ہو جائے گا اور تکلیف نہ ہو گی اور دوسری روایت میں ہے اگر یہ سورہ اس
عورت پر پڑھا جائے تب بھی بچہ فوراً پیدا ہو جائے گا۔
جو شخص اس سورہ مجیدہ کی تلاوت کرے گا
حدیث نبوی میں ہے کہ اس کو اعمال نامہ بروز محشر پشت سے نہیں دیا جائے گا اور اگر
اس کو لکھ کر اس عورت پر باندھ دیا جائے جس کا بچہ جننا مشکل ہو گیا ہو تو فوراً
بچہ پیدا ہو جائے گا اور تکلیف نہ ہو گی اور دوسری روایت میں ہے اگر یہ سورہ اس
عورت پر پڑھا جائے تب بھی بچہ فوراً پیدا ہو جائے گا۔
·
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے
منقول ہے عسر ولادت کو دور کرنے کے لئے درد زہ والی عورت پر باندھی جائے اور وضع
حمل کے بعد فوراً اس کو کھول لینا چاہیے اور اگر اس کو کسی حیوان پر لٹکایا جائے
تو وہ بھی ہر قسم کی مصیبت سے محفوظ رہے گا اور اگر گھر کی چاردیواری پر لکھا جائے
تو حشرات الارض سے حفاظت ہو گی ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے
منقول ہے عسر ولادت کو دور کرنے کے لئے درد زہ والی عورت پر باندھی جائے اور وضع
حمل کے بعد فوراً اس کو کھول لینا چاہیے اور اگر اس کو کسی حیوان پر لٹکایا جائے
تو وہ بھی ہر قسم کی مصیبت سے محفوظ رہے گا اور اگر گھر کی چاردیواری پر لکھا جائے
تو حشرات الارض سے حفاظت ہو گی ۔
رکوع نمبر 9
اذاالسماء ۔ علائم قیامت کا ذکر ہے اور انشقاق کا معنی پھیل کر پھٹ جانا۔
واذنت۔ اس کا معنی ہے کان دھرنا یعنی اطاعت کرنا یعنی حکم پروردگار کی اطاعت
کرتے ہوئے پھٹ جائیگا ۔
کرتے ہوئے پھٹ جائیگا ۔
وحقت ۔ یعنی آسمان کے لئے حق اور سزاوار ہے کہ امر پروردگار کی اطاعت بے چوں و
چرا کرے ۔
چرا کرے ۔
مدت ۔ زمین کو پھیلایا جائے گایعنی اس میں کوئی نشیب و فراز باقی نہ رہے گا
حتی کہ پہاڑ و ٹیلے وغیرہ سب اڑا دیئے جائیں گے اور زمین کا میدان بالکل ہموار ہو
جائے گا اور اس کےلئے امر پروردگار کی اطاعت کرنا حق ہے۔
حتی کہ پہاڑ و ٹیلے وغیرہ سب اڑا دیئے جائیں گے اور زمین کا میدان بالکل ہموار ہو
جائے گا اور اس کےلئے امر پروردگار کی اطاعت کرنا حق ہے۔
یایھا الانسان۔ تمام انسانوں کو خطاب ہے کہ تم اپنے اعمال کردار کے ساتھ اپنے
رب کے سامنے پیش ہو گے اور جن اعمال کی بجآوری میں تم کو تکلیف محسوس ہوتی ہے ان
کی جزا تم کو ضرور ملے گی اور اللہ کی ملاقات سے مراد اس کی جزا کی ملاقات ہے ۔
رب کے سامنے پیش ہو گے اور جن اعمال کی بجآوری میں تم کو تکلیف محسوس ہوتی ہے ان
کی جزا تم کو ضرور ملے گی اور اللہ کی ملاقات سے مراد اس کی جزا کی ملاقات ہے ۔
حساباً یسیرا۔ یعنی جن لوگوں کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گا یا جو لوگ توبہ کر
چکے ہوں گے اور اعمالنامہ ان کے دائیں
ہاتھ میں ہو گا تو ان کو حساب کی سختی سے بچا لیا جائے گا اور بہشتی مکانات میں
اپنی حوروں کی طرف جو اس وقت اس کی اہل ہونگی خوش خرم واپس پلٹے گا۔
چکے ہوں گے اور اعمالنامہ ان کے دائیں
ہاتھ میں ہو گا تو ان کو حساب کی سختی سے بچا لیا جائے گا اور بہشتی مکانات میں
اپنی حوروں کی طرف جو اس وقت اس کی اہل ہونگی خوش خرم واپس پلٹے گا۔
ورآء ظھرہ ۔ منقول ہے کہ جہنمیوں کے دائیں ہاتھ گردن سے بندھے ہوں گے اور ان
کا بایاں ہاتھ پس پشت ہو گا لہذا اس کو اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں ملے گا۔
کا بایاں ہاتھ پس پشت ہو گا لہذا اس کو اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں ملے گا۔
ثبوراً ۔ ثبور کا معنی ہلاکت و مصیبت ہے یعنی وہ واثبور راہ ہائے ہلاکت کی
آواز بلند کرے گا۔
آواز بلند کرے گا۔
مسروراً ۔ یعنی کافر لوگ دنیا میں خوش ہوتے ہیں اس لئے کہ وہ دنیا کو ہی اپنا
مقام سمجھتے ہیں اور آخرت کی فکر سے بے نیاز ہوتے ہیں لیکن اس کے برخلاف مومن دنیا
میں غمگین رہتے ہیں کیونکہ ان کو آخرت کی فکر دامن گیر رہتی ہے اسی لئے حدیث میں
کہا گیا ہے کہ الدنیا سجن للمومن و جنۃ الکافر یعنی دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور
کافر کے لئے جنت ہے ۔
مقام سمجھتے ہیں اور آخرت کی فکر سے بے نیاز ہوتے ہیں لیکن اس کے برخلاف مومن دنیا
میں غمگین رہتے ہیں کیونکہ ان کو آخرت کی فکر دامن گیر رہتی ہے اسی لئے حدیث میں
کہا گیا ہے کہ الدنیا سجن للمومن و جنۃ الکافر یعنی دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور
کافر کے لئے جنت ہے ۔
وما وسق ۔ وسق کا معنی ہے جمع کرنا اور رات کی آمد ہر شیی کو اپنی جگہ پر واپس
لاتی ہے اس لئے ہر ذی روح کی قسم مراد ہے یا یہ کہ رات کو ستارے آ جاتے ہیں جو دن
کو غائب رہتے ہیں لہذا ممکن ہے ستارگان کی قسم مراد ہو۔
لاتی ہے اس لئے ہر ذی روح کی قسم مراد ہے یا یہ کہ رات کو ستارے آ جاتے ہیں جو دن
کو غائب رہتے ہیں لہذا ممکن ہے ستارگان کی قسم مراد ہو۔
اتسق ۔ یہ بھی وسق سے باب افتعال ہے جس کا معنی ہے جمع ہونا اور یہاں کمال
مراد ہے۔
مراد ہے۔
طبقا عن طبق ۔ طبق کا معنی حال ہے یعنی ایک حالت کے بعد دوسری حالت تک منتقل
ہوگا یا درجہ بدرجہ تمہاری ترقی ہے بعضوں نے کہا ہے کہ شب معراج پیغمبرؐ کو یہ
خطاب ہوا تھا کہ درجہ بدرجہ آگے بڑھتے جاؤ گے یا مومنوں کو عام خطاب ہے کہ درجہ
بدرجہ منازل آخرت کو طرے کرو گے اور ممکن ہے ہر انسان کو خطاب ہو کہ تم دنیا میں
درجہ بدرجہ بڑھتا ہے موت کے بعد حیات پھر موت پھر برزخ پھر حشر پھر حساب وغیرہ یا
نرمی سختی دکھ سکھ اور صحت و بیماری کے درجات مراد ہیں اور ممکن ہے ترتیب پیدائش
مراد ہو کہ نطفہ علقہ مضغہ ہڈیاں گوشت جنین
ولید رضیع فطیم یافع ناشتی مرعرع مراہق محتلم بالغ امرد ملتحی مستوی شاب
کہل شیخ اور ھرم کے درجات طے کر موت سے ہم آغوش ہو جاؤ گے یعنی پیدا ہونے سے مرنے
تک طبق در طبق اور درجہ بدرجہ حالات تبدیل کرو گے اور ایک روایت میں ہے کہ اس سے
مراد یہ ہے کہ تم لوگ بھی گذشت امتوں کی طرح سابق کردار کو دھراؤ گے جو حرکات ان
سے سرزد ہوئی وہی تم سے بھی ہوں گی اور ممکن ہے تمام معافی مراد ہوں اور تفسیر
برہان میں ہے کہ شب معراج حضورؐ کو خطاب ہوا تھا اور آپ فرماتے ہیں کہ جب منزل قاب
قوسین پر پہنچا تو مجھے ارشاد پروردگار ہوا یا محمد اقرء منی علی بن ابی طالب
السلام یعنی اے محمد واپس زمین پر پہنچ کر علی کو میرے سلام کہنا اور اسے یہ بھی
بتانا انی احبہ و احب من یحبہ کہ میں اس کو محبوب رکھتا ہوں اور جو بھی اس سے محبت
رکھے میں اس کو بھی دوست رکھتا ہوں اور چونکہ علیؑ سے مجھے محبت ہے اس لئے میں نے
اس کا نام بھی اپنے نام سے تجویز کیا ہے کہ میں علی عظیم ہوں اور وہ علیؑ ہے اور
میں محمود ہوں اور تو محمدؐ ہے اور اگر کوئی شخص میری پچاس کم ایک ہزار سال عبادت
کرے یعنی حضرت نوحؑ کے برابر تبلیغ کرے اور بروز محشر میرے پیش ہو تو اس کی تمام
عبادت میرے نزدیک علیؑ کی ایک نیکی کے برابر ہو گی۔
ہوگا یا درجہ بدرجہ تمہاری ترقی ہے بعضوں نے کہا ہے کہ شب معراج پیغمبرؐ کو یہ
خطاب ہوا تھا کہ درجہ بدرجہ آگے بڑھتے جاؤ گے یا مومنوں کو عام خطاب ہے کہ درجہ
بدرجہ منازل آخرت کو طرے کرو گے اور ممکن ہے ہر انسان کو خطاب ہو کہ تم دنیا میں
درجہ بدرجہ بڑھتا ہے موت کے بعد حیات پھر موت پھر برزخ پھر حشر پھر حساب وغیرہ یا
نرمی سختی دکھ سکھ اور صحت و بیماری کے درجات مراد ہیں اور ممکن ہے ترتیب پیدائش
مراد ہو کہ نطفہ علقہ مضغہ ہڈیاں گوشت جنین
ولید رضیع فطیم یافع ناشتی مرعرع مراہق محتلم بالغ امرد ملتحی مستوی شاب
کہل شیخ اور ھرم کے درجات طے کر موت سے ہم آغوش ہو جاؤ گے یعنی پیدا ہونے سے مرنے
تک طبق در طبق اور درجہ بدرجہ حالات تبدیل کرو گے اور ایک روایت میں ہے کہ اس سے
مراد یہ ہے کہ تم لوگ بھی گذشت امتوں کی طرح سابق کردار کو دھراؤ گے جو حرکات ان
سے سرزد ہوئی وہی تم سے بھی ہوں گی اور ممکن ہے تمام معافی مراد ہوں اور تفسیر
برہان میں ہے کہ شب معراج حضورؐ کو خطاب ہوا تھا اور آپ فرماتے ہیں کہ جب منزل قاب
قوسین پر پہنچا تو مجھے ارشاد پروردگار ہوا یا محمد اقرء منی علی بن ابی طالب
السلام یعنی اے محمد واپس زمین پر پہنچ کر علی کو میرے سلام کہنا اور اسے یہ بھی
بتانا انی احبہ و احب من یحبہ کہ میں اس کو محبوب رکھتا ہوں اور جو بھی اس سے محبت
رکھے میں اس کو بھی دوست رکھتا ہوں اور چونکہ علیؑ سے مجھے محبت ہے اس لئے میں نے
اس کا نام بھی اپنے نام سے تجویز کیا ہے کہ میں علی عظیم ہوں اور وہ علیؑ ہے اور
میں محمود ہوں اور تو محمدؐ ہے اور اگر کوئی شخص میری پچاس کم ایک ہزار سال عبادت
کرے یعنی حضرت نوحؑ کے برابر تبلیغ کرے اور بروز محشر میرے پیش ہو تو اس کی تمام
عبادت میرے نزدیک علیؑ کی ایک نیکی کے برابر ہو گی۔
لایسجدون ۔ کفار کو تنبیہ ہے کہ اس قدر واضح بیان کے بعد وہ ایمان کی دولت سے
بہرہ اندوز کیوں نہیں ہوتے اور جب قرآن پڑھا جائے تو اللہ کے سامنے کیوں نہیں
جھکتے اور منقول ہے کہ سورہ انشقاق پڑھ کر حضورؐ سجدہ میں گرجایا کرتے تھے۔
بہرہ اندوز کیوں نہیں ہوتے اور جب قرآن پڑھا جائے تو اللہ کے سامنے کیوں نہیں
جھکتے اور منقول ہے کہ سورہ انشقاق پڑھ کر حضورؐ سجدہ میں گرجایا کرتے تھے۔
یوعون ۔ یہ دعا سے ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ وہ جو کچھ دلوں میں رکھتے ہیں
خدا ان کے تمام رازوں کو جانتا ہے اور حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا
کہ تمہارے دل دعاء ہیں لہذا ان میں اچھی باتیں رکھا کرو۔
خدا ان کے تمام رازوں کو جانتا ہے اور حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا
کہ تمہارے دل دعاء ہیں لہذا ان میں اچھی باتیں رکھا کرو۔
Leave a Reply