حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے مروی ہے کہ یہاں
اذان کا مصداق علیؑ ہے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس آیت مجیدہ کے متعلق دریافت کیاگیا تو آپ نے فرمایا کہ خداوند کریم نےآسمان پر حضرت کاایک نام اذان بھی مقرر کیا
ہے کیونکہ انہوں نے جناب رسالت مآب کی
جانب سے مشرکین مکہ کو برات پہنچائی تھی کہ پہلے حضورﷺ نے ابوبکرکو بھیجا تھا تو
جبریل نازل ہو اکہ اس کو نہ
پہنچائے مگر تو خود یا وہ شخص جو تجھ سے
ہو پس حضور نے حضرت علی
کو رانہ فرمایا پس حضرت علی
نےراستہ میں ابوبکر سے صحیفہ لے لیا اور
مکہ میں گئے تو خدانے ان کا نام اذان مقرر کیا
اور یہ پروردگار کا حضرت علی کو عطیہ ہے
حضرت امیر علیہ السلام نے کوفہ میں خطبہ
پڑھا جبکہ اۤپ کو اطلاع ملی کہ معاویہ اۤپ
کو سب کرتاہے اور عیب جوئی کرتاہے نیز اۤپ کے طرفداروں کو قتل کرتاہے تو اۤپ نے حمد وثنا ٰ
ودوردسلام کے بعد اپنے بیان میں ارشاد
فرمایا نالموذن فی الدینا والاخرۃ میں
دنیا واخرت میں خدا کی جانب سے موذن ہوں
ایک مقام پر خدافرماتاہے واذن موذن
بینھم ان لعنۃ اللہ علی الظالمین
یعنی اس دن موذن اذان دے گا کہ اللہ کی
لعنت ہے ظالموں پر انا ذلک الموذن وہ موذن
میں ہوں گا اور دوسرارشادہے واذان میں
اللہ اور یہاں اذان سے مراد میں ہوں
خلافت بلا فصل کی دلیل قرار دیا ہے اور مسند احمد سے نقل
کیاگیا ہے کہ اس اذان سےمراد حضرت
علیؑ ہیں اور دلائل الصدق میں
درمنثور سےمنقول ہے حضرت امام زین
العابدین علیہ السلام نے فرمایا کہ کتاب اللہ
میں حضرت علی کانام موجود ہے لیکن لوگ جانتے نہیں ہیں
حدیث کہتاہے میں نےدریافت کیاکہ
کہاں ہے تو اۤپ نے فرمایاتمہیں معلوم نہیں کہ خدافرماتاہے واذان من اللہ
الخ خداکی قسم اس کے مصداق اپ ہی
ہیں اس میں شک نہیں کہ خدا کی جانب سے یہ
لقب حضرت امیر علیہ السلام کی عظمت شان اور رفعت
مقام کا واضح مینار ہے پس خداکی احکام کی تبلیغ اور رسول کی نیابت انہی کی
ذات ولاصفات کےلئے ہی زیباہے
امام جعفر صادق علیہ السلام سےمروی ہے کہ
یوم حج اکبر سے مراد قربانی کا دن ہے اور اس کے مقابلہ میں حج اصغر
سےمراد عمرہ ہے اور بعض رواۤیات میں ہے کہ اس سال چونکہ مسللمانوں اور مشرکوں
نے مل کر حج کیا تھا اس لئے وہ دن حج اکبر
کادن کہلایا اور اس کے بعد پھر مشرکین کا بیت الحرام میں داخلہ ممنوع قراردیا گیا
بعضوں نے کہا ہے کہ پہلی برات سےمراد نقض عہدے اور یہاں براۃ سے مراد دوستانہ تعلقات کا اختتام ہے لہذاتکرار لازم نہیں اۤتا
فان
تبتم یعنی مشرکوں کو بتادو کہ اگر توبہ
کرلیں اور شرک سے باز اۤجائیں تو فائدہ
میں رہیں گے لیکن اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ اۤ
ئیں اور شرک پر ڈٹے رہیں تو وہ االلہ کو عاجز نہیں کرسکتے گویا یہ
بھی دبے لفظوں ان کی تہدید تھی پھر اس کے
بعد صاف طور پر فرمادیا کہ ان کو درد ناک
عذاب کی بشارت دیدو
شَيْئًا وَلَمْ يُظَاهِرُواْ عَلَيْكُمْ أَحَدًا فَأَتِمُّواْ إِلَيْهِمْ
عَهْدَهُمْ إِلَى مُدَّتِهِمْ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ {التوبة/4} فَإِذَا انسَلَخَ الأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُواْ
الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُواْ
لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ الصَّلاَةَ وَآتَوُاْ
الزَّكَاةَ فَخَلُّواْ سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ {التوبة/5}
دیا تم کو کچھ اور نہ مدد کی تمہارے خلاف کسی کی تو پورا کرو انکا عہد اپنی
مدت تک
تحقیق اللہ دوست رکھتاہے ڈرنے والوں کو پس جب گزر جائیں مہینے
حرمت الے تو قتل کرو مشرکوں کو جہاں
ان کو پاؤ اور پکڑو ان کو اور بند
کرو ان کو اور بیٹھو ان کے لئے ہر گھات
پرپس اگر تو بہ کریں اور قائم کریں نمازکو اور ادا کریں زکوۃ کو تو چھوڑ دو ان
کاراستہ تحقیق اللہ غفور رحیم ہے
الاشھر الحرم یہاں حرمت والے مہینوں سے مراد وہ مدت ہے جو کفار کےعہد وپیمان کی مقرر کی گئی تھی یعنی چار ماہ یعنی اس مدت کے گذر جانے کے بعد کفارکا خون مباح ہے ان کو جہاں پاؤ قتل کرڈالو اور ان کو پکڑو اور قیدکرو اورمسجدالحرام میں انے سے روکو
واقعدو لھم یعنی ہر حیلہ اور ہر طریقہ سے ان کو ذلیل کرو اور ان پر زندگی کا میدان
تنگ کردو یہ اس لئے کہ اسلام تمدن انسانی
کی راہوں کوہموارکرنےکے لئے اۤیا ہے اور انسانوں میں سے جوبھی اس راہ میں رکاوٹ کا
باعث بنے وہ ازراہ عقل واجب القتل ہے جس طرح انسانی اعضامیں سےاگرایک عضو خراب
ہوجائے تو باقی اعضاکی حفاظت کے پیش نظر تبقا ضائے عقل وہ خراب اور موذی عضو کاٹ
دینے کے قابل ہوتاہے اور یہ ظلم نہیں بلکہ
دفع ظلم ہے جس پر انسانیت کی بقا کادار ومدار ہے لہذا یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام
تلوار کے زور سے پھیلا بلکہ اسلام تلوار
کے زور سے پھیلا بلکہ اسلام اپنے مبنی بر صداقت اصولوں کی بناپر مقبول عام ہوا اور انسانیت کی ناؤ کو ڈبونے کے
درپے ہونےوالوں کو اس راستہ سے بقوت بازو ہٹادیا گیا
وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى
يَسْمَعَ كَلاَمَ اللّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ
لاَّ يَعْلَمُونَ {التوبة/6} اور اگر کوئی مشرک تم سے
پناہ لے تو اس کو پناہ دو تاکہ سنے کلام خداکو
پھر پہنچاؤ اس کو اس کے امن کی جگہ پر یہ اس لئے
کہ وہ نادان قوم ہیں
وان
احد حضرت امیر علیہ السلام سے ایک مشرک نے سوال کیا تھا کہ یہ بتاہیے اگر مدت گذر جائے اور ہم میں سے کسی نے
جناب رسول خداسے ملنا ہو تو اس کے لئے بھی عہد ختم ہے تو اۤپﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ
خدانے فرمایا ہے اگر کوئی مشرک تم سے پناہ لے تو اس کو پناہ دو قراۤن مجید سننے کا
اس کو موقع دو پھر باامن اس کو اپنے گھر
پہنچاؤ اور یہ امان اسلئے ہےکہ وہ ایمان اورقراۤن مجید کو جانتے نہیں ہیں پس اس ایمان کے ذریعے سے ان کو موقع دیا
گیا ہے کہ سنیں اور سمجھیں اور راہ راست پر ائیں
Leave a Reply