حارث بن نوفل لعنہٗ اللہ
مروا کر داخل آگ کیا گیا کہ وہ جہنم میں پہنچ گیا۔
’’ناسخ التواریخ‘‘ سے منقول ہے کہ کوفہ میں حضرت علی ؑکے شیعوں میں سے ایک شخص عمیر بن عامر معلّم کو فی تھا جو بچوں کو پڑھاتا تھا اور یہی اس کا ذریعہ معاش تھا، ایک دن ایک عرب بدوی اس کے گھر آیا ایک پانی کا کوزہ بھرا ہوا دیکھا چونکہ وہ پیاسا تھا…
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پرسلام وارد ہے، بصرہ سے اپنے باپ کے ہمراہ آیا اورحملہ اولیٰ میں درجہ شہادت پرفائزہوا۔
یہ شخص صحابی رسول تھا، ابن عبد البر نے ذکر کیا ہے کہ جنگ احد و بدر میںبھی شریک ہوا تھا، قبیلہ جہنیہ سے تھا اس قبیلہ کی آبادی مدینہ سے قریب تھی، جب امام حسین ؑ عازم سفر عراق ہوئے تو اس جگہ کے کافی لوگ آپ ؑکے ہمرکاب ہوئے تھے، لیکن منزل زبالہ…
’’مقاتل الطا لبین‘‘ سے مروی ہے کہ یہ اورحضرت قاسم یک مادرے بھائی تھے حضرت قاسم کی شہادت کے بعد شہید ہوئے اوراس کو عبداللہ بن عقبہ غنوی نے شہید کیا۔۔۔ زیارت ناحیہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے۔
بروایت ’’اعیان الشیعہ۔۔ نجاشی‘‘ اس کا شہدائے کربلا سے ہونا منقول ہے۔
زیارت ناحیہ ورجبیہ میں اس پرسلام وارد ہے، ’’نفس المہموم‘‘ سے منقول ہے کہ جب امام حسین ؑ کے تمام انصار شہید ہوگئے اورصرف بنی ہاشم یعنی عقیل وجعفر طیار کی اولادامام حسن ؑ حسین ؑ کی اولاد اورحضرت امیر ؑ کی اولاد بچ گئی اوریہ وہ جوان تھے کہ ان کا ہر ایک اپنی…