كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِندَ اللّهِ وَعِندَ رَسُولِهِ
إِلاَّ الَّذِينَ عَاهَدتُّمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُواْ
لَكُمْ فَاسْتَقِيمُواْ لَهُمْ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ {التوبة/7} كَيْفَ وَإِن يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لاَ
يَرْقُبُواْ فِيكُمْ إِلاًّ وَلاَ ذِمَّةً يُرْضُونَكُم بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَى
قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ {التوبة/8}
إِلاَّ الَّذِينَ عَاهَدتُّمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُواْ
لَكُمْ فَاسْتَقِيمُواْ لَهُمْ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ {التوبة/7} كَيْفَ وَإِن يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لاَ
يَرْقُبُواْ فِيكُمْ إِلاًّ وَلاَ ذِمَّةً يُرْضُونَكُم بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَى
قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ {التوبة/8}
کیسے رہ سکتا ہے مشرکوں کا عہد اللہ اور
اس کے رسول کے نزدیک سوائے
انکے جن کے ساتھ تم نے عہد کیا مسجد الحرام کے پاس
پس جب تک وہ ثابت رہیں تو تم بھی ثابت رہو ان کے لئے تحقیق
اللہ دوست رکھتاہے ڈرنے والوں کو یہ کیسے ہو ؟ حالانکہ وہ اگر غالب اۤجائے تم پر تو نہ لحاظ رکھیں گے تمہاری قرابت
کا اور نہ عہد کا وہ تم کو راضی کرتے ہیں منہ سے اور نہیں مانتے ان کے دل اور وہ اکثر فاسق ہیں
اس کے رسول کے نزدیک سوائے
انکے جن کے ساتھ تم نے عہد کیا مسجد الحرام کے پاس
پس جب تک وہ ثابت رہیں تو تم بھی ثابت رہو ان کے لئے تحقیق
اللہ دوست رکھتاہے ڈرنے والوں کو یہ کیسے ہو ؟ حالانکہ وہ اگر غالب اۤجائے تم پر تو نہ لحاظ رکھیں گے تمہاری قرابت
کا اور نہ عہد کا وہ تم کو راضی کرتے ہیں منہ سے اور نہیں مانتے ان کے دل اور وہ اکثر فاسق ہیں
کیف یکون تفسیر
مجمع البیان میں ہےکہ قبایل بکر میں سے
بنو خزیمہ بنومدلج بنوضمرہ اور بنوویل نےقریش کے ساتھ مل کر حدیبیہ کے دن جناب
رسالت ماب کے ساتھ عہدوپیمان کئے تھے پس
ان عہدوں کو قریش اور بنو ویل نے توڑ دیا تو ان کے بارے میں ارشادہے کہ اللہ ورسول کے نزدیک ان مشرکوں کےعہد
کی کیاوقعت ہے جو عہد شکنی میں خود پہل کریں ہاں وہ لوگ جو اپنےعہد پر ثابت ہیں تو
تم بھی ان کےلئے ثابت رہو اور عہد شکنی نہ کرو
مجمع البیان میں ہےکہ قبایل بکر میں سے
بنو خزیمہ بنومدلج بنوضمرہ اور بنوویل نےقریش کے ساتھ مل کر حدیبیہ کے دن جناب
رسالت ماب کے ساتھ عہدوپیمان کئے تھے پس
ان عہدوں کو قریش اور بنو ویل نے توڑ دیا تو ان کے بارے میں ارشادہے کہ اللہ ورسول کے نزدیک ان مشرکوں کےعہد
کی کیاوقعت ہے جو عہد شکنی میں خود پہل کریں ہاں وہ لوگ جو اپنےعہد پر ثابت ہیں تو
تم بھی ان کےلئے ثابت رہو اور عہد شکنی نہ کرو
کیف وان – یعنی ایسے لوگوں کا کیا عہد جو موقعہ کی تاڑ میں
ہوں اگران کابس لگے تو تم کو ہر ممکن ایزا دیں گے پھر نہ تمہاری رشتہ داری کا لحاظ
کریں گے اور نہ عہد کی پاس کریں گے
الا اسکالغوی معنی
قرابت بھی ہے اور اسکا معنی عہد بھی ہوا
کرتاہے چنانچہ
یہ الل سے ماخوذہے اورالل کا معنی ہے چمک
ال یول الا چمکنا اذن مو للۃ تیز
کان اس مقام پرال کامعنی قرابت ہے کیونکہ اس کے بعد ذمۃ مذکورہے جس کا معنی عہد ہے اور بعضوں نے ال کا معنی
ہمسائیگی بھی کیاہے نیز بعضوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ خداوندکریم کے ناموں سے ایک
نام ہے
کان اس مقام پرال کامعنی قرابت ہے کیونکہ اس کے بعد ذمۃ مذکورہے جس کا معنی عہد ہے اور بعضوں نے ال کا معنی
ہمسائیگی بھی کیاہے نیز بعضوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ خداوندکریم کے ناموں سے ایک
نام ہے
اکثرھم
فاسقون کافر سب کے سب فاسق ہو اکرتے ہیں اس جگہ مطلب یہ ہےکہ
ان میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں
جوعہد و پیمان کی کوئی قدر نہیں کرتے بلکہ بے وفااور غدار ہوتے ہیں
اشْتَرَوْاْ بِآيَاتِ اللّهِ ثَمَنًا قَلِيلاً فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِهِ
إِنَّهُمْ سَاء مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ {التوبة/9}
لاَ يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلاًّ وَلاَ ذِمَّةً وَأُوْلَئِكَ هُمُ
الْمُعْتَدُونَ {التوبة/10} فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ
الصَّلاَةَ وَآتَوُاْ الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَنُفَصِّلُ
الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ {التوبة/11}
إِنَّهُمْ سَاء مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ {التوبة/9}
لاَ يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلاًّ وَلاَ ذِمَّةً وَأُوْلَئِكَ هُمُ
الْمُعْتَدُونَ {التوبة/10} فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ
الصَّلاَةَ وَآتَوُاْ الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَنُفَصِّلُ
الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ {التوبة/11}
جو
خرید تے ہیں اللہ کی اۤیات
کے بدلہ میں قیمت تھوڑی پس روکتے
ہیں اس کے راستہ سے تحقیق وہ برا کرتے
ہیں نہیں لحاظ کرتے مومن
کے بارے میں رشتہ کی اور نہ عہد کی
اور وہ ظالم ہیں پس اگر تو بہ کریں
اور قائم کریں نماز اور دیں زکوۃ
تو تمہارے بھائی ہیں دین میں اور ہم
کھولتے ہیں اۤیات کو اس قوم
کے لئے جو جانیں
خرید تے ہیں اللہ کی اۤیات
کے بدلہ میں قیمت تھوڑی پس روکتے
ہیں اس کے راستہ سے تحقیق وہ برا کرتے
ہیں نہیں لحاظ کرتے مومن
کے بارے میں رشتہ کی اور نہ عہد کی
اور وہ ظالم ہیں پس اگر تو بہ کریں
اور قائم کریں نماز اور دیں زکوۃ
تو تمہارے بھائی ہیں دین میں اور ہم
کھولتے ہیں اۤیات کو اس قوم
کے لئے جو جانیں
ثمناقلیلا کہتے ہیں ابوسفیان نے عرب کی ایک قوم کو کھانےکی
دعوت دی تھی تاکہ ان کے دلوں میں نبی علیہ السلام
کی عداوت راسخ ہو پس اسی کے متعلق
فرماتاہے کہ اۤیات الہیہ کےبدلہ میں وہ معمولی منافع دنیا ویہ خرید کرلیتے ہیں
دعوت دی تھی تاکہ ان کے دلوں میں نبی علیہ السلام
کی عداوت راسخ ہو پس اسی کے متعلق
فرماتاہے کہ اۤیات الہیہ کےبدلہ میں وہ معمولی منافع دنیا ویہ خرید کرلیتے ہیں
لا
یرقبون اسکامادہ رقبہ ہےاور مجمع
البیان میں ہے کہ رقبہ انتظار مراقبہ مراعات اور محافظ سب کا معنی ایک ہے
Leave a Reply