anwarulnajaf.com

صدو احصار کا بیان

 صدو احصار کا بیان: اگر حج کرنے والے کو حج کرنے سے روکاوٹ ماع ہوجائے
تو قربانی دیکر احرام کھول سکتا ہے۔ روکاوٹ ۔ دو قسم کی ہوا کرتی ہے۔ (1) بیماری
کی وجہ سے (2)   دشمن یا درندہ یا کسی ظالم وجابر کی وجہ سے
اصطلاح  نقہا میں پہلی قسم کی رکاوٹ کو حصر
کہتے ہیں اور دوسری قسم کو صد کہتے ہیں۔

قرآن مجید میں ہے  اُخصِر تُم 
جس کا معنی ہے کہ تم حصر کی وجہ سے رُک جاؤ تو ایسا کرو لیکن یہاں پر مراد
عام ہے یعنی رکاوٹ خواہ حصر (مرض کی وجہ سے 
ہو ) یا صد (خو ف دشمن) کی وجہ سے ہو ۔ ہر دوصورت میں قربانی کرنے کے احرام
سے باہر آؤ  نَما استَیسَسَ  قربانی کے جانور تین ہیں (1) اونٹ  (2) گائے (3) بکری

ان 
میں سے حسب حیثیت جو بھی میّسر ہو سکے اسی کی قر بانی کر لے اور احرام سے
حلال ہو جائے ۔

مسئلہ:۔ یعنی حصر کی صورت میں قربانی کرنے کے بعد سر منڈوائے اور احرام کھول
دے ورنہ جبتک  احرام کی حالت باقی ہو اس
وقت تک سر منڈوانا  یا باقی حجامت کرانا
ممنوع ہے اور اسی کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ سر منڈوانا جائز نہیں ہے جبتک کہ
قربانی اپنے مقام  پر نہ پہنچ جائے تفصیل
اس کی کہ ہے کہ احرام کی دو قسمیں  ہیں۔٭
احرام حج اور احرام عمرہ اور ہر دوصورتوں میں روکاوٹ یا حصر  (بیماری ) سے ہوگی یا صد (خوف دشمن وغیرہ) سے
تو یہ کل چار صورتیں بنتی ہیں۔

(1)       
پس اگر احرام حج کا ہو اور
روکاوٹ کی وجہ بیماری ہو جس سے آگے نہ جا سکتا ہو تو اس صورت میں اپنی حسب حیثیت
قربانی روانہ کردے  اور اس کے ذبح کا محل
مقام  منیٰ  ہے اور قربانی لے جانے والے کےساتھ وقت کی تعین
کر لے کہ دسویں ذوالحج  کے دن فلاں وقت میں
اس قربانی کو ذبح  یا سخر کرنا ہے۔ پس یہ
بیمار دسویں کے  دن اس وقت  تک انتظار کر ے جس میں قربانی کے ذبح  کا وعدہ کیا تھا  اور جب 
وہ وقت آجائے تو یہ اپنے احرام کو کھول دے اور حجامت وغیرہ کرالے لیکن اس
وقت سےپہلے نہ سر منڈوا سکتا ہے اور نہ کوئی دوسرا کا م کر سکتا ہے جو حرام کے
منافی ہو۔

(2)        
اگر احرام حج کا ہو اور روکاوٹ
دشمن وغیرہ کی وجہ سے ہوگئی ہو کہ آگے نہ جا سکے تو جس مقام پر اسے روکا گیا ہے
وہیں قربانی کر کے احرام سے سبکدوش ہوجائے ۔

(3)       
اگر احرام عمرہ کا ہو اور
روکاوٹ بیماری کی ہو تو قربانی مکہ میں بھیج دے اور تاریخ اور وقت مقررہ کر لے کہ
مثلا فلاں روز فلاں وقت مکہ میں میری قربانی کو ذبح یا سخر  کر دینا 
پس یہ مریض  اس وقت  کی انتظار کرے اور وہ وقت گزر جانے کے بعد اپنے
آپ کو احرام سے آزا د سمجھے اور سر وغیرہ منڈوالے۔

(4)        
اگر احرام عمرہ کا اور روکاوٹ
شمن کی وجہ سے ہو تو مقام پر روکاوٹ لاحق ہوئی ہو۔ اسی مقام پر قربانی کر کے احرام
کھول دے جس طرح کہ صلح حدیبیہ کے موقعہ  پر
جناب رسالتماب  نے مقام حدیبیہ پر اپنی
قربانی ذبح کرلی اور صحابہ کو بھی ایسا کرنے کا حکم دیا۔

پس قرآن مجید کے اس حکم کا مطلب واضع ہوگیا کہ سر نہ
منڈواؤ جب تک کہ قربانی اپنی مقام پر نہ پہنچ جائے۔اور یہ  بھی 
معلوم ہوگیا کہ حج کے احرام  میں
قربانی کا مقام منیٰ ہے اور عمرہ کے احرام میں قربانی کا مقام مکّہ  ہے اور یہ دونو صورتیں حصر (بیماری) کی وجہ سے
رُک جانے  والے کےلئے ہیں ورنہ صد (خوف
دشمن) میں حج کا احرام ہو یا عمرہ کا ہو قربانی کا مقام وہی ہےجہاں صد واقع
ہُوا  ہے۔

مسئلہ:۔ اگر کوئی شخص بیماری یا سر میں جوڑوں کے پڑجانے کی وجہ سے سر منڈوانے
کا محتاج ہو اور صبر نہ کر سکتا ہو تو وہ اس صورت میں سر منڈواسکتا ہے لیکن اس پر
کفار لازم ہے اور یہ ہے کہ یاتین دن روزے رکھے یا چھ مسکینوں  کو کھانا کھلائے ۔ بعض روایات میں دس
مسکینوں  کو کھانا کھلانے کا حکم ہے اور یا
ایک بکری ذبح کرے اور تینوں چیزوں میں اس کو اختیار ہے جو چاہے کرے۔

مسئلہ:۔ بیماری یا دشمن وغیرہ کا خوف نہ ہو اور حج کرنے والا صحیح اعمال حج کے
بجا لانے پر موفق ہو۔ تو حج تمتع کرنے والے پر (قربانی) واجب ہے اور اگر قربانی
دستیاب نہ ہو سکے تو اس کے بدلہ میں اس پر دس روزے  واجب ہیں جن میں سے تین روزے وہیں ایّا م حج
میں رکھنے پڑتے ہیں اور ان کا پے درپے رکھنا ضروی ہے مگر ایک صورت میں اور وہ کہ
کہ آٹھویں اور نویں کوروزہ رکھا ہے اور دسویں کو رکھ نہیں سکتا ۔ کیونکہ عید ہے تو
یہ شخص تیسرا روزہ ایّام تشریق کے گزرجانے کے بعد رکھ لے ۔ اس صورت کے علاوہ ان
روزوں میں اگر پے درپے ہونے کی شرط نہ پائی گئی تو باطل ہوجائیں گے اور سات روزے
سفر حج سے واپس اگر گھر پر رکھنے ضروری ہیں لیکن اگر کوئی شخص گھر نہ پلٹے اور
وہاں ٹھہر جائے تو پھر اتنے ایام صبر کرے جتنے گھر تک پہنچنے کےلئے درکار تھے اور
اس کے بعد بقیہ روزے رکھ لے یہ کل دس 10 روزے ہیں جو قربانی  حج تمتع کا بدلہ ہیں۔

مسئلہ:۔ یہ حج تمتع ان لوگوں کا فریضہ ہے جن کی اہِل مسجد الحرام کے
حاضرین  سے نہ ہو حاضرین مسجد الحرام سے
مراد ہے کہ مکّہ سے اڑتالیس میل کے  فاصلہ
کے اندر ہوں ۔ بعض علمائے کرام نے بارہ میل کا قول اختیار فرمیا ہے۔


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *