سورہ فاتحہ کے مقدّم ہونے کی وجہ
سورہ فاتحہ کے مقدّم ہونے کی وجہ
مشہور فرمان جسے علامہ نہاوند ی vنے نقل فرمایا ہے کہ آپ ؑ نے فرمایا کہ تمام آسمانی کتابوں
کا علم قرآن مجید میں ہے اورتمام قرآن کا علم سورہ فاتحہ میں موجود ہے اورجو کچھ
سورہ فاتحہ میں موجود ہے وہ بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم میں ہے اور جوکچھ بسم اللہ
میں ہے وہ بائے بسم اللہ میں ہے اور جو کچھ بائے بسم اللہ میں ہے وہ اس نقطہ میں
ہے جوبا کے نیچے ہے اورمیں وہی نقطہ ہوں-[1]
سورہ فاتحہ کے باقی قرآنی سورتوں پرمقدم ہونے کی یہ بھی ایک وجہ ہے کہ سورہ فاتحہ
کوباقی قرآن کے ساتھ اجمال وتفصیل کی نسبت حاصل ہے یعنی قرآن میں جو کچھ تفصیل کے
ساتھ درج ہے وہ سورہ فاتحہ میں اجمالاً موجودہے-
تسبیح ،تقدیس، تہلیل، تکبیر، شکر و رضا ، جس قدر تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں لفظ
”اَلْحَمْدُ“
ان کا اجمالی خاکہ ہے-
میں جس قدر صفاتِ جلال و کمال ذاتِ احدیت بیان ہوئے ہیں لفظ ”لِلّٰہِ“
ان سب کا اجمال ہے-
تفصیلی ذکر ہے لفظ ”رَبّ“
میں وہ سب کچھ موجودہے-
انبیا ، اولیا ، نیکوں اوربروں بلکہ جمیع مصنوعات کی جس قدر تفصیل ہے وہ لفظ ”اَلعَالَمِین“
میں بندہے –
و اکرام وغیرہ مذکورہیں لفظ ”اَلرَّحْمٰن“
ان سب پر مشتمل ہے –
سب کو شامل ہے –
ہونایہ سب کچھ لفظ”مَالِک“
میں جمع ہیں –
بہشت و درکات وخطرات جہنم، میزان وصراط وغیرہ کے تفصیلی تذکرے ہیں وہ لفظ ”یَوْمِ
الدِّیْن“ میں سمائے ہوئے ہیں-
کا قرآن میں ذکر ہے ”اِیَّاکَ
نَعْبُدُ“ کے اندرموجودہیں-
”اِیَّاکَ
نَسْتَعِیْن“ میں مندرج ہیں –
جہاں ذکرہے ”اِھْدِنَا“
اس کا جامع ہے –
تفصیل ہیں –
کی سنتیں اور سیرتیں، ان کا سبب نجات اور بلندی درجات وغیرہ کی تفصیل اِن الفاظ
میں مختصر ہے –
،اِن گناہوں پر اصراراور اُن پر غضب خداوعذاب کا نزول قرآن میں جتنی تفصیل سے
مذکور ہے وہ ”غَیرِالمَغضُوبِ
عَلَیھِم “ میں سمایا ہوا ہے-
اجمالی عنوان ہے-
تمام قرآنی سورتو ں پر مقدم کیا گیا ہے کیونکہ یہ قرآن کا اجمال ہے اور اجمال
تفصیل سے پہلے ہوا کرتا ہے –
اقول
کلامُ اللہ کا اجمال ہے اسی طرح آیہ کریمہ بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پورے سورہ فاتحہ کی اجمالی
تصویر ہے-
علم ہے اس ذات کا جوواجب ُالوجود اور جامع جمیع صفات ِکمال ہے لہذا اس لفظ میں
جملہ صفات جلال و کمال اور تمام صفات ثبوتیہ وسلبیہ اجمالاً درج ہیں پس
تمجیدوتسبیح وتہلیل وعبادت واستعانت وغیرہ کا سزاوار ہونااسی سے سمجھاجاسکتاہے –
اور دشمنانِ خدا ان سے محروم ہوں گے لہذا قیامت کے حالات، اُخروی انعامات
اورکفارکی بری بازگشت وغیرہ کےلئے لفظ ”اَلرَّحِیم“
کو جامع کیا جاسکتاہے-
ہے کہ ذاتِ ربُّ العزت نے جناب رسالتمآب ﷺپر قرآن مجید کے ساتھ سورہ فاتحہ کا بالخصوص امتنان فرمایا وَ
لَقَد اٰتَینَاکَ سَبعًا مِّنَ المَثَانِی وَالقُراٰنَ العَظِیم ہم نے تجھے سبع مثانی (فاتحہ) اور قرآن عظیم
عطاکیا-[2]
کرنا بھی غالباً اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن مجید میں جوکچھ تفصیل سے بیان
ہواہے سورہ فاتحہ میں وہ اجمالاً درج ہے-
امامت ،قیامت) کے بیان
کوجس طرح متضمن ہے اسی طرح جملہ فروع دین (نماز، روزہ، حج، زکواة ،خمس، جہاد،
تولّی، تبرّی، امر بالمعروف، نہی عن المنکر)کو اجمالاً اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے،
گویا اس سورہ کے ہرہرلفظ میں علوم قرآنیہ ومطالب شرعیہ کے دفترپنہاں ہیں جن کوکما
حقہ سوائے راسخون فی العلم کے اورکوئی نہیں پاسکتا-
مشکلات حضرت امیرالمومنین نے ابن عباس کے سامنے تفسیر بائے بسم اللہ بیان کرنا شروع کی حتی کہ صبح
نمودار ہوگئی-[3]
اونٹ بارہوسکتے ہیں –[4]
جناب رسالتمآب ﷺکے تمام صحابہ کا علم حضرت علی کے علم کے مقابلہ میں اس طرح ہے جس
طرح ایک قطرہ آب سات سمندروں کے مقابلہ میں-
اکثراحادیث بمعہ حوالہ جاتِ کتب اِسی تفسیر کی پہلی جلد یعنی مقدمہ تفسیر میں اصل
عبارتوں کے ساتھ مختلف عناوین کے تحت بیان کردی ہیں –[5]
کہ سورہ فاتحہ کی آیات آپس میں بالکل بے جوڑہیں لہذا اس سے ایک مسلسل مضمون حاصل
نہیں ہوسکتا، حالانکہ چشم بصیرت سے لمحاتِ حقیقت پر نظر ڈالنے سے یہ اَمر روزِ
روشن کی طرح عیاں ہوجاتاہے کہ جو لطافت ِبیان سورہ مجیدہ فاتحہ میں پائی جاتی ہے
اورجس حسنِ انداز سے علوم قرآنیہ کواس مختصرسورہ میں سمو دیا گیا ہے وہ صرف اسی
کلام پاک کا حصہ ہے جو اس کی اعجازی حیثیت کی واضح دلیل ہے، گویا پورے قرآن مجید
کے تفصیلی بیان کے لیے سورہ فاتحہ ایک موضوع کی حیثیت رکھتاہے اورسورہ فاتحہ کے
لئے بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم موضوعِ بیان ہے، تو پس آیت بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پورے قرآن مجید کا موضوع
ٹھہری اورسورہ فاتحہ اس کا ایک سرسری ترجمہ ہے اور ا
ل م سے لے کر والنّاس
تک پورا کلام پاک اِنہی مطالب کا تفصیلی بیان ہے-
اورقرین عقل ہے کہ کتب سماویہ کے تمام علوم قرآن میں ہیں اورقرآن کے تمام علوم
سورہ فاتحہ میں ہیں اورسورہ فاتحہ کے تمام علوم بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم میں ہیں اب رہایہ کہ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کے جمیع علوم بائے
بسم اللہ اوربائے بسم اللہ کے جملہ علوم اُسی نقطہ میں ہیں جوبائے بسم اللہ کے
نیچے ہے تواس میں اشکال تب ہوسکتاہے کہ با سے مراد یہی حرف لیا جائے جوحروفِ تہجی
میں دوسرے نمبر لکھا جاتاہے؟ اورنقظہ سے مراد وہی ظاہری نقطہ لیا جائے جو حرف با
کے ساتھ لازم کی حیثیت رکھتاہے؟ لیکن حضرت امیر المومنین نے اپنے بیان کے اخیرمیں اس خیال کی
تردیدفرمادی ہے کہ نقطہ سے مرادمیں ہوں، تواس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ با سے مراد
باطناً وجودِ ذیجود جناب رسالتمآبﷺ ہے کیونکہ یہ دونوں ایک حقیقت نوری کے دوحصے ہیں (اَنَاوَعَلِیٌّ
مِّنْ نُّورٍوَّاحِدٍ[6]) اب مطلب صاف ہے کہ وہ تمام علوم جوبسم اللہ میں ہیں وہ
جناب رسالتمآبﷺ کے پاس ہیں اوروہ تمام علوم جوجناب رسالتمآبﷺ کے پاس تھے وہ حضرت علی کے پاس ہیں، چنانچہ خود رسالتمآبﷺ کا ارشادہے اَنَامَدِیْنَةُ
العِلْمِ وَعَلِیٌّ باَبُھَا [7] ، عَلِیٌّ
خَازِنُ عِلْمِی[8] ، عَلِیٌّ
وِعَاءُ عِلْمِیْ [9]
بمعہ حوالہ جات کتب اسی تفسیر کی پہلی جلد میں بیان کی جاچکی ہیں-[10]
مسند الفردوس عن جابر بن عبد الله
ج۱ص ۴۴ ، میزان الاعتدال ج ۱ ص ۲۴۹ ، النص و الاجتھاد سید شرف الدین ص ۵۶۸ ، تاریخ دمشق ابن عساکر ج۲ ص ۴۶۴ ، البدایۃ والنھایۃ ج۷ص ۳۵۸ ، مناقب علی بن ابیطالب ابن مغازلی ص۸۱ ، ذخائر العقبی ص ۷۷ ، تذکرۃ الخواص ۴۷ ، ینابیع المودۃ ص۷۲
