surah nasr read online sura an nasr pdf an nasr sharif arabic english urdu
بِسْمِ
اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (1)
اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (1)
إِذَا
جَاء نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (2) وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ
اللَّهِ أَفْوَاجًا (3) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ
تَوَّابًا (4)
جَاء نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (2) وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ
اللَّهِ أَفْوَاجًا (3) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ
تَوَّابًا (4)
اللہ کے نام سے رحمان و رحیم ہے (1)
جب آچکی اللہ کی مدد
اور فتح (2) اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں شامل ہو رہے
ہیں 03) پس اپنے پروردگار کے حمد کی تسبیح کرو اور اس سے بخشش طلب کرو بے شک وہ
رجوع رحمت کرنیوالا (4)
اور فتح (2) اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں شامل ہو رہے
ہیں 03) پس اپنے پروردگار کے حمد کی تسبیح کرو اور اس سے بخشش طلب کرو بے شک وہ
رجوع رحمت کرنیوالا (4)
§ یہ سورہ مدنیہ ہے اور اس کی آیات
بسما للہ کے علاوہ تین ہیں تفسیر برہان میں ہے کہ یہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر نازل
ہوئی جب کہ آپ منیٰ میں تھے پس اس کا شمار مدنی سورتوں میں ہے اور یہ سب سے آخری
سورہ ہے جو سورہ توبہ کے بعد نازل ہوا
بسما للہ کے علاوہ تین ہیں تفسیر برہان میں ہے کہ یہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر نازل
ہوئی جب کہ آپ منیٰ میں تھے پس اس کا شمار مدنی سورتوں میں ہے اور یہ سب سے آخری
سورہ ہے جو سورہ توبہ کے بعد نازل ہوا
§ حدیث نبوی میں ہے جو شکص اس سورہ کو
پڑھے یوں سمجھے گویا فتح مکہ کے وقت وہ حضورؐ کے ہمراہ تھا۔
پڑھے یوں سمجھے گویا فتح مکہ کے وقت وہ حضورؐ کے ہمراہ تھا۔
§ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے
فرمایا جو شخص نماز فریضہ یا نافلہ میں اس سورہ کو پڑھے خداوند کریم اس کی تمام
اعداء کے مقابلہ میں مدد فرمائے گا اور جب محشور ہو گا تو اس کے پاس کتاب ہوگی جو
بولے گی کہ اس شخص کے لئے عذاب جہنم سے امان ہے اور یہ شخص خود اپنے کانوں سے سنے
گا پس جس چیز کے پاس سے گزرے گا اس کو خوشخبری سنائے گی اور داخل جنت ہو گا اور
دنیا میں اس کےلئے امور خیر کے دروازے اس قدر کھلیں گے کہ نہ اس نے کبھی ان کی
تمنا کی ہوگی اور نہ اس کے دل پر ہوں گے
فرمایا جو شخص نماز فریضہ یا نافلہ میں اس سورہ کو پڑھے خداوند کریم اس کی تمام
اعداء کے مقابلہ میں مدد فرمائے گا اور جب محشور ہو گا تو اس کے پاس کتاب ہوگی جو
بولے گی کہ اس شخص کے لئے عذاب جہنم سے امان ہے اور یہ شخص خود اپنے کانوں سے سنے
گا پس جس چیز کے پاس سے گزرے گا اس کو خوشخبری سنائے گی اور داخل جنت ہو گا اور
دنیا میں اس کےلئے امور خیر کے دروازے اس قدر کھلیں گے کہ نہ اس نے کبھی ان کی
تمنا کی ہوگی اور نہ اس کے دل پر ہوں گے
§
حدیث
نبوی میں ہے کہ جو شخص اس سورہ کو نماز میں پڑھے تو اس کی نماز مقبول ہو گی
حدیث
نبوی میں ہے کہ جو شخص اس سورہ کو نماز میں پڑھے تو اس کی نماز مقبول ہو گی
رکوع نمبر 35، ازا
جاء نصراللہ، جب مکہ فتح ہو چکا تو عربوں نے فیصلہ کر لیا کہ
محمد نے اہل حرم کو فتح کر لیا ہے حالانکہ اس کو اصحاب الفیل فتح نہ کر سکے تھے پس
جس اللہ نے محمد ؐ کو فتح مکہ عطا فرمائی اس کا دین حق ہے لہذاس میں شامل ہونا
چاہیے فتح مکہ سے پہلے اکا دکا مسلمان ہوتے تھے لیکن اب فوج در فوج اور قبیلوں کے
قبیلے اسلام کے حلقہ بگوش ہو نے لگ گئے
جاء نصراللہ، جب مکہ فتح ہو چکا تو عربوں نے فیصلہ کر لیا کہ
محمد نے اہل حرم کو فتح کر لیا ہے حالانکہ اس کو اصحاب الفیل فتح نہ کر سکے تھے پس
جس اللہ نے محمد ؐ کو فتح مکہ عطا فرمائی اس کا دین حق ہے لہذاس میں شامل ہونا
چاہیے فتح مکہ سے پہلے اکا دکا مسلمان ہوتے تھے لیکن اب فوج در فوج اور قبیلوں کے
قبیلے اسلام کے حلقہ بگوش ہو نے لگ گئے
فتح مکہ
جب صلح حدیبیہ کی
تحریر مکمل ہو چکی جس کا بیان تفسیر کی جلد 13 ص 61 پر گزر چکا ہے اور اس کی شرائط
میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ عربوں کا جو قبیلہ جس فریق سے ملنا چاہے اس پر کوئی
پابندی نہ ہوگی اور صلحنامہ ی رو سے فریقین میں شامل شدہ قبائل کو کسی فریق کی طرف
سے چھیڑا نہ جائے گا چنانچہ قبیل خزاعہ نے حضرت رسالتماؐ کے ساتھ ملنے کا اعلان کر
دیا اور بنو بکر نے قریشیوں کے ساتھ تعاون کا اعلان کر دیا اور ان دونوں قبیلوں کی
مدتوں سے دشمنی چلی آرہی تھی اس صلح کے بعد بھی اچانک بنو بکر اور بنو خزاعہ میں
فساد اٹھ کھڑا ہوا اور قریشیوں نے کھل کر بنوبکر کی اسلحہ جنگ سے مدد کی اور خفیہ
طور پر فوجی امداد بھی دیتے رہے اور عکرمہ بن ابو جہل اور سہیل بن عمرو بنو
بکر کی امداد میں پیش پیش تھے اس صورت حال کے بعد بنی خزاعہ کا ایک شخص عمرو بن
سالم خزاعی نے مدینہ کا رخ کیا تا کہ آنحضورؐ کو کفار مکہ کی عہد شکنی کی اطلاع دے
اور یہی شخص در حقیقت فتح مکہ کا موجب بنا چنانچہ اس نے مسجد نبوی میں پہنچ کر
اپنی درد بھری داستان سنائی اس کے بعد بدیل بن ورقاء خزاعی بھی آپہنچا اور اس نے
بھی قریش مکہ کی طرف سے ہونے والی عہد شکنی کا ماجرا دھرایا اور اپنے حالیہ
نقصانات کی فہرست پیش کی پس یہ دونوں شخص حضورؐ کو اطلاع دیکر واپس مکہ کی طرف
پلٹے اور حضورؐ نے مکہ پر فوج کشی کا مصمم کر لیا اور آپ نے پیشین گوگئی کے طور پر
فرمادیا کہ عنقریب ابو سفیان تجدید عہد کےلئے ضرور آئے گا اور رستہ میں اس کی
ملاقات بدین و بن ورقاء سے بھی ہو گی ۔
تحریر مکمل ہو چکی جس کا بیان تفسیر کی جلد 13 ص 61 پر گزر چکا ہے اور اس کی شرائط
میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ عربوں کا جو قبیلہ جس فریق سے ملنا چاہے اس پر کوئی
پابندی نہ ہوگی اور صلحنامہ ی رو سے فریقین میں شامل شدہ قبائل کو کسی فریق کی طرف
سے چھیڑا نہ جائے گا چنانچہ قبیل خزاعہ نے حضرت رسالتماؐ کے ساتھ ملنے کا اعلان کر
دیا اور بنو بکر نے قریشیوں کے ساتھ تعاون کا اعلان کر دیا اور ان دونوں قبیلوں کی
مدتوں سے دشمنی چلی آرہی تھی اس صلح کے بعد بھی اچانک بنو بکر اور بنو خزاعہ میں
فساد اٹھ کھڑا ہوا اور قریشیوں نے کھل کر بنوبکر کی اسلحہ جنگ سے مدد کی اور خفیہ
طور پر فوجی امداد بھی دیتے رہے اور عکرمہ بن ابو جہل اور سہیل بن عمرو بنو
بکر کی امداد میں پیش پیش تھے اس صورت حال کے بعد بنی خزاعہ کا ایک شخص عمرو بن
سالم خزاعی نے مدینہ کا رخ کیا تا کہ آنحضورؐ کو کفار مکہ کی عہد شکنی کی اطلاع دے
اور یہی شخص در حقیقت فتح مکہ کا موجب بنا چنانچہ اس نے مسجد نبوی میں پہنچ کر
اپنی درد بھری داستان سنائی اس کے بعد بدیل بن ورقاء خزاعی بھی آپہنچا اور اس نے
بھی قریش مکہ کی طرف سے ہونے والی عہد شکنی کا ماجرا دھرایا اور اپنے حالیہ
نقصانات کی فہرست پیش کی پس یہ دونوں شخص حضورؐ کو اطلاع دیکر واپس مکہ کی طرف
پلٹے اور حضورؐ نے مکہ پر فوج کشی کا مصمم کر لیا اور آپ نے پیشین گوگئی کے طور پر
فرمادیا کہ عنقریب ابو سفیان تجدید عہد کےلئے ضرور آئے گا اور رستہ میں اس کی
ملاقات بدین و بن ورقاء سے بھی ہو گی ۔
قریش مکہ کو چونکہ
اپنی عہد شکنی کا احساس تھا لہذا اپنی عہد شکنی پر پردہ ڈالنے اور انتقام سے بچنے
کے لئے انہوں نے ابو سفیان کو مدینہ کی طرف روانہ کیا تا کہ صلح کے معاہدہ تجدید
کرائی جاسکے اور آنے والے خطرات سے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا جائے چنانچہ بدیل بن
ورقاء خزاعی جب مدینہ سے واپس ہو کر مقام عسفان پر پہنچا تو ادھر سے آتے ہوئے ابو
سفیان سے اس کی ملاقات ہو گئی ۔ ابو سفیان سے پوچھا کہاں آ رہے ہو تو بدیل واب دیا
ساحل بحر پر گھمونے کےلئے گیا تھا اور اب واپس جارہا ہوں ۔ اس نے پوچھا کہ حضرت
محمد کے پاس تو نہیں گئے تھے ؟ بدیل جواب دیا کہ نہیں جب بدیل چلا گیا تو ابو
سفیان نے کہا اگر وہ مدینہ گیا ہو گا تو اس میں ابھی معلوم کرلوں گا کیونکہ اس نے
اپنے اونٹ کو کھجور کی گٹھیاں کھلائی ہوں گی پس بدیل کی ناقہ کی مینگینوں کو مسلا
تو کھجور کی گٹھلی نکلی کہنے لگا یقیناً بدیل مدینہ گیا تھا
اپنی عہد شکنی کا احساس تھا لہذا اپنی عہد شکنی پر پردہ ڈالنے اور انتقام سے بچنے
کے لئے انہوں نے ابو سفیان کو مدینہ کی طرف روانہ کیا تا کہ صلح کے معاہدہ تجدید
کرائی جاسکے اور آنے والے خطرات سے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا جائے چنانچہ بدیل بن
ورقاء خزاعی جب مدینہ سے واپس ہو کر مقام عسفان پر پہنچا تو ادھر سے آتے ہوئے ابو
سفیان سے اس کی ملاقات ہو گئی ۔ ابو سفیان سے پوچھا کہاں آ رہے ہو تو بدیل واب دیا
ساحل بحر پر گھمونے کےلئے گیا تھا اور اب واپس جارہا ہوں ۔ اس نے پوچھا کہ حضرت
محمد کے پاس تو نہیں گئے تھے ؟ بدیل جواب دیا کہ نہیں جب بدیل چلا گیا تو ابو
سفیان نے کہا اگر وہ مدینہ گیا ہو گا تو اس میں ابھی معلوم کرلوں گا کیونکہ اس نے
اپنے اونٹ کو کھجور کی گٹھیاں کھلائی ہوں گی پس بدیل کی ناقہ کی مینگینوں کو مسلا
تو کھجور کی گٹھلی نکلی کہنے لگا یقیناً بدیل مدینہ گیا تھا
اس کے بعد ابوسفیان مدینہ
میں پہنچا اور بارگاہ نبوت میں پہنچ کر عرض گزار ہوا کہ اپنی قوم پر حم کیجئے اور
عہدہ نامہ صلح کی تجدید فرمائیے آپ نے فرمایا کیا تم نے عہد شکنی کی ہے ؟ اس نے
کہا کہ نہیں آپ نے فرمایا ہم تو سابق کئے گئے عہد نامہ کے پابند ہیں وجو وہ حکم
دیں گے ہم اطاعت کریں گے ۔ یہ تجدید عہد ان کا کام ہے ہمارا اس سے کوئی واسطہ نہیں
پھر اپنی بیٹی حرم پیغمبر ام حبیبہ کے پاس گیا اور جاتے ہی حضرت پیغمبر کے بستر پر
بیٹھنے کے ارادہ سے آگے بڑھا تو ام حبیبہ نے فوراً بسترہ لپیٹ کر لگ کر لیا وہ
کہنے لگا بیٹ کیا میں بستر پر بیٹھنے کے لائق نہیں ہوں ؟ تو وہ کہنے لگی ابا جان !
یہ بستر حضرت پیغمبر کا ہے اور تم اس پر بیٹھنے کے قابل نہیں ہو کیونکہ تم
مشرک اور نجس ہو اس کے بعد جناب بتول
معظمہ کے در دولت پر حاضر ہوا تا کہ تجدید
عہد کی سفارش کرائے لیکن بی بی پاک نے بھی انکار کر دیا کہنے لگا کہ حسنین
شریفین کوک سفارش کے لئے جاتا ہوں مخدور طاہرہ نے فرمایا کہ میں ان کو تمہارے ساتھ
نہیں بھیجتی یہ کام میرے ابا جان کا ہے وہ جو حکم دیں ہم اطاعت کریں گے
میں پہنچا اور بارگاہ نبوت میں پہنچ کر عرض گزار ہوا کہ اپنی قوم پر حم کیجئے اور
عہدہ نامہ صلح کی تجدید فرمائیے آپ نے فرمایا کیا تم نے عہد شکنی کی ہے ؟ اس نے
کہا کہ نہیں آپ نے فرمایا ہم تو سابق کئے گئے عہد نامہ کے پابند ہیں وجو وہ حکم
دیں گے ہم اطاعت کریں گے ۔ یہ تجدید عہد ان کا کام ہے ہمارا اس سے کوئی واسطہ نہیں
پھر اپنی بیٹی حرم پیغمبر ام حبیبہ کے پاس گیا اور جاتے ہی حضرت پیغمبر کے بستر پر
بیٹھنے کے ارادہ سے آگے بڑھا تو ام حبیبہ نے فوراً بسترہ لپیٹ کر لگ کر لیا وہ
کہنے لگا بیٹ کیا میں بستر پر بیٹھنے کے لائق نہیں ہوں ؟ تو وہ کہنے لگی ابا جان !
یہ بستر حضرت پیغمبر کا ہے اور تم اس پر بیٹھنے کے قابل نہیں ہو کیونکہ تم
مشرک اور نجس ہو اس کے بعد جناب بتول
معظمہ کے در دولت پر حاضر ہوا تا کہ تجدید
عہد کی سفارش کرائے لیکن بی بی پاک نے بھی انکار کر دیا کہنے لگا کہ حسنین
شریفین کوک سفارش کے لئے جاتا ہوں مخدور طاہرہ نے فرمایا کہ میں ان کو تمہارے ساتھ
نہیں بھیجتی یہ کام میرے ابا جان کا ہے وہ جو حکم دیں ہم اطاعت کریں گے
اس کے بعد وہ حضرت امیر
المومنین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی درخواست کو دھرایا تو
آپ نے فرمایا قوم قریش کے بزرگ ہو ، مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہو جاؤ اور خود کہو کہ
میں نے قریش کو امان دے دی ہے اور
اس کلمہ کے کہنے کبعد واپس چلے جاؤ اس نے عرض کی اس کا کیا فائدہ ہو گا؟ تو آپ نے
فرمایا فائدہ ہو یا نہ ہو اس کے علاوہ کوئی طریقہ کارگر ہو نہیں سکتا کیونکہ کسی
مسلمان میں یہ جرات نہیں کہ رسول اللہ ؐ کے فرمان پر سبقت کر سکیں چنانچہ ابو
سفیان نے مسجد نبوی کے دروازہ پر کھڑے ہو کر کہا میں نے قریش کو امان دے دی
ہے اور اس ک بعد وہ واپس مکہ چلا گیا جب مکہ والوں نے احوال پرسی کی اور اس نے اپنا ماجرا سنایا تو انہوں نے کہا تیرے
کہنے سے ہمیں کیا فائدہ ہو گا تو ابوسفیان
نے جواب دیا اس کے علاوہ اور کوئی صورت ہو نہیں سکتی تھی بہر کیف اس کے بعد حضرت
نبی کریمؐ نے مہ پر چڑھائی کا اعلان کر دیا اور خبر رسانوں اور جاسوسوں پر کڑی
نگرانی کا حکم دیدیا چنانچہ حاطب بن ابی بلتعہ نے جو خط لکھ کر ایک عورت کے حواہ
کیا تھا اور بذریعہ وحی آُ کو اطلاع ہوئی تو حضرت علیؑ کو چند آدمیوں سمیت بھیج
دیا گیا آخر کار تفتیش کے بعد عورت سے خط برآمد ہوا اور حاطب کو سرزنش ہوئی اور اس
کا قصہ سورہ ممتحنہ کی تفسیر میں مرقوم ہو چکا ہے جلد 13 ص 264
المومنین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی درخواست کو دھرایا تو
آپ نے فرمایا قوم قریش کے بزرگ ہو ، مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہو جاؤ اور خود کہو کہ
میں نے قریش کو امان دے دی ہے اور
اس کلمہ کے کہنے کبعد واپس چلے جاؤ اس نے عرض کی اس کا کیا فائدہ ہو گا؟ تو آپ نے
فرمایا فائدہ ہو یا نہ ہو اس کے علاوہ کوئی طریقہ کارگر ہو نہیں سکتا کیونکہ کسی
مسلمان میں یہ جرات نہیں کہ رسول اللہ ؐ کے فرمان پر سبقت کر سکیں چنانچہ ابو
سفیان نے مسجد نبوی کے دروازہ پر کھڑے ہو کر کہا میں نے قریش کو امان دے دی
ہے اور اس ک بعد وہ واپس مکہ چلا گیا جب مکہ والوں نے احوال پرسی کی اور اس نے اپنا ماجرا سنایا تو انہوں نے کہا تیرے
کہنے سے ہمیں کیا فائدہ ہو گا تو ابوسفیان
نے جواب دیا اس کے علاوہ اور کوئی صورت ہو نہیں سکتی تھی بہر کیف اس کے بعد حضرت
نبی کریمؐ نے مہ پر چڑھائی کا اعلان کر دیا اور خبر رسانوں اور جاسوسوں پر کڑی
نگرانی کا حکم دیدیا چنانچہ حاطب بن ابی بلتعہ نے جو خط لکھ کر ایک عورت کے حواہ
کیا تھا اور بذریعہ وحی آُ کو اطلاع ہوئی تو حضرت علیؑ کو چند آدمیوں سمیت بھیج
دیا گیا آخر کار تفتیش کے بعد عورت سے خط برآمد ہوا اور حاطب کو سرزنش ہوئی اور اس
کا قصہ سورہ ممتحنہ کی تفسیر میں مرقوم ہو چکا ہے جلد 13 ص 264
حضرت رسالتمابؐ نے یکم رمضان
یا 8 رمضان 8ھ کو دس ہزار مجاہدین کی فوج ظفر موج کے ساتھ مکہ کی طرف پیش قدمی
فرمائی جن میں چار سو گھوڑے سوار تھے جب آپ مکہ کے قریب پہنچے تو ادھر سے آپ کے
چچا زاد بھائی ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب اور پھوپھی زاد عبداللہ بن امیہ بن
مغیرہ آپ سے راستہ میں آملے تو اپنے ہاں نزوال اجال فرمانے کی پیش کش کی آُ نے ان
کی دعوت کو پائے استحقار سے ٹھکرا دیا کیونکہ یہ دونوں شخص مکہ میں کھل کر
حضورؐ کے خلاف زبان درازی کرتے تھے جب آپ
کے چچا زاد کو حضورؐ کی ناراضگی کی اطلاع پہنچی تو اس کے ہمراہ اس کا لڑکا بھی تھا کہنے لگا
اگر حضورؐ مجھے بہریابی کا شرف نہ بخشیں گے تو میں اپنے بچے کو ساتھ لے کر جنگلوں
کی طرف رخ کر لوں گا اور بھوکا و پیاسا مرجاؤں گا جب حضور کو اطلاع پہنچی تو رحم و
کرم کا مظاہرہ فرماتے ہوئے آپ نے باپ بیٹے دونوں کو اجازت دیدی چنانچہ دونوں
بارگاہ نبوی میں پہنچ کر مشرف بہ اسلام ہوئے ۔
یا 8 رمضان 8ھ کو دس ہزار مجاہدین کی فوج ظفر موج کے ساتھ مکہ کی طرف پیش قدمی
فرمائی جن میں چار سو گھوڑے سوار تھے جب آپ مکہ کے قریب پہنچے تو ادھر سے آپ کے
چچا زاد بھائی ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب اور پھوپھی زاد عبداللہ بن امیہ بن
مغیرہ آپ سے راستہ میں آملے تو اپنے ہاں نزوال اجال فرمانے کی پیش کش کی آُ نے ان
کی دعوت کو پائے استحقار سے ٹھکرا دیا کیونکہ یہ دونوں شخص مکہ میں کھل کر
حضورؐ کے خلاف زبان درازی کرتے تھے جب آپ
کے چچا زاد کو حضورؐ کی ناراضگی کی اطلاع پہنچی تو اس کے ہمراہ اس کا لڑکا بھی تھا کہنے لگا
اگر حضورؐ مجھے بہریابی کا شرف نہ بخشیں گے تو میں اپنے بچے کو ساتھ لے کر جنگلوں
کی طرف رخ کر لوں گا اور بھوکا و پیاسا مرجاؤں گا جب حضور کو اطلاع پہنچی تو رحم و
کرم کا مظاہرہ فرماتے ہوئے آپ نے باپ بیٹے دونوں کو اجازت دیدی چنانچہ دونوں
بارگاہ نبوی میں پہنچ کر مشرف بہ اسلام ہوئے ۔
آپ مقام مرالظہران پر پہنچے
تو اس وقت تک قریش مکہ کو صحیح حالات کا کوئی علم نہ تھا اور یہ معلوم تھا کہ
اسلامی فوج کہاں تک پہنچ چکی ہے چنانچہ اسی رات کو ابو سفیان بن حرب ، حکیم بن
حزام اور بدیل بن ورقاء حالات حاضرکا جائزہ لینے کے لئے مکہ سے باہر نکلے
اور عباس بن عبدالمطلب نے رسول ؐاللہ کے خچر پر سوار ہر کر اس طرف کا رخ کیا جہاں
پیلو کے درختوں کا جھنڈ تھا شاید کوئی دودھفروش یا ایندھن طلب کرنیوالا یا کوئی
دوسرا شخص مکہ کی طرف آتا ہوا مل گیا تو پوچھ لیا جائے کہ اسلام فوج کا کیمپ کہاں
نصب ہے تا کہ وہاں پہنچ کر امان حاصل کر لیا جائے چنانچہ ان جاھڑیوں میں سرداں پھر
رہا تھا کہ اچانک ابو سفیان ، حکیم بن حرام اور بدیل بن ورقاء کی آوازیں کان پر
پڑیں تاریکی شب میں اگر نظر کچھ نہ آتا تھا تاہم ابو سفیان کی آواز کو پہنچا
کر عباس نے کہا ابو حنظلہ ہو تو اس نے کہا تم ابو الفضل ہو پس ایک دوسرے سے ملے تو
ابو سفیان نے کہا کوئی نئی خبر ہو تو بتائیے عباس نے کہا دس ہزار کا اسلامی لشکر
حضرت محمدؐ مکہ کے قریب پہنچ چکے ہیں اور تم میں طاقت نہیں کہ اس کا مقابلہ کر
سکو تو ابو سفیان نے کہا اب کیا کرنا
چاہیے عباس نے کہا میرے پیچھے سوار ہو جاؤ تا کہ وہاض جا کر حضورؐ سے امان نامہ
حاصل کیا جائے ورنہ تجھے تو دیکھتے ہی موت کے گھاٹ اتار دیں گے پس ابو سفیان عباس
کے پیچھے سوار ہو گیا اور نبوی خیام کا رخ کیا سب سے پہلے عمر بن خطاب کے خیمہ کے
پاس سے گزرے تو اس نے دیکھ کر کہا اے ابو سفیان ! اللہ کا شکر ہے کہ امان و عہد سے
پہلے پہلے ہمیں تیری گردن زدنی کا موقعہ ملا ہے جب اس نے یہ آواز سنی تو خچر کو
تیز دوڑایا تا کہ مبادا امان حاصل کرنے سے پہلے مارا جاؤں چنانچہ عمر کے پہنچنے سے
پہلے خیمہ نبوی میں داخل ہو گیا
تو اس وقت تک قریش مکہ کو صحیح حالات کا کوئی علم نہ تھا اور یہ معلوم تھا کہ
اسلامی فوج کہاں تک پہنچ چکی ہے چنانچہ اسی رات کو ابو سفیان بن حرب ، حکیم بن
حزام اور بدیل بن ورقاء حالات حاضرکا جائزہ لینے کے لئے مکہ سے باہر نکلے
اور عباس بن عبدالمطلب نے رسول ؐاللہ کے خچر پر سوار ہر کر اس طرف کا رخ کیا جہاں
پیلو کے درختوں کا جھنڈ تھا شاید کوئی دودھفروش یا ایندھن طلب کرنیوالا یا کوئی
دوسرا شخص مکہ کی طرف آتا ہوا مل گیا تو پوچھ لیا جائے کہ اسلام فوج کا کیمپ کہاں
نصب ہے تا کہ وہاں پہنچ کر امان حاصل کر لیا جائے چنانچہ ان جاھڑیوں میں سرداں پھر
رہا تھا کہ اچانک ابو سفیان ، حکیم بن حرام اور بدیل بن ورقاء کی آوازیں کان پر
پڑیں تاریکی شب میں اگر نظر کچھ نہ آتا تھا تاہم ابو سفیان کی آواز کو پہنچا
کر عباس نے کہا ابو حنظلہ ہو تو اس نے کہا تم ابو الفضل ہو پس ایک دوسرے سے ملے تو
ابو سفیان نے کہا کوئی نئی خبر ہو تو بتائیے عباس نے کہا دس ہزار کا اسلامی لشکر
حضرت محمدؐ مکہ کے قریب پہنچ چکے ہیں اور تم میں طاقت نہیں کہ اس کا مقابلہ کر
سکو تو ابو سفیان نے کہا اب کیا کرنا
چاہیے عباس نے کہا میرے پیچھے سوار ہو جاؤ تا کہ وہاض جا کر حضورؐ سے امان نامہ
حاصل کیا جائے ورنہ تجھے تو دیکھتے ہی موت کے گھاٹ اتار دیں گے پس ابو سفیان عباس
کے پیچھے سوار ہو گیا اور نبوی خیام کا رخ کیا سب سے پہلے عمر بن خطاب کے خیمہ کے
پاس سے گزرے تو اس نے دیکھ کر کہا اے ابو سفیان ! اللہ کا شکر ہے کہ امان و عہد سے
پہلے پہلے ہمیں تیری گردن زدنی کا موقعہ ملا ہے جب اس نے یہ آواز سنی تو خچر کو
تیز دوڑایا تا کہ مبادا امان حاصل کرنے سے پہلے مارا جاؤں چنانچہ عمر کے پہنچنے سے
پہلے خیمہ نبوی میں داخل ہو گیا
پس عمر بن خطان نے پہنچتے ہی
عرض کی یا رسولؐ اللہ ! یہ ابو سفیان دشمن خدا حاضر ہے اور عہد و عقد کے بغیر خدا
نے ہمیں اس پر تسلط عطا کیا ہے لہذا ازن دیجئے تا کہ اس کا سر قلم کر لوں عباس
کہتا ہے میں نے کہا یا رسولؐ اللہ میں نے اس کو امان دی ہے لہذاس کے قتل کا حکم نہ
دیجئے ۔ جب عمر نے ابو سفیان کے قتل کا اصرار کیا تو میں نے کہا اے عمر ! یہ ضد
چھوڑ دو وہ بنی عبد مناف میں سے ہے اس لئے اس کے قتل کے در پے ہو ورنہ اگر وہ نبی
عدی سے وہتا تو تم ضرور معاف کر دیتے عمر نے کہا اے عباس یہ باتیں نہیں کرنی چاہیں
تم بخدا جس دن اسلام لائے تھے مجھے تیرا اسلام لانا اپنے باپ خطاب کے اسلام لانے
سے بھی محبوب تر تھا اس کے بعد حضرت رسالتمابؐ نے فرمایا جاؤ ہم نے ان کو امان دے
دی ہے لہذاس کو میرے پاس دوبارہ لے آنا
عرض کی یا رسولؐ اللہ ! یہ ابو سفیان دشمن خدا حاضر ہے اور عہد و عقد کے بغیر خدا
نے ہمیں اس پر تسلط عطا کیا ہے لہذا ازن دیجئے تا کہ اس کا سر قلم کر لوں عباس
کہتا ہے میں نے کہا یا رسولؐ اللہ میں نے اس کو امان دی ہے لہذاس کے قتل کا حکم نہ
دیجئے ۔ جب عمر نے ابو سفیان کے قتل کا اصرار کیا تو میں نے کہا اے عمر ! یہ ضد
چھوڑ دو وہ بنی عبد مناف میں سے ہے اس لئے اس کے قتل کے در پے ہو ورنہ اگر وہ نبی
عدی سے وہتا تو تم ضرور معاف کر دیتے عمر نے کہا اے عباس یہ باتیں نہیں کرنی چاہیں
تم بخدا جس دن اسلام لائے تھے مجھے تیرا اسلام لانا اپنے باپ خطاب کے اسلام لانے
سے بھی محبوب تر تھا اس کے بعد حضرت رسالتمابؐ نے فرمایا جاؤ ہم نے ان کو امان دے
دی ہے لہذاس کو میرے پاس دوبارہ لے آنا
عباس کہتا ہے کہ میں صبح
سویرے ابو سفیان کو ساتھ لے کر خدمت نبوی میں پہنچا آپ نے فرمایا اے ابو سفیان !
ابھی تک تکم کو خدا کے ایک ہونے کا یقین نہیں ہوا تو ابو سفیان نے جواب دیا کہ
تیرا حلم رحم کرم اور صلہ رحمی کا ملاحظہ کر تے ہوئے یوم بد اور یوم احد میں سمجھ
لیا تھا گر خدا کے علاوہ کوئی دوسرا الہ ہوتا تو ضرور ہماری امدا کرتا آپ نے
فرمایا پھر ابھی تک مجھے اللہ کا رسول ماننے میں تمہیں کیون تامل ہے کہنے لگا کہ
میرے دل کو اب تک کوئی تسلی نہیں ہوئی یہ سنتے ہی عباس نے جھڑک کر کہا تیرے اوپر
دائے ہر کلمہ حق فوراً زبان پر جاری کرو ورنہ تمہاری گردن اڑا دی جائے گی پس اس نے
فوراً کلمہ شہادتین زبان پر جاری کیا
سویرے ابو سفیان کو ساتھ لے کر خدمت نبوی میں پہنچا آپ نے فرمایا اے ابو سفیان !
ابھی تک تکم کو خدا کے ایک ہونے کا یقین نہیں ہوا تو ابو سفیان نے جواب دیا کہ
تیرا حلم رحم کرم اور صلہ رحمی کا ملاحظہ کر تے ہوئے یوم بد اور یوم احد میں سمجھ
لیا تھا گر خدا کے علاوہ کوئی دوسرا الہ ہوتا تو ضرور ہماری امدا کرتا آپ نے
فرمایا پھر ابھی تک مجھے اللہ کا رسول ماننے میں تمہیں کیون تامل ہے کہنے لگا کہ
میرے دل کو اب تک کوئی تسلی نہیں ہوئی یہ سنتے ہی عباس نے جھڑک کر کہا تیرے اوپر
دائے ہر کلمہ حق فوراً زبان پر جاری کرو ورنہ تمہاری گردن اڑا دی جائے گی پس اس نے
فوراً کلمہ شہادتین زبان پر جاری کیا
حضورؐ نے عباس سے فرمایا کہ
وادی کے تنگ مقام پر ھاکر اس کو کھڑا کر دو تا کہ خدائی مجاہد فوج کی تعداد اپنی
آنکھوں سے دیکھ لے چنانچہ عباس نے ان کو ایک تنگ موڑ پر روک دیا اور فوجیں گزرنا
شروع ہوئی پس عباس بتاتا رہا کہ یہ فلاں قبیلہ ہے وہ فلاں قبیلہ تھا یہاں تک
کہ حضرت رسالتمابؐ مہاجرین و انصار کے ایک عظیم دستے کے ہمراہ گذرے تو میں نے کہا
کہ یہ رسولؐاللہ کا خصوصی پاسبان دستہ ہے جن میں کوئی بزدل نہیں ہے اور ان سب کا
لباس(وردی) سبز رنگ تھی پس ابو سفیان کہنے لگا اے عباس! تیرے بھتیجے کی حکومت بہت
مضبوط اور وسیع ہے تو عباس نے یہ نبوت کا کرشمہ ہے ملک گیر کی ہوس نہیں ہے اس کے
بعد حکیم بن حرام اور بدیل بن ورقا نے اسلام کا کلمہ پڑھا تو آپ نے ان دونوں کو
آگے آگے چلنے کا حکم دیا اور فرمایا تم اہل مکہ کو اسلام کی دعوت دیتے چلو اور یہ
بھی اعلان کردو کہ جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اس کو بھی امان ہے
اور جو شخص حکیم بن حزام کے گھر میں داخل ہو جائے وہ بھی مامون ہو گا اور
ابو سفیان کا گھر پہاڑی کے اوپر تھا اور حکیم کا گھر نیچے تھا اور اعلان کر دیا کہ
جوشخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرے یا ہاتھ باندھ کر ان کو بلند کرے اس کے لئے بھی
امان ہو گی ان کے عقب میں آپ نے زبیر کو بھیجا اور مہاجرین کا اس کو امیر قرار دے
دیا تا کہ مکہ کے بالائی حصہ میں مقام حجون علم اسلام کو نصب اور فرمایا تم خود
وہاں رہنا جب تک کہ میں پہنچ نہ جاؤن پس آپ مکہ میں داخل ہوئے اور ایک خیمہ نصب کی
گیا جس میں آپ نے آرام فرمایا پس سعد بن عبادہ کو انصار کا علم سپرد فرمایا اور
خالد بن ولید کو بنی قضاعہ و بنی سلیم کی سر کردگی عطا کی اور حکم دیا کہ مکہ کے
زیریں حصہ سے داخل شہرہوں اور گھروں سے دور علم اسلام کا نصب کرلیں اور سب مجاہدین
کو حکم دیا کہ قتل و غارت و خونریزی سے گریز کریں صرف اس آدمی سے لڑیں جو ان سے
لڑنے کا ارادہ کرے البتہ چار ماردوں اور دو عورتوں کے قتل کا حکم دیا جہاں بھی ہوں
حتی کہ استار کعبہ سے اگر چمٹے ہوئے ہوں تب بھی ان کو قتل کر دیا جائے (1) عبد اللہ
بن سعد اب سرح (2) حویرث بن نفیل (3) ابن اخطل (4) مقبس بن صبا بہ اور دو گانے
والی عورتیں وہ جو حضرت رسول کریمؐ کی ہجو کے شعر پڑھا کرتی تھیں حضرت علی
نے حویرث اور ایک گانے والی کو قتل کیا جب کہ دوسری بھاگی گئی مقبس بن ضبانہ بازار
میں مارا گیا اور ابن اخطل کو سعید بن حریث نے قتل کیا جب کہ وہ استار کعبہ سے
لپٹا ہوا تھا
وادی کے تنگ مقام پر ھاکر اس کو کھڑا کر دو تا کہ خدائی مجاہد فوج کی تعداد اپنی
آنکھوں سے دیکھ لے چنانچہ عباس نے ان کو ایک تنگ موڑ پر روک دیا اور فوجیں گزرنا
شروع ہوئی پس عباس بتاتا رہا کہ یہ فلاں قبیلہ ہے وہ فلاں قبیلہ تھا یہاں تک
کہ حضرت رسالتمابؐ مہاجرین و انصار کے ایک عظیم دستے کے ہمراہ گذرے تو میں نے کہا
کہ یہ رسولؐاللہ کا خصوصی پاسبان دستہ ہے جن میں کوئی بزدل نہیں ہے اور ان سب کا
لباس(وردی) سبز رنگ تھی پس ابو سفیان کہنے لگا اے عباس! تیرے بھتیجے کی حکومت بہت
مضبوط اور وسیع ہے تو عباس نے یہ نبوت کا کرشمہ ہے ملک گیر کی ہوس نہیں ہے اس کے
بعد حکیم بن حرام اور بدیل بن ورقا نے اسلام کا کلمہ پڑھا تو آپ نے ان دونوں کو
آگے آگے چلنے کا حکم دیا اور فرمایا تم اہل مکہ کو اسلام کی دعوت دیتے چلو اور یہ
بھی اعلان کردو کہ جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اس کو بھی امان ہے
اور جو شخص حکیم بن حزام کے گھر میں داخل ہو جائے وہ بھی مامون ہو گا اور
ابو سفیان کا گھر پہاڑی کے اوپر تھا اور حکیم کا گھر نیچے تھا اور اعلان کر دیا کہ
جوشخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرے یا ہاتھ باندھ کر ان کو بلند کرے اس کے لئے بھی
امان ہو گی ان کے عقب میں آپ نے زبیر کو بھیجا اور مہاجرین کا اس کو امیر قرار دے
دیا تا کہ مکہ کے بالائی حصہ میں مقام حجون علم اسلام کو نصب اور فرمایا تم خود
وہاں رہنا جب تک کہ میں پہنچ نہ جاؤن پس آپ مکہ میں داخل ہوئے اور ایک خیمہ نصب کی
گیا جس میں آپ نے آرام فرمایا پس سعد بن عبادہ کو انصار کا علم سپرد فرمایا اور
خالد بن ولید کو بنی قضاعہ و بنی سلیم کی سر کردگی عطا کی اور حکم دیا کہ مکہ کے
زیریں حصہ سے داخل شہرہوں اور گھروں سے دور علم اسلام کا نصب کرلیں اور سب مجاہدین
کو حکم دیا کہ قتل و غارت و خونریزی سے گریز کریں صرف اس آدمی سے لڑیں جو ان سے
لڑنے کا ارادہ کرے البتہ چار ماردوں اور دو عورتوں کے قتل کا حکم دیا جہاں بھی ہوں
حتی کہ استار کعبہ سے اگر چمٹے ہوئے ہوں تب بھی ان کو قتل کر دیا جائے (1) عبد اللہ
بن سعد اب سرح (2) حویرث بن نفیل (3) ابن اخطل (4) مقبس بن صبا بہ اور دو گانے
والی عورتیں وہ جو حضرت رسول کریمؐ کی ہجو کے شعر پڑھا کرتی تھیں حضرت علی
نے حویرث اور ایک گانے والی کو قتل کیا جب کہ دوسری بھاگی گئی مقبس بن ضبانہ بازار
میں مارا گیا اور ابن اخطل کو سعید بن حریث نے قتل کیا جب کہ وہ استار کعبہ سے
لپٹا ہوا تھا
ابو سفیان نے بھاگ کر حضرت
رسول کریم کی رکاب کا بوسہ دیا اور عرض کی کہ سعد ایسے رجزیہ اشعار پڑھ رہا ہے جن
سے قتل و غارت کی بو آتی ہے تو آپ نے فوراً علیؑ کو بھیجا تک سعد سے علم لے لیا
جائے اور حکم دیا کہ تم خود لے کر داخل مکہ ہو جاؤ اور نرمی و آشتی کے ساتھ داخل
ہو پس حضرت علیؑ نے تعمیل حکم نبوی میں سر تسلیم خم کر لیا اور حکم پیغمبر کو بجا
لانے کی سعادت حاصل
رسول کریم کی رکاب کا بوسہ دیا اور عرض کی کہ سعد ایسے رجزیہ اشعار پڑھ رہا ہے جن
سے قتل و غارت کی بو آتی ہے تو آپ نے فوراً علیؑ کو بھیجا تک سعد سے علم لے لیا
جائے اور حکم دیا کہ تم خود لے کر داخل مکہ ہو جاؤ اور نرمی و آشتی کے ساتھ داخل
ہو پس حضرت علیؑ نے تعمیل حکم نبوی میں سر تسلیم خم کر لیا اور حکم پیغمبر کو بجا
لانے کی سعادت حاصل
جب حضورؐ مکہ میں داخل ہوئے
تو تمام صنادید یعنی اکابر قریش کعبہ کے اندر گھر گئے اور نہیں یقین تھا کہ آج ہم
اسلام کی تلوار سے جانبر نہ ہو سکیں گے پس حضورؐ مسجد الحرام میں داخل ہوئے
اور کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو گئے ایک مختصر سا خطبہ پڑھا
تو تمام صنادید یعنی اکابر قریش کعبہ کے اندر گھر گئے اور نہیں یقین تھا کہ آج ہم
اسلام کی تلوار سے جانبر نہ ہو سکیں گے پس حضورؐ مسجد الحرام میں داخل ہوئے
اور کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو گئے ایک مختصر سا خطبہ پڑھا
جس میں اللہ کا شکر ادا کیا
اور فرمایا کہ کعبہ کی دربانی اور حاجیوں کو پانی پلانا یہ دونوں عہد سے حسب سابق
برقرار رہیں گے اور اسی خاندان میں رہیں گے جن پہلے چلے آ رہے ہیں اور یاد رکھو
مکہ اللہ کا حرم ہے نہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال تھا اور نہ میرے لئے سوائے اس
ایک گھنٹہ کے اور نہ میرے بعد تا قیامت کسی کے لئے حلال ہو گا یہ یہاں گھاس کاٹا
جائے نہ درخت کٹے گا نہ کسی پرندہ کو شکار کیا جائے نہ ڈرایا جائے گا اورنہ یہاں
کا کم و بیشم لقطر کسی کے لئے حلال ہو گا البتہ مالک تک پہنچانے کے لئے اس کا
اٹھانا جائز ہوگا اس کے بعد فرمایا اے مکہ والو! تم بد ترین ہمسائے تھے تم
نے ہمیں جھٹلایا ، جلاد وطن کیا اور اس قدر ستایا کہ مجھے یہاں سے نکل جانے
کے بعد آرام سے نہ بیٹھنے دیا ان تمام باتوں کے باوجود میں نے تم کو معاف کیا ہے
پس تم طلقاء ہو پس یہ کہنا تھا کہ قریش مکہ کی جان میں جان آئی یوں لگتا تھا کہ
ابھی قبروں سے نکلے ہیں پس سب کے سب داخل اسلام ہئوے اسی وجہ سے ان کو طلقاء کہا جاتا
ہے ابن الزبعری بھی اسی دن مسلمان ہوا اس
وقت کعبہ کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت تھے پس آپ جارالحق الآیۃ بھی پڑھتے تھے اور
لاٹھی سے گراتے جاتے تھے اور کعبہ کے اندر داخل نہ ہوئے جب تک بتوں سے اس کو پاک
نہ کر لیا گیا اور حضرت ابراہیم و اسماعیل کے مجمسموں کو بھی کعبہ سے باہر نکال
دیا گیا فتح مکہ کا مختصر سا ذکر تفسیر کی جلد 13 ص 84 پر بھی مذکور
ہے ۔
اور فرمایا کہ کعبہ کی دربانی اور حاجیوں کو پانی پلانا یہ دونوں عہد سے حسب سابق
برقرار رہیں گے اور اسی خاندان میں رہیں گے جن پہلے چلے آ رہے ہیں اور یاد رکھو
مکہ اللہ کا حرم ہے نہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال تھا اور نہ میرے لئے سوائے اس
ایک گھنٹہ کے اور نہ میرے بعد تا قیامت کسی کے لئے حلال ہو گا یہ یہاں گھاس کاٹا
جائے نہ درخت کٹے گا نہ کسی پرندہ کو شکار کیا جائے نہ ڈرایا جائے گا اورنہ یہاں
کا کم و بیشم لقطر کسی کے لئے حلال ہو گا البتہ مالک تک پہنچانے کے لئے اس کا
اٹھانا جائز ہوگا اس کے بعد فرمایا اے مکہ والو! تم بد ترین ہمسائے تھے تم
نے ہمیں جھٹلایا ، جلاد وطن کیا اور اس قدر ستایا کہ مجھے یہاں سے نکل جانے
کے بعد آرام سے نہ بیٹھنے دیا ان تمام باتوں کے باوجود میں نے تم کو معاف کیا ہے
پس تم طلقاء ہو پس یہ کہنا تھا کہ قریش مکہ کی جان میں جان آئی یوں لگتا تھا کہ
ابھی قبروں سے نکلے ہیں پس سب کے سب داخل اسلام ہئوے اسی وجہ سے ان کو طلقاء کہا جاتا
ہے ابن الزبعری بھی اسی دن مسلمان ہوا اس
وقت کعبہ کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت تھے پس آپ جارالحق الآیۃ بھی پڑھتے تھے اور
لاٹھی سے گراتے جاتے تھے اور کعبہ کے اندر داخل نہ ہوئے جب تک بتوں سے اس کو پاک
نہ کر لیا گیا اور حضرت ابراہیم و اسماعیل کے مجمسموں کو بھی کعبہ سے باہر نکال
دیا گیا فتح مکہ کا مختصر سا ذکر تفسیر کی جلد 13 ص 84 پر بھی مذکور
ہے ۔
surah nasr benefits، surah nasr in urdu, surah nasr translation in urdu, surah 109
surah nasr for kids, surah lahab, first and last revelation of quran, which surah was revealed all at once, which one is the last ayat of quran, which surah was first revealed, in which surah bismillah is repeated twice, surah nasr benefits in hindi, to whom was suratul nasr revealed, surah nasr tafseer in urdu pdf, surah nasr benefits in urdu, surenasr, help surah,last 3 surahs of quran transliteration,
surah lahab equran, surah nas equraninstitute, surah maun equran, surah nasr ki fazilat, surah an nasr diturunkan dimana, سورۃ النصر کی تفسیر


Leave a Reply