anwarulnajaf.com

مستحقین ذکواۃ کے اوصاف

 مستحقین ذکواۃ کے اوصاف:۔   آیت مجیدہ میں اگر چہ یہ
پابندی نہیں کہ مستحقین کی شمار کردہ  آٹھ
صفتوں کے علاوہ کسی اور قید یا مفت کا اعتبار کرنا بھی ضروری ہے لیکن چونکہ یہ
خداوندی عطیہ ہے لہذا اس کی حدوں کا تعین ضروری ہے مخلوق خدا ہونے میں تو سب انسان
یکساں ہیں لیکن بعض کے اموال میں سے دوسرے بعض کا حق مقرر کرنا اگر کسی استحقاق
معنوی کی بنا ء پرنہ ہوبلکہ صرف ظاہری فقروفاقہ کوہی معیار قرار دیا جائے توایک
ناقابل فہم مسئلہ بن جاتا ہے اور استحقاق معنوی ہے ایمان جیساکہ آئمہ طاہرین علیہم
السلام کے فرامین بھی اسی بات پر شاہد ہیں

(1)     
صحیح برید عجلی :۔ کہ میں نے امام جعفر صادق
علیہ السلام سے ایک شخص کے متعلق سوال کیا کہ اس نے ولاآل محمدّ میں داخل ہونے سے
پہلے حج کیا تھا کیا وہ درست ہے تو آپ نے سلسلہءکلام کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ
اس کے سُنی زمانہ کے باقی تمام اعمال ٹھیک ہوں گے سوائے ذکواۃ کے پس ذکواۃ اس کو
دوبارہ اداکرنی بڑے گی جو اس نے اصل مستحقین کو نہیں دی تھی کیونکہ وہ صرف دلاءآل
محمد رکھنے والوں کے لئے ہی ہے۔

(2)      
روایت ابولصبیر:۔ کہ اس  نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت
کیا گیا اگر ایک شخص کے رشتہدار محتاج ہوں لیکن شیہ نہ تو کیا ان کو ذکواۃ دی جا
سکتی ہے آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ اگر ان کو دینا ہو تو ذکواۃ کے مال کے علاوہ
اپنی گرہ سے دے ذکواۃ کو اپنے مال کی آڑنہ بنائے

(3)      
ایک روایت میں امام رضا علیہ
السلام سے منقول ہے کہ میں اپنے والد بزرگوارے سُنا جبکہ میں بیٹھا تھا اور ایک
شخص حاضر  مذمت ہوا۔پس اُس نے عرض کی کہ
حضور میں اہل دے سے ہوں اور میرے اس ذکواۃ ہے۔ فرائیے کس کو دوں تو آپ نے
فرمایاہمیں دے دیجئیے اس نے عرض کی کہ حضور ! صدقہ تو آپ پر حرام ہے آپ نے فرمایا
جب تو ہمارے شعیوں کو دے گا توگویا  تُونے
ہمیں دی ۔ اس نے عرض  کی مجھے وہ نہیں مل
سکتے تو آپ نے فرمایا ۔ایک سال تک انتظار کرو۔ اس نے عرض کی اگر پھر بھی نہ ملیں
آپ نے فرمایا دو سال تک انتظار کرو وحئی ٰ کہ چا ر سال تک انتظار کا حکم دیا اور
اگر پھر بھی نہ مل سکے تو ان کو تھیلیوں میں بند کرکے دریامیں پھینک دو کیونکہ خدا
وند کریم نے ہمارے اور ہمارے شیعوں کے مال ہمارے دشمنوں پر حرام کئے ہیں ( حدائق)

دوسری شرط:۔  بعض علماء نے فرمایا ہے کہ مستحق
ذکواۃ وہ ہے جس عدالت پائی جائے او بعض نے صرف گناہاں کبیرہ کے ترک کو شرط قراردیا
ہے اور روایت میں صرف شرابی کو ذکواۃ نہ دینا واردہے بیرکیف ذکواۃ ادا کرنے والا
اپنی جانب سے کوشش کرے کہ ایسی جگہ اس کا پیسہ جائے جہاں زیادہ سے زیادہ  بہتر موزوں جگہ پر صرف کیا جا سکے۔

تیسری شرط :۔ ذکواۃ اس کودی جا سکتی ہے جو ذکواۃ دینے والے کے واجب الفقہ افرادمیں سے نہ ہو
پس ذوجہ و اولاد پر ذکواۃ نہیں صرف کی جاسکتی اور اسی طرح اولاد کی ذکواۃ ماں باپ
پر بھی نہیں صرف ہوسکتی ۔

مسئلہ:۔ متعہ والی عورت کو ذکواۃ دی جا سکتی ہے کیونکہ وہ واجب الفقہ نہیں
ہوتی۔

مسئلہ:۔ ذوجہ پر اگر ذکواۃ واجب ہو اور شوہر مستحق ہو تو وہ اپنے شوہر کو
ذکواۃ دے سکتی ہے۔

مسئلہ:۔ جن رشتہ داروں کی واجب الفقہ ہونے کے علاوہ کفالت وتربیت کرتا ہو ان
کو ذکواٰۃ دے سکتا ہے۔

چوتھی شرط :۔  غیر سیدکی ذکواۃ سید نہیں لے سکتا
اور سید کی ذکواۃ سید غیرسید لے سکتے ہیں۔


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *