surah al kawthar read online sura al kawthar pdf al kawthar sharif arabic english urdu
surah al kawthar read online sura al kawthar pdf al kawthar sharif arabic english urdu
سورة الكوثر (108) — al-Kauthar–Abundance–الْکُوْثَرِ–
الرَّحِيمِ(1)
الْكَوْثَرَ (2) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (3) إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ
الْأَبْتَرُ (4)
(3) تحقیق تیرا دشمن دم برید ہے (4)
اختلاف ہے اس کا وزن ہے فوعل اور کثرت سے مشتق ہے اور اس کا معنی خیر کثیر
ہے لیکن اس جگہ وہ کونسی خبر کثیر ہے جو مراد لی گئی ہے (1) بعض نے کہا ہے
کہ جنت کی نہر کا نام کوثر ہے چنانچہ اس سورہ کے نزول کے بعد لوگوں نے دریافت کیا اور حضورؐ نے بتایا کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے جس کا پانی دودھ سے سفید تر ہے اور اس کے کناروں پر یاقوت اور موتیوں کے کمرے ہیں اور اس کے شان نزول میں مروی ہے کہ حضور کا فرزند عبدا للہ نامی جو جانب خدیجہ کے بطن اطہر سے تھا فوت ہو گیا تو لوگ آپ کو ابتر کے نام سے پکارتے تھے کیونکہ بے اولاد کو وہ ابتر کہا کرتے تھے پس جب یہ سورہ نازل ہوا تو آپ نے فرمایا کہ خداوند کریم نے مجھے بیٹے کے بدلے میں نہر جنت کوثر عطا فرمائی۔
فرمائے اور علی کا جوامع العلم عطا کیا (2) مجھے اللہ نے نبوت دی علی کو وصی بنایا
(3) مجھے اللہ نے کوثر دیا علی کو سلسبیل عطا کیا (4) مجھے وحی عطا کی علی کو
اہلام دیا (5) مجھے آسمانوں کی سیر کرائی اور علؑی کےئے آسمانوں اور حجابوں کے
دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ مجھے دیکھتے رہے اور میں اسے دیکھتا رہا اس کے بعد
حضورؐ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے میں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے اے ابن عباس سب سے پہلے جو اللہ نے مجھ سے کلام کیا تو فرمایا اے محمؐد نیچے نگاہ کرو جب میں نے
نیچے دیکھا تو حضات پھٹ چکے تھے اور آسمانوں کے دروازے کھل چکے تھے اور علیؑ کو
میں دیکھا تو وہ سر اٹھا کر میرے طرف دیکھ رہے تھے پس میں نے علؑی سے باتیں بھی
کیں۔ابن عباس سے دریافت کیا کہ اللہ نے کیا کلام فرمایا تو حضورؐ نے جواب دیااللہ نے فرمایا اے محمدؐ میں علیؑ کو تیرا وصی وزیر اور خلیفہ مقرر کیا ہے اس کو بتا دیان حالانکہ وہ ابھی سن رہا ہے پس میں نے علی سے اسی وقت کہہ دیا جب کہ میں بارگاہ ربوبیت میں تھا اور علیؑ نے اسی وقت جواب دیا کہ میں یہ عہدہ قبول کر لیا اور اطاعت کر لی پس اسی وقت اللہ نے ملائکہ کو حکم دیا کہ علی پر سلام کرو چنانچہ تمام ملائکہ نے علیؑ کو
دوسرے کو بھی یہ خوشخبری سنا رہے تھے اس کے بعد جو میں ملائکہ کے پاس سے گزرا تو تمام نے مجھے علیؑ کے ولی عہد کی مبارک باد دی اور کہنے لگے کہ ہمیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو برحق نبی بنایا تمام لائکہ علیؑ کی خلاف سے خوشنود ہوئے ہیں ہیں اور میں دیکھا کہ حاملین عرش کی گردنیں زمین کی طرف جھک گئی تھیں تو جبرئیل نے کہا اس سے پہلے باقی تمام ملائکہ نے خوشی خوشی علیؑ کے چہرہ کی زیارت کر لی تھی ۔ حاملین عرش کو اب اجازت ملی ہے پس وہ اب علیؑ کے چہرہ کی زیارت کرنے کےلئے گردنیں جھکائے ہوئے ہیں آُ نے فاتے ہیں جب میں زمین پر اترا تو میں علیؑ کو قصہ سنا رہا تھا اور وہ مجھے معراج کی سرگزشت سنا رہے تھے پس میں جان گیا کہ میں نے جہاں جہاں قدم رکھا ہے علیؑ وہاں وہاں دیکھتے رہے کیونکہ ان کے لئے حجابات اٹھالئے گئے تھے۔ ابن عباس نے عرض کی کہ آپ مجھے کوئی وصیت فرمائیں تو آپ نے فرمایا میں تجھے علی کی محبت کی وصیت کرتا ہوں اور مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھے برحق نبی بنایا ہے خدا کسی عبد کی نیکی قبول نہیں کرے گا جب تک اس کے دامن میں علیؑ کی ولا نہ ہو گی پس اگر کسی کے پاس علیؑ کی ولا ہو گی تو عمل قبول ہو گا وہرنہ کوئی علم قابل قبول نہ ہو گا اور داخل جہنم ہو گا اور مجھے اس ذات کی قسم جن مجھے نبی بنایا ہے جن لوگوں نے خدا کےلئے اولاد تجویز کی ہے دوزخ کی آگ ان سے بھی زیادہ علیؑ کے دشمنوں کو مقام غضب قرار دے گی ۔ اے ابن عباس یہ ہو نہیں سکتا لیکن اگر بفرض محال ملائکہ اور انبیاء کے دلوں میں بھی علیؑ کے حق میں بغض پیدا ہو جائے تو وہ بھی دوزخ میں جائیں گے ابن عباس کہا ہے میں نے عرض کی کیا کوئی شخص علیؑ سے بغض بھی رکھتا ہے آپ نے فرمایا ہاں وہ میری امت کے بعض لوگ جن کا درحقیقت اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔ وہ علیؑ سے بغض رکھیں گے اور ان کے بغض کی نشانی یہ ہے کہ گھٹیا قسم کے لوگوں کو علیؑ سے غض رکھیں گے اور ان کے بغض کی نشانی یہ ہے کہ گھٹیا قسم کے لوگوں کو علیؑ پر فضیلت دیں گے اور مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھے برحق نبی بنایا ہے کہ اللہ نے مجھ سے بہتر کوئی نبی نہیں پیدا کیا اور علؑی سے بہتر کوئی وصی نہیں بنایا پس ابن عباس کہتا ہے کہ میں نے رسولؐ اللہ کے فرمان پر پورا عمل کیا۔ جب بوقت وفات میں حضورؐ کے پاس پہنچا تو آُ پ نے فرمایا اے ابن عباس علی کے مخالف بن کر رہنا اور اس کا مدد گار نہ بننا میں عرض کی حضورؐ ! آپ لوگوں کو یہ حکم کیوں نہیں دیتے تو آپ رو دئیے اور بہت دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا اگر تو اللہ کی رضا چاہتا ہے تو علی کے طریقہ کو نہ چھوڑنا پس ادھر کو رٗخ کرو جدھر کا رخ علی کرے اور اسی کو اپنا امام مانو پس اس کے دشمن کو دشمن سمجھو اور اس کے دوست کو دوست سمجھو ایک شخص نے امام محمد باقر علیہ السلام سے جوامع الکلم کا معنی دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اس سے قرآن مجید مراد ہے ۔
میں خصال سے مروی ہے حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نبی کریم کے
ہمراہ اپنی عترت سمیت حوض کوثر پر ہوں گا پس جس کو ہماری ضرور ہو وہ ہماری ہدایت پر عمل کرے ہمیں شفاعت کا حق حاصل ہے پس تم لوگ حوض کوثر پر ہماری ملاقات کی کوشش کرو کیونکہ ہم اپنے دشمنوں کو وہاں سے دور بھگائیں گے اور اپنے دوستوں کو سیراب کریں گے تو جس نے وہاں سے ایک گھونٹ پی لیا کبھی پیاسا نہ ہو گا (الخبر) نہر جنت کے علاوہ کوثر کے اور معانی بھی کیے گئے ہیں (2) خیر کیر ، شفاعت ، علم ، عمل کتاب ، شرف دارین ، ذریت طیبہ ، کثرت اتباع، بہر کیف ہر معنی کے اعتبار سے آپ کوثر کے مالک ہیں کثر ذریت کا یہ عالم ہے کہ مشرق سے ؐغرب تک اور شمال سے جونب تک جس قدر انسانی آبادی موجود ہے ذریت پیغمبر کم و بیش ہر جگہ آباد ہے ۔
فصل لربک ۔ اس نماز سے نراد نماز عید ہے جس کے بعد نحر کیا جاتا ہے اور
پیشین گئی ہے کثرت اولاد اور کثرت اشیاع کی چنانچہ دین اسلام کا چہاردانگ عالم میں
پھیلاؤ حضورؐ کی تصدیق ہے اور قرآن کی صداقت کی اٹل دلیل ہے (3) تمام فصحا ء عرب اور بلغاء زمانہ پورے قرآن کا بجائے خود اسی ایک سورہ کا مقابلہ نہ کر سکے چنانچہ عکاظ کے میلے کے موقعہ پر کسی مسلمان نے یہ سورہ ایک نمایاں مقام پر چسپاں کر دیا تو فصیح ترین خطیب وقت کو اس کے نیچے لکھنا پڑا ما ھذاکلام البشر یعنی یہ انسان کا کا کلام نہیں ہے اور یہ اسلام کی حقانیت کی ناقابل تردید برہان ہے (4) اس سورہ کی آخری آیت میں دشمنوں کے انقطاع کی پیشین گوئی ہے جو حرف بہ حرف سچی ثابت ہوئی (5) اس سورہ مجیدہ کے حرف تھوڑے لفظ جچے تلے اور مطالب وسعہ کر ساتھ فواصل کی رعایت حسن تالیف اور صنعت تقابل نے عربوں کو محمد مصطفٰی کے قدموں میں جھکنے پر مجبور کر دیا اور ان کو یہ کہنا پڑا کہ قرآن کلام اللہ ہے اور محمد رسولؐ اللہ ہے

