surah kafirun read online sura al kaafiroon pdf al kaafiroon sharif arabic english urdu
سورة الكافرون — (109) — al-Kafirun The Unbelievers —
الْکٰفِرُوْنَ—
بِسْمِ
اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (1)
اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (1)
قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ (2) لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ
(3) وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (4) وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا
عَبَدتُّمْ (5) وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (6) لَكُمْ دِينُكُمْ
وَلِيَ دِينِ (7(
(3) وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (4) وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا
عَبَدتُّمْ (5) وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (6) لَكُمْ دِينُكُمْ
وَلِيَ دِينِ (7(
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ( شروع
کرتا ہوں )
کرتا ہوں )
کہہ دیجئے اے کافرو! (2) میں پوجتا اس کو جس کو
تم پوجتے ہو اور نہ تم (3) پوجنے والے ہو
جس میں میں پوجتا ہوں (4) اور نہ پوجنے والا ہوں اس کو جس کی تم پوجا کرتے ہو (5)
اور نہ تم پوجنے والے ہو جس کی میں پوجا کرتا ہوں (6) پس تمہارے لئے تمہارا دین
اور میرے لئے میرا دین(7)
تم پوجتے ہو اور نہ تم (3) پوجنے والے ہو
جس میں میں پوجتا ہوں (4) اور نہ پوجنے والا ہوں اس کو جس کی تم پوجا کرتے ہو (5)
اور نہ تم پوجنے والے ہو جس کی میں پوجا کرتا ہوں (6) پس تمہارے لئے تمہارا دین
اور میرے لئے میرا دین(7)
سورہ الکافرون
o یہ سورہ مکیہ سورہ
الماعون کے بعد نازل ہوا اس کی سورہ حجر بھی کہتے ہیں
الماعون کے بعد نازل ہوا اس کی سورہ حجر بھی کہتے ہیں
o اس کی آیات کی تعداد
بسم اللہ الرحمن الرحیم کے علاوہ چھ ہے
بسم اللہ الرحمن الرحیم کے علاوہ چھ ہے
o حدیث نبوی میں ہے جو
شخص اس سورہ کو پڑھے گا گویا اس نے ایک چوتھائی
شخص اس سورہ کو پڑھے گا گویا اس نے ایک چوتھائی
o قرآن پڑھ لیا اس سے
سرکش شیطان دور ہوں گے اور وہ شرک سے بری ہو گا اور بروز محشر بڑی گھبراہٹ سے
محفوظ رہے گا
سرکش شیطان دور ہوں گے اور وہ شرک سے بری ہو گا اور بروز محشر بڑی گھبراہٹ سے
محفوظ رہے گا
o آپ نے فرمایا سفر میں
کامیابی اور خیرو خوابی دیکھنے کے لئے بوقت روانگی پانچ سوروں کو پڑ لینا چاہیے
سورہ کافرون، سورہ النصر، سورہ توحید، سورہ فلق اور سورہ ناس۔
کامیابی اور خیرو خوابی دیکھنے کے لئے بوقت روانگی پانچ سوروں کو پڑ لینا چاہیے
سورہ کافرون، سورہ النصر، سورہ توحید، سورہ فلق اور سورہ ناس۔
o حضرت امام جعفر صادق
علیہ السلام سے مروی ہے کہ اس سورہ کو ختم کرنے کے بعد تین مرتبہ کہے دینی الاسلام
علیہ السلام سے مروی ہے کہ اس سورہ کو ختم کرنے کے بعد تین مرتبہ کہے دینی الاسلام
o ایک حدیث میں ہے جو
شخص فریضہ نماز میں سورہ کافرون اور سورہ اخلاص کو پڑھے تو اس کے اور اس کے والدین
کے اور اس کی اولاد کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اگر وہ شقی ہو تو اس کا نام
دیوان اشقیاء سے کاٹ کر دیوان سعداء میں درج کیا جاتا ہے اس کے بعد اس کی زندگی ہو
گی اور مرے گا تو شہید مرے گا اور بروز محشر شہید اٹھے گا۔
شخص فریضہ نماز میں سورہ کافرون اور سورہ اخلاص کو پڑھے تو اس کے اور اس کے والدین
کے اور اس کی اولاد کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اگر وہ شقی ہو تو اس کا نام
دیوان اشقیاء سے کاٹ کر دیوان سعداء میں درج کیا جاتا ہے اس کے بعد اس کی زندگی ہو
گی اور مرے گا تو شہید مرے گا اور بروز محشر شہید اٹھے گا۔
o وسائل الشیعہ سے
منقول ہے کہ امام جعفر صادق علیہ نے ابن سنان سے فرمایا کہ صبح کی نماز میں جو
سورہ چاہو پڑھولیکن میں پسند کرتا ہوں کہ سورہ حجر اور سورہ اخلاس کو پڑھوں اور اس
مضمون کی روایات بکثرت وارد ہیں اور آُپ سے منقول ہے سات نمازوں میں ان دو سورتوں کو ترک نہ کیا
جائے (1) دو رکعت قبل فجر (2) دو رکعت زوال کے وقت (3) دو رکعت بعد مغرب (4) دو
رکعت اول نماز شب (5) دو رکعت احرام (6) دو رکعت نماز فجر (7) اور دو رکعت نماز
طواف۔
منقول ہے کہ امام جعفر صادق علیہ نے ابن سنان سے فرمایا کہ صبح کی نماز میں جو
سورہ چاہو پڑھولیکن میں پسند کرتا ہوں کہ سورہ حجر اور سورہ اخلاس کو پڑھوں اور اس
مضمون کی روایات بکثرت وارد ہیں اور آُپ سے منقول ہے سات نمازوں میں ان دو سورتوں کو ترک نہ کیا
جائے (1) دو رکعت قبل فجر (2) دو رکعت زوال کے وقت (3) دو رکعت بعد مغرب (4) دو
رکعت اول نماز شب (5) دو رکعت احرام (6) دو رکعت نماز فجر (7) اور دو رکعت نماز
طواف۔
o خواص القرآن سے منقول
ہے کہ سونے سے پہلے اس سورہ کا پڑھا حفاظت کا موجب ہے نیز وارد ہے کہ طلوع شمس کے
کے وقت اس سورہ کو دس مرتبہ پڑھ کر جو دعا مانگی جائے مستجاب ہوگی
ہے کہ سونے سے پہلے اس سورہ کا پڑھا حفاظت کا موجب ہے نیز وارد ہے کہ طلوع شمس کے
کے وقت اس سورہ کو دس مرتبہ پڑھ کر جو دعا مانگی جائے مستجاب ہوگی
رکوع نمبر
34۔ یاایھاالکفرون۔ ایک دفعہ اکابر قریش عاص بن وال ولید بن مغیرہ
اور امیہ بن خلف وغیرہ حضورؐ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے کہ ہم آ پ سے مصالحت
کنا چاہتے ہیں اور وہ اس طرح کہ ایک سال آپ ہمارے خداؤں کی عبادت کریں اور ایک سال
ہم تیرے خدا کی عبادت کریں پس اگر تیرا دین درست ہو تو ہم بھی اس میں شریک ہوں گے
اور اگر ہمارا دین درست ہو تو آپ بھی ہمارے ساتھ برابر کے شریک ہوں گے پس اس
طریقہ سے ہماری باہمی دشمنی بھی ختم ہو جائے گی اور نت نئے فسادات سے بھی جان بچ
جائے گی پس یہ آیات نازل ہوئی تو آپ نے کفار کی بھری مجلس میں پہنچ کر ان کو سنا
دیں جس کو سنتے ہی کفار غصہ سے تلملا اٹھے اور حضور و صحابہ کے لئے پہلے کی بہ
نسبت زیادہ درپے ایذاء ہو گئے
34۔ یاایھاالکفرون۔ ایک دفعہ اکابر قریش عاص بن وال ولید بن مغیرہ
اور امیہ بن خلف وغیرہ حضورؐ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے کہ ہم آ پ سے مصالحت
کنا چاہتے ہیں اور وہ اس طرح کہ ایک سال آپ ہمارے خداؤں کی عبادت کریں اور ایک سال
ہم تیرے خدا کی عبادت کریں پس اگر تیرا دین درست ہو تو ہم بھی اس میں شریک ہوں گے
اور اگر ہمارا دین درست ہو تو آپ بھی ہمارے ساتھ برابر کے شریک ہوں گے پس اس
طریقہ سے ہماری باہمی دشمنی بھی ختم ہو جائے گی اور نت نئے فسادات سے بھی جان بچ
جائے گی پس یہ آیات نازل ہوئی تو آپ نے کفار کی بھری مجلس میں پہنچ کر ان کو سنا
دیں جس کو سنتے ہی کفار غصہ سے تلملا اٹھے اور حضور و صحابہ کے لئے پہلے کی بہ
نسبت زیادہ درپے ایذاء ہو گئے
آیتوں کے
تکرار کی وہ یہ بیان کی گئی ہے کہ کافروں نے اپنا نظریہ تکرار سے پیش کیا تھا لہذا
جواب میں بھی تکرار نازل ہوا اور یہ بھی کہا گیا کہے کہ کفار کے انکار شدید
کے جواب میں تاکید و مزید کےلئے کیا گیا ہے تا کہ ان کو پانی غلط فہمی کا پورا
احساس ہو جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پہلی آیتوں میں ماضی و حال کی نفی ہے یعنی
نہ میں فی الحال تہمارے معبودوں کی عبادت کو قبول کرتا ہوں اور نہ تم فی الحال
میرے معبود برحق کی عبادت کو قبول کرتے ہو اور آخری آیتوں میں مستقبل کی نفی ہے کہ
نہ میں کبھی تمہارے معبودوں کے سامنے جھکوں گا اور نہ تم میرے خدائے واحد کی جانب
جھکو گے گویا اس میں اس طرح کی پیشین گوئی بھی ہے جو حرف بہ حرف صحیح ثابت
ہوئی۔
تکرار کی وہ یہ بیان کی گئی ہے کہ کافروں نے اپنا نظریہ تکرار سے پیش کیا تھا لہذا
جواب میں بھی تکرار نازل ہوا اور یہ بھی کہا گیا کہے کہ کفار کے انکار شدید
کے جواب میں تاکید و مزید کےلئے کیا گیا ہے تا کہ ان کو پانی غلط فہمی کا پورا
احساس ہو جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پہلی آیتوں میں ماضی و حال کی نفی ہے یعنی
نہ میں فی الحال تہمارے معبودوں کی عبادت کو قبول کرتا ہوں اور نہ تم فی الحال
میرے معبود برحق کی عبادت کو قبول کرتے ہو اور آخری آیتوں میں مستقبل کی نفی ہے کہ
نہ میں کبھی تمہارے معبودوں کے سامنے جھکوں گا اور نہ تم میرے خدائے واحد کی جانب
جھکو گے گویا اس میں اس طرح کی پیشین گوئی بھی ہے جو حرف بہ حرف صحیح ثابت
ہوئی۔
لکم دینکم ۔
یعنی تمہارے دین کی جزا تمہارے لئے اور میرے دین کی جزا میرے لئے
ہے گویا مضاف محذوف ہے۔
یعنی تمہارے دین کی جزا تمہارے لئے اور میرے دین کی جزا میرے لئے
ہے گویا مضاف محذوف ہے۔
جزاء دینکم
اور جزاء دینی ۔ اور ممکن ہ ے کہ دین کا معنی جزا ہو اور معنی یہ ہو کہ
تمہارے لئے تمہارا بدلہ اورمیرے لئے میرا بدلہ ہو گا۔
اور جزاء دینی ۔ اور ممکن ہ ے کہ دین کا معنی جزا ہو اور معنی یہ ہو کہ
تمہارے لئے تمہارا بدلہ اورمیرے لئے میرا بدلہ ہو گا۔


Leave a Reply