ابراہیم بن حسین ؑ
فرزند شہید ہوئے جن میں سے ایک کا نام ابراہیم تھا۔
یہ شخص کو فہ کا رہنے والاہے اس کو صحابیت رسول کا شرف بھی حاصل ہے، حضرت امیر ؑ کے خاص شیعوں میں تھا، جنگ جمل وصفین میں حضرت شاہِ ولایت کے ہمرکاب رہا۔۔ اس کی ایک آنکھ جنگ جمل میں دشمن کے تیر سے ختم ہوگئی تھی اوردوسری آنکھ جنگ صفین میں راہ ِخدامیں…
یہ واقعہ اکثر کتب سیرمیں مذکورہے آقا شیخ ذبیح محلاتی نے ’’فرسان الہیجا‘‘ میں اس کو بروایت ابن الحدید سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن زبیر نے مکہ میں خطبہ پڑھا اوراس میں حضرت امیرالمومنین ؑ پر سبّ کیا؟ جب محمد بن حنفیہ کے کانو ں میں یہ خبر…
جب مشکور نے شہزادوں کو زندان سے باہر بھیجاتو ابن زیاد نے مشکور کو بلوایا اور دریافت کیا کہ فرزندانِ مسلم کہاں ہیں؟ مشکور نے جواب دیا میں نے ان کو خوشنودی خدا کی خاطر آزاد کردیا ہے، ابن زیاد نے پوچھا تجھے میرا ڈر نہ تھا؟ تو مشکور نے جواب دیا میرے لیے اللہ…
اس نے اما م حسین ؑکی کنیزکو تازیانے مارے تھے۔۔۔ اس کوتازیانے مارمار کرفی النار کردیا گیا۔
سرچشمۂ ظلم واستبداد۔۔ سگِ وادیٔ کفروالحاد۔۔ عبیداللہ بن زیاد کی کثیر التعداد فوجیں جب عرصہ کارزارِ کربلامیں جمع ہوئی تھیں اورگھوڑوں کی ٹاپیں۔۔ ڈھول وطبل کی تھاپیں۔۔ تلواروں کے چمکار۔۔نیزوں کے لسکار۔۔ تیروتفنگ کے جھنکار اورلوگوں کی چیخ وپکارکے درمیان شجاعانِ عرصہ کارزار کی للکار کا دل ہلادینے والاسماں یہ تاثردے رہاتھا کہ اس ہائو…
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر سلام وارد ہے، جہاں تک تاریخی حقائق سے نقاب کشائی کے بعد نتیجہ نکلتاہے وہ یہ ہے کہ حضرت امیرالمومنین ؑ کے تین فرزند تھے جن کا نام نامی محمد تھا: ایک محمد اکبر جس کو محمد بن حنفیہ کہا جاتاہے دوسرا محمد اصغر جس کی ماں ایک امّ…