انجامِ بخت نصر
ایک شہر تعمیر کیا اور حضرت دانیال ؑ پیغمبر کو ایک کنواں کھدوا کر اس میں ڈال
دیااور ایک عرصہ تک ان کو وہاں محبوس رکھا بیت المقدس کے نبی کو وحی ہو ئی کہ بابل
کے فلاں کنویں میں دانیال ؑ کو آب و غذا پہنچاﺅ پس وہ نبی آیا اور
کنواں کے کنارہ سے جھانک کر سلام کر کے آواز دی حضرت دانیال ؑ نے جواب میں لبیک
کہا اس نبی نے کہا کہ خدا وند کریم نے بعد سلام کے تجھے آب و طعام بھیجا ہے اس کو
قبول کیجیے او ر اس کو کنویں میں لٹکا یا حضرت دانیال ؑ نے خدا وند کریم کا شکریہ
ادا کیا بایں الفاظ:
نہیں بھلایا
دعا کو ردّ نہیں فرماتا
خود کافی ہو تا ہے
سے دیتا ہے
عطا فرماتا ہے
دفع بھی فرماتا ہے
جانے کے بعد اسی کی ذات پر بھروسہ باقی رہ جاتا ہے
بدظن ہو جائیں تو اس کی رحمت کی امید دل میں ہوتی ہے
کرنے والے اپنے غیر کے حوالہ نہیں کرتا بلکہ خود اس کا کفیل ہوتا ہے
ہے کاپاﺅں پیتل کے اور سینہ سونے کا ہے، فوراً نجومیوں کوبلا کر پوچھا کہ بتاﺅ میں نے کیا دیکھا ہے؟ وہ کہنے لگے بادشاہ !آپ خواب بیان فرمائیں تب ہم اس
کی تعبیر بیان کریں گے ورنہ ہمیں کیا معلوم کہ آپ نے کیا دیکھا ہے؟ بخت نصر کہنے
لگا کہ میں تم کو تنخواہیں حرام کی دیتاہوں! جب تم اتنی سی بات بھی نہیں بتا سکتے؟
پس فوراً ان سب کو قتل کروادیا۔
سکے گا جو کنویں کی تاریکی میں مدت سے زندگی کے دن گزار رہا ہے؟ پس حضرت دانیال ؑ
کو حاضر کیا گیا بخت نصر نے اپنا سوال پیش کیا حضرت دانیال ؑ نے اس کو خواب کا سب
ماجرا سنایا اور اس کی تعبیر بتائی کہ بس اب تیر املک زائل ہے اور تو تین دن تک
قتل ہو جائے گا اور تیرا قاتل ایرانی باشندہ ہو گا، یہ سنتے ہی بخت نصر نے شہر کے
ہر دروازہ پر سخت پہرہ بٹھا دیا اور حکم دیا کہ جو بھی اس طرف آئے اس کو قتل کر دو
اور حضرت دانیال ؑ کو اپنے پاس رکھا کہ اگر تین روز گزر گئے اور میں قتل نہ ہوا تو
تجھے قتل کردوں گا تیسرے دن جب شام ہوئی تو بخت نصر کو پریشانی اور غم لاحق ہوا
اور اسی پریشانی کے عالم میں گھر سے باہرنکلا اس کا غلام جو اس کے بچے کی خدمت
کرتا تھا اس کے سامنے آیا اور وہ غلام ایرانی تھا لیکن بخت نصر کو اس کی خبر نہ تھی
پس بخت نصر نے اس کو تلوار دی اور حکم دیا کہ تیرے سامنے جو بھی آئے اس کو قتل کر
دے خواہ میں ہی کیوں نہ ہوں غلام نے تلوار لے کر اسی جگہ بخت نصر کو اسی تلوار سے
ڈھیر کر دیا۔
