سعد مولیٰ عمرو بن خالد صیداوی
مسہر صیداوی نے امام ؑ پیغام پہنچایا تو یہ شخص اپنے آقا عمرو اور دیگر ہمراہیوں
کے ہمراہ امام ؑ کے ساتھ جا ملا اور روز عاشور شہید ہوا۔
غالباً حبیب بن مظا ہر کا بھائی ہے، رجز پڑھتے ہوئے فوج اشقیأ پر حملہ آور ہوا اورستّر ملاعین کوتہ ِتیغ کرکے شہید ہوا۔
یہ بزرگوار قبیلہ ہمدان سے تھے۔۔ کوفہ میں سکونت پذیر تھے۔۔ حضرت سید الشہدأ کے بزرگ ترین صحابہ میں سے ان کا شمار ہوتا ہے، عبادت گزاروں۔۔پرہیزگاروں اور زُھّاد میں سے آپ صف اوّ ل میں تھے۔۔۔ ان کو سیدالقرأ کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔۔۔۔ نیز حضرت امیر ؑ کے حواریّین اور اشراف کوفہ…
عبدالرحمن بن عروہ اور اس کا بھائی عبداللہ بن عروہ نہایت شجاع بارعب اور ہردلعزیز تھے، ان کا باپ حضرت امیر ؑ کے صحابہ میں سے تھا اور جنگ جمل صفین اور نہروان میں حضرت علی ؑ کے ہمرکاب تھا، یہ دونوں بھائی خدمت امام ؑ میں اس وقت پہنچے جب آپ ؑ کربلا میں…
یہ شخص کو فہ کا رہنے والاہے اس کو صحابیت رسول کا شرف بھی حاصل ہے، حضرت امیر ؑ کے خاص شیعوں میں تھا، جنگ جمل وصفین میں حضرت شاہِ ولایت کے ہمرکاب رہا۔۔ اس کی ایک آنکھ جنگ جمل میں دشمن کے تیر سے ختم ہوگئی تھی اوردوسری آنکھ جنگ صفین میں راہ ِخدامیں…
ان کا مفصل ذکر فرزندانِ مسلم کی شہادت کے بیان میں گذر چکا ہے۔
زیارت ناحیہ مقدسہ اورزیارت رجبیہ میں اس پرسلام وارد ہے اوراس کے قاتل پرلعنت بھی وارد ہے، عبدالرحمن بن عقیل نے روز عاشورجہاد کیا اورسترہ ملاعین کوفی النار کیا، عثمان بن خالد جہنی اوربشربن خوط ہمدانی کے ہاتھوں درجہ شہادت پر فائز ہوا، جب مختارؒ نے خروج کیا توعبداللہ بن کامل کوحکم دیا کہ عبدالرحمن…