نصرانیت اور انجیل
پاس ہیں اور انہی پر ان کی تبلیغ کا انحصار ہے:
جو ۸۳ ء میں یابقولے یا بقولے ۰۵ء و ۰۶ء کے درمیان لکھی گئی، کہتے ہیں کہ اس کی
اصل عبرانی زبان میں تھی جس کا ترجمہ یو نانی و دیگر زبانوں میں گیا گیا نسخہ اصل
کا کسی کو پتہ نہیں اورنہ یہ معلوم ہے کہ ترجمہ کس نے کیا تھا؟
ہے یہ خود حواریین میں سے نہ تھا بلکہ یہ بطرس کا شاگرد تھا اور اس کے حکم سے اس
نے ۱۶ء میں یہ کتاب لکھی۔
ہے نہ یہ حواری تھا اور نہ حضرت عیسیٰؑ کا صحابی تھا بلکہ دین عیسائی اس نے بولس
سے سیکھا تھا بولس پہلے ایک متعصب قسم کا یہودی تھا کہتے ہیں یہ مرض صرع میں مبتلا
ہوا تو عالم بے ہوشی میں حضرت مسیحؑ نے اس کو عیسائیت کی مخالفت پر ملامت کی پس وہ
مسیح پر ایمان لایا اور پھر تبلیغ پر بھی مسیح کی طرف سے مامورہوا اور موجودہ
عیسائیت کا پر چار اسی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ:
عیسیٰؑ پر ایمان لانا کافی ہے اور عمل کی کوئی ضرورت نہیں
اس نے حلال کئے
ور اس نے انجیل مرقس کی انجیل کے بعد لکھی جبکہ بطرس اور بولس مرچکے تھے۔
ہے اور یہ حضرت عیسیٰؑ کے محبوب ترین حواری زبدی صیاد کا بیٹا تھا کہتے ہیںکہ
ایشیا و دیگر اطراف کے تمام پادری ۶۹ء میں یوحنا کے پاس جمع ہوئے اور اس سے ایک
نئی انجیل کے لکھنے کی انہوں نے خواہش کی اور کہا کہ اس نئی انجیل میں ایسی چیزوں
کا اضافہ ضروری ہے جس سے پہلی انجیلیں خالی ہیں، چنانچہ اس نے ان کے امتثال امر
میں ایک نئی انجیل کی تصنیف کی اور بعض کہتے ہیں کہ یہ یوحنا کی تصنیف نہیں بلکہ
یہ مدرسہ اسکندریہ کے ایک طالب علم نے لکھی تھی اور بعض کہتے ہیں کہ دوسری صدی
عیسوی کے اوائل میں یہ کتاب لکھی گئی تھی اور اس کو مقبول عام کرنے کےلئے اسے
یوحنا ی طرف منسوب کیا گیا تھا۔
ان کا مرجع متی ، مرقس ، لوقا ، یوحنا ، بطرس اور بولس ہیں اور ان سب سے قدیم تر
جس کو ان سب کا مرجع قرار دیا جا سکتا ہے وہ انجیل متی ہے لیکن وہ بھی ایک ترجمہ
ہے جس کی اصل مفقود ہے پس یہ بنیاد ہے شرق و غرب میں پھیلے ہوئے مذہب عیسائیت کی؟
لیکن نہ معلوم تحریف کے زبردست ہاتھوں نے اسے کہاں سے کہاں تک پہنچا دیا؟ اور بایں
ہمہ قرآن صرف ایک انجیل کے متعلق تصدیق کرتا ہے اور اس قدر قرآن مجید سے معلوم
ہوتا ہے کہ عیسائیوں کے ہاتھوں میں موجودہ انجیل بعض بعض جگہ احکام حقہ پر بھی
مشتمل ہے جیسا کہ ان کو تصدیق رسالت کےلئے اپنی کتاب کی طرف رجوع کرنے کا حکم سے
ظاہر ہوتا ہے (ملخّص از میزان)
