شب معراج کی باتیں
مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ
اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ
وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر 284) اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا ٓاُنْزِلَ
اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہ وَالْمُوْمِنُوْنَ
کُلّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓئِکَتِہ وَکُتُبِہ وَرُسُلِہ قف لا نُفَرِّقُ
بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ
(285)
زمینوں میں ہے اور خواہ تم ظاہر کرو وہ جو تمہارے دل میں ہے یا اس کو چھپاﺅ اس کا حساب تم سے لے گا پھر وہ بخشے جسے چاہے اور عذاب دے جسے چاہے اور
اللہ ہر چیز پر قادر ہےo ایمان لایا رسول ساتھ اس کے جو نازل کیا گیا اس پر
اپنے ربّ سے اور مومنین (بھی) سب ایمان لائے اللہ پر اور اس کے فرشتے اور کتابوں
اور رسولوں پر (اور وہ کہتے ہیں) کہ فرق نہیں کرتے ہم (بلحاظ ایمان) درمیان کسی
ایک کے اس کے پیغمبروں میں سے اور انہوں نے کہا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی تیری
بخشش چاہیے اے ہمارے پروردگار اور تیری طرف ہی بازگشت ہےo
قبل کے ساتھ ربط کی وجوہات میں سے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ چونکہ خدا نے اس سورہ
مجیدہ میں فروعی احکام بیان فرمائے ہیں تو اب سورہ کو ذکر توحید اور وعظ و نصیحت
اور اقرار جزا وسزا پر ختم فرما رہا ہے جس طرح کہ ابتدا بھی اسی ہی چیز سے ہوئی
تھی۔
بیان کرنے کے بعد یہ تنبیہ مقصود ہے کہ بیان کردہ احکام کی بھلائی تمہارے لئے ہی
ہے اور ان پر عمل کرنے کا فائدہ تمہیں ہی ہو گا ورنہ اللہ کو ان چیزوں کی احتیاج
نہیں وہ آسمانوں اور زمینوں اور کل موجودات کا ما لک ہے۔
لینے کا مقصد یہ ہے کہ غلط عقیدہ کی خدا باز پرس کرے گا چنانچہ تفسیر برہان میں
عیاشی سے اسی آیت کی تفسیرمیں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جس
شخص کے دل میں ان دو شخصوں کی رائی کے دانہ کے برابر بھی محبت ہو گی تو خدا س کو
ہر گز ہر گز بہشت میں داخل نہ کرے گا۔
حدیث طویل میں حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے منقول ہے کہ لِلّٰہِ مَا فِی
السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ پوری آیت شب معراج جناب رسالتمآب پر پیش کی گئی اور آپ نے
اس کو قبول فرمایا پس ارشاد قدرت ہوا اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ
مِنْ رَّبِّہ یعنی رسول ایمان لایا ساتھ اس چیز کے جو اس پر اس کے ربّ کی طرف سے
نازل ہوئی تو جواب میں جناب رسالتمآب نے اپنی اور اپنی امت کی طرف سے عرض کیا:
یعنی مومنین بھی ایمان لائے اور سب اللہ فرشتوں کتابوں اور رسولوں پر ایمان لائے
ہیں، اور بلحاظ ایمان و تصدیق ان رسولوں میں فرق نہیں کرتے کہ بعض کو مانیں اور
بعض کا انکار کریں اور سب نے خدائی فرمائشات کو سنا اور اطاعت قبول کی پس جانب خدا
سے آواز آئی کہ جنت اور مغفرت ان ہی کےلئے ہے پھر حضرت رسالتمآب نے عرض کیا:
تیری بخشش چاہیے اور تیری طرف ہی باز گشت ہے۔
یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَھَا لَھَا مَاکَسَبَتْ وَ عَلَیْھَا مَا
اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لا تُوَاخِذْ نَا اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْ نَا
رَبَّنَا وَ لا تَحْمِلُ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ
قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لاطَاقَةَ لَنَا بِہ وَاعْفُ عَنَّاوقفہ
وَاغْفِرْ لَنَاوقفہ وَارْحَمْنَاوقفہ اَنْتَ مَوْلنَا فَانْصُرْنَا عَلَی
الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ (286)
طاقت کے مطابق اس کے کمائے ہوئے کا نفع اس کے لئے ہے اور اس کا وبال بھی اسی کے
اوپر ہے اے ہمارا پروردگار ہمیں گرفت نہ کرنا اگر بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں اے
ربّ نہ رکھ ہم پر بوجھ جس طرح رکھا تو نے ان پر جو ہم سے پہلے گزرے اور نہ اُٹھوا
ہم سے وہ جس کی ہم میں طاقت نہ ہو اور معاف کر ہم کو اور بخش ہمیں اور رحم فرما ہم
پر تو ہمارا مولا ہے پس ہماری مدد فرما کافر لوگوں پرo
اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں رکھتا پس جو عمل خیر کریں گے تو وہ ان کی جزا
پائیں گے اور جو عمل بد کریں گے وہ ان کی سزا جھیلیں گے تو جناب رسالتمآب نے عرض
کیا اے پرودگار ! ہمیں اس سے کچھ زیادہ مرحمت فرما ارشادہوا کہ طلب کرو جو چاہتے
ہو پس عرض کیا:
اَوْ اَخْطَانَا: اے پالنے والے ہمیں نسیان یعنی بھول چوک اور خطا کا مواخذہ نہ
کرنا، تو ارشاد ہوا کہ گزشتہ امتیں جب یاد دلائے جانے کے بعد بھول جاتی تھیں تو ان
پر میں عذاب کے دروازے کھول دیتا تھا اور تیری امت سے میں نے معاف کر دیا اور
گزشتہ امتوں سے جب غلطی سر زد ہوتی تھی تو ان کو سزا دی جاتی تھی اب تیری کرامات
کی وجہ سے تیری امت سے میں نے یہ سزا اُٹھا دی ہے پھر حضور نے عرض کیا کہ کچھ اور
بھی دے ارشادہوا کہ طلب کرو جو کرنا ہے پس عرض کیا:
یعنی اے اللہ! ہم پر وہ بار نہ رکھ جو گزشتہ امتوں پر رکھے گئے تھے پس خدا نے قبول
فرمایا اور ارشاد ہوا کہ میں نے گزشتہ امتوں کے بوجھ تمہاری امت سے اٹھالئے مثلاً
:
نہیں ہوا کرتی تھیں خواہ وہ مقامات ان سے دور بھی ہوتے تھے ان کو ضروری طور پر
نماز کی ادائیگی کےلئے وہاں جانا پڑتا تھا لیکن تمہاری امت سے یہ بوجھ میں نے اٹھا
لیا ہے وَ قَدْ جَعَلْتُ الْاَرْضَ کُلَّھَا لِاُمَّتِکَ مَسْجِدًا وَّ تُرَابَھَا
طَھُوْرًا اورتحقیق میں نے تمام روئے زمین کو تیری امت کےلئے جائے سجدہ قرار دے
دیا ہے (جہاں وقت نماز ہو جائے وہاں پڑھ لیں)اور اس کی مٹی کو میں نے باعث طہارت
کر دیا ہے (اگر پانی دستیاب نہ ہو سکے تو تیمم کر کے نماز کو ادا کریں)
اس جگہ کے کاٹے بغیر ان کا بدن پاک نہ ہوتا تھا اور آپ کی امت کےلئے پانی کو مطہّر
بنایا ہے کہ دھو دینے سے وہ مقام پاک ہو جائے گا جہاں نجاست لگی ہو پس یہ بوجھ بھی
آپ کی امت سے اٹھالیا گیا ہے۔
قربانیاں گردنوں پر اٹھا کر بیت المقدس میں لاتی تھیں اور ان کی مقبولیت کی نشانی
یہ تھی کہ میں ایک آگ کو بھیجتا تھا جو مقبول قربانی کو اٹھا لیتی تھی پس ان کےلئے
خوشی کا باعث ہوتی اور جس کی قربانی کو آ گ نہ کھاتی تھی وہ ناکام ہو کر واپس
آجایا کرتے تھے لیکن تیری امت کی قربانیوں کی مقبولیت کا معیار تیری امت کے فقراو
مساکین کے پیٹ ہیں پس جو قربانی ان تک پہنچ جائے اگر وہ مقبول ہو گی تو بروز قیامت
اس کا بدلہ چند در چند دوںگا اور اگر مقبول نہ بھی ہو گی تو ان سے دنیا کے عذاب کو
تو بر طرف کر ہی دوں گا۔
تھیں جو مشقت کا باعث تھیں اور تیر ی امت پر فرحت و نشاط کے وقتوں میں نمازیں واجب
کی گئیں۔
اور تیری امت پرصرف پانچ نمازیں واجب ہیں اور وہ کل اکاون رکعتیں ہیں اور اِن کی
اِن پانچ نمازوں کا ثواب اُن کی پچاس نمازوں کے برابر عطا کروں گا۔
ثواب نہ تھااور اگر نیکی کرلیتے تھے تو اس کا ثواب صرف ایک بدلے ایک تھا اور آپ کی
امت اگر نیکی کا صرف ارادہ کرے تو اس کوا یک نیکی کا ثواب اور اگر نیکی کا عمل بھی
کرے تو ایک کے بدلہ میں دس گناہ ثواب دوں گا۔
پر عمل نہ کرتے تو اس کا بدلہ کچھ نہ تھا اور تیر ی امت اگر برائی کا ارادہ کرے
اور پھر عمل نہ کرے تو اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھی جائے گی۔
لکھا جاتا تھا (جس سے وہ شرمسار ہوتا تھا) اور آپ کی امت کا گناہ صرف میرے اور ان
کے درمیان بند ہے اور میں نے ان پر پردہ دے رکھا ہے۔
ترین غذا بطور سزا کے حرام قرار دیتا تھا اور آپ کی امت کی توبہ بغیر سزا کے قبول
ہے۔
اسی(80)سال پچاس(50) سال معافی مانگتا رہتا تھا اور پھر بھی اس کی توبہ بغیر سزائے
دنیاوی کے مقبول نہ ہوتی تھی لیکن آپ کی امت میں سے کوئی شخص بیس (20)سال تیس (30)
سال یا سو (100)سال گناہ میں مبتلا رہے اور پھر توبہ کرے تو طرفُ العین یعنی پلک
جھپکنے کی دیر تک اس کی پشیمانی سے اس کے سب گناہ معاف کردوں گا۔
اور جناب رسالتمآب کی دعا سے اس امت سے وہ اٹھا لئے گئےاس کے بعد جناب رسالتمآب نے
عرض کیا:
سے ہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہ اٹھوا تو ارشاد ہوا کہ یہ بھی منظورہے، پھر عرض
کیا:
وَارْحَمْنَا: ہمیں معاف کر اور بخش اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مولا ہے، تو
ارشاد ہوا کہ یہ چیز توبہ کرنے والوںکے لئے میں نے قبول کی ہے پس عرض کیا:
الْکَافِرِیْنَ: ہماری کافروں پر مدد فرما تو ارشاد ہوا کہ آپ کی امت اگر چہ تعداد
میں قلیل ہوگی لیکن ان کا رعب اورسکہ ہوگا اورآپ کا دین مشرق و مغرب میں پھیل جائے
گا اِنْتَھٰی مُلَخَّصًا
مجھے خطاب پرور گار ہوا اٰمَنَ الرَّسُوْلُ اورمیں نے جوا ب میں کہا
وَالْمُوْمِنُوْنَ کُلّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ پھر ارشاد ہوا اے محمد! میں نے زمین پر
نگاہِ قدرت کی اورتجھے چن لیا اور تیرا نام اپنے نام سے مشتق کیا جہاں میراذکر
ہوگا وہاں تیرا ذکر بھی ساتھ ہوگا پس میں محمود ہوں اور تو محمد ہے، پھر میں نے
دوبارہ زمین پر نظر انتخاب کی تو علی ؑ کو چنا اوراس کا نام بھی اپنے نام مشتق کیا
میں اعلیٰ ہوں اوروہ علی ؑ ہے۔
حسن ؑ وحسین ؑ اورباقی آئمہ جو حسین ؑ کی نسل سے ہونے والے ہیں ان سب کو اپنے نور
سے خلق کیا اورتمہاری ولایت کو میں نے تمام اہل ارض وسماپر پیش کیا پس جس نے اس کو
قبول کیا وہ میرے نزدیک مومن ہے اورجس نے اس کا انکار کیا وہ میرے نزدیک کافر ہے۔
میری عبادت کرتے کرتے نڈھال اوربوسیدہ ہوجائے لیکن تمہاری ولایت کا اقرار نہ کرتا
ہوتو اس کو نہ بخشوں گا جب تک کہ تمہاری ولایت کا اقرار نہ کرے گا۔
باقی تیرہ معصومین کو؟ تو میں نے عرض کیا ہاں پس مجھے خطاب ہوا کہ عرش کی دائیں
جانب نگاہ کیجئے پس میں نے دیکھا تو علی ؑ فاطمہ ؑ حسن ؑ حسین ؑ علی بن الحسین ؑ
محمد بن علی ؑ جعفر بن محمد ؑ موسیٰ بن جعفر ؑ علی بن موسیٰؑ محمد بن علی ؑ علی بن
محمد ؑ حسن بن علی ؑ اورحضرت مہدی ؑ ایک فضائے نور میں کھڑے ہو کر مصروف عبادت تھے
اورحضرت مہدی ؑ ایک درخشاں ستارہ کی طرح ان سب کے وسط میںجلوہ افروز تھے پس ارشاد
باری ہوا:
وہ (حضرت مہدی ؑ) تیری مظلوم عترت کا بدلہ لینے والاہوگا مجھے اپنی عزت وجلال کی
قسم کہ وہ میرے دوستوں کےلئے حجت واجبہ اورمیرے دشمنوں سے انتقام لینے والاہوگا
تفسیر مذکور میںہے کہ اس روایت کو بعض مخالفین نے بھی نقل کیاہے (باختصار)
امیرا لمومنین ؑ سے دریافت کیاکہ شب معراج تمہارے نبی سے پہلی کلام کون سی ہوئی؟
تو آپ ؑ نے فرمایا کہ یہ آیت اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ یہودی نے
کہا کہ میرا یہ مطلب نہیں تو آپ ؑ نے فرمایاکہ اس کے بعد یہ آیت جو کہ قول رسول
تھا وَالْمُوْمِنُوْنَ کُلّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلا ئِکَتِہ یہودی نے کہا میری
مراد یہ بھی نہیں، آپ ؑ نے فرمایاکہ پوشیدہ باتوں کو رہنے دو تو یہودی نے کہاکہ
اگر آپ ؑ نہیں بتا سکتے تو آپ ؑ وہ نہیں آپ ؑ نے فرمایا: اگر تجھے خواہ مخواہ
پوچھنا ہے تو سن جب جناب رسالتمآب واپس تشریف لارہے تھے تو ابھی حجابوں کی منازل
میںتھے اورمقام جبر یل تک نہ پہنچے تھے کہ پیچھے سے ایک ملک نے صدادی یا احمد! آپ
نے کہالبیک فرشتہ نے عرض کیا کہ اللہ سلام کے بعد فرماتاہے کہ سیّد ولی کو سلام
کہنا آپ نے پوچھا سیّد ولی کون ہے؟ تو ملک نے کہا کہ وہ علی ؑ بن ابی طالب ؑ ہی تو
ہے یہ سن کر یہودی بولا بےشک خداکی قسم میں نے اپنے والد کی کتاب میں ایسا ہی پڑھا
ہے اوروہ یہودی حضرت داﺅد ؑ کی اولاد سے تھا (باختصار)
اٹھالی گئی ہیں اور وہ یہ ہیں:
کے ظلم و جبر کے ڈر سے کیا ہو (6)جو کام حالت اضطرار میں ہو جائے (7)فال نیک یا بد
لینا (8)توحید کے بارے میں وسوسے بشرطیکہ ان کو کراہت کی نگاہ سے دیکھے (9)حسد
بشرطیکہ اس کا استعمال نہ کرے
بقرہ کی پہلی چار آیتیں پڑھ کر آیتہُ الکرسی کو ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ تک پھر
سورہ بقرہ کی آخری تین آیتیں لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ سے تا آخر پڑھے گا تو وہ
اپنی جان واہل و مال میں کوئی ناپسند یدہ بات نہ دیکھے گا اور اس کے قریب شیطان نہ
آئے گا اور اس کو قرآن فراموش نہ ہوگا۔
یا نتیجہ ہیں کیونکہ سورہ مذکورہ میں متعدد احکام قصص و اقعات اور مختلف خبریں ذکر
ہوئی، پس آخر میں بطور تتمہ یہ اعلان نہایت موزوں تھا کہ رسول اور ایمان والوں کو
اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی کسی شئے پر ذرّہ بھر بھی شک و شبہ نہیں بلکہ وہ ہر
نازل شدہ شئے پر دل و جان سے ایمان رکھتے ہیں۔
اور اللہ کی جانب سے نازل شدہ تمام چیزوں پر ایمان لانے والے متقی کے مقدس لقب سے
یاد کئے گئے تھے اور اس کے بعد خدا نے کفار اور منافقین کے امر جہ طبائع اور عادات
و کردار کا تعار ف کرادیا تھا اور بنی اسرائیل پر اپنی نعمات کا نزول اور ان کا
انکار اور پھر ان پر عذاب کی سختی وغیرہ کا تذکرہ فرمایا تھا اب اختتام سورہ پر
ایک دفعہ پھر بطور تلخیص وفد لکہ (نتیجہ) کے ارشاد فرمارہا ہے کہ رسول اور ا س کے
ساتھ ایمان لانے والے اپنے موقف ایمانی پر ثابت قدم ہیں اور اللہ کی طر ف سے نازل
ہونے والی چیزیں ایمان رکھتے ہیں اور اپنی جملہ ضروریات اسی سے مانگتے ہیں اور
مشکلات کا حل بھی اسی سے چاہتے ہیں۔
