نماز وسطیٰ کی تاکید
الْوُسْطٰی وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ
قٰنِتِیْنَ (238) فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً اَوْ رُکْبَانًا فَاِذَآ اٰمِنْتُمْ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَمَا
عَلَّمَکُمْ مَا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ (239) وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ
مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا صلے وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِھِمْ مَتَاعًا
اِلٰی الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاج ٍ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْ
مَا فَعَلْنَ فِیٓ اَنْفُسِھِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ وَاللّٰہُ عَزِیْز حَکِیْم240 )
وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ (241)
کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیتِہ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ (242)ع
اورکھڑے ہو اللہ کےلئے دعامانگتے ہوئےo پس اگر تمہیں ڈر ہو تو پس پیدل یاسوارہو کر ( جیسا
ممکن ہو نماز پڑھو) پھر جب امن میں ہوجاﺅ تو خداکو یاد کرو جس طرح اس نے
تمہیں تعلیم فرمائی اس چیز کی کہ جسے تم نہیں جانتے تھے oاوروہ لوگ جو تم میں سے مرجائیں اورچھوڑ جائیں بیویاں وہ وصیت کرجائیں اپنی
بیویوں کےلئے فائدہ (نان ونفقہ ومکان ) کی سال تک کےلئے کہ گھر سے نکال نہ دی
جائیں پس اگر خود چلی جائیں تو تمہیں کوئی گناہ نہیں کہ وہ جوکچھ کریں اپنے نفسوں
کےلئے اچھے طریقہ سے اوراللہ تعالیٰ غالب حکمت والاہے oاورطلاق شدہ عورتوں کےلئے فائدہ پہنچانا ساتھ نیکی کے (اچھے طریقہ سے )
واجب ہے متقی لوگوں پر oاسی طرح واضح فرماتاہے
اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کو تاکہ تم سمجھو o
وسطیٰ کی تاکید
مروی ہے کہ جناب رسول خداظہر کی نماز اوّل وقت میں ادا فرماتے تھے اوریہ نماز تمام
باقی نمازوں سے صحابہ پر شاق ودشوار تھی چنانچہ اس نماز میں آپ کے پیچھے ایک یا
دوصف نمازیوں کی ہوا کرتی تھی آپ نے فرمایاکہ میں چاہتا ہوں کہ جولوگ اس نمازمیں
شریک نہیں ہوتے ان کے گھر جلادو ں پس یہ آیت اُتری۔
اسی کی تائید کرتی ہے اگر چہ روایت عامی ہے اور اس کو وسطیٰ یعنی درمیانی اس لئے
کہاگیا ہے کہ دن کے تقریبا درمیان میں واقع ہوتی ہے ایک روایت میں ہے کہ اس وقت
آسمان کے دروازے کھلے ہوتے ہیں یہانتک کہ نماز ظہر ادا کی جائے اوراس وقت دعا
مستجاب ہوتی ہے
دونمازوں کے درمیان ہے
میں واقع ہے
کے درمیان میںہے
کے درمیان ہے کہ وہ دودوایک وقت میں ہیں اوریہ تنہا ایک وقت میں ہے اوریہ سفیدی
اورسیاہی کے درمیان میں واقع ہے
میں نقل فرمائے اورہر قول کی تائید میں قائلین نے جو حدثییں پیش کی ہیں انہوں نے
وہ بھی ذکر کی ہیں لیکن تفسیر اہل بیت ؑ سے صرف پہلا قول ثابت ہے اور وہ یہ کہ
نماز ظہر ہی نمازوسطیٰ ہے، اورچونکہ آلِ محمد ہی قرآن کے حقیقی مفسر ہیں لہذا ان
کے فرمان کے مقابلہ میں کسی دوسرے کے قول کی کوئی وقعت نہیں ہے چنانچہ ابوبصیر سے
مروی ہے کہ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا کہ نماز وسطیٰ ظہر ہے اور یہی نماز پہلے پہل
حضرت رسالتمآب پر اُتری اسی طرح تفسیر برہان میں متعدد روایات مذکور ہیں۔
