بحث عقائد – اثبات خالق

 بحث عقائد

اثبات خالق  

عرصئہ شباب میں قدم رکھنے کے بعد جب عقل کی آنکھ کھلتی ہے
تو گردوپیش  کے سرسری مطالعہ کے بعد اس کی
توجہ خود بخود اس امر کی طرف فطرتامڑجاتی ہے 
کہ میں خود  اور یہ سارا جہاں جو
تغیرات کی آماجگاہ میں نہ تو قدیم ہیں اور نہ خود بنانے والے کے بغیر ہے بنے ہیں
قدیم اس لئے نہیں کہ اس میں رونما ہونے والے تغیرات اس کے حودث کی دلیل میں اور
بنانے والے کے بغیر خود بن جانا اس لئے ناممکن ہے کہ جب حقیر  چیز کسی بنانے والے کے بغیر نہیں بن سکتی تو
اتنا بڑا جہاں تعبیر کسی بنانے والے کے کیسے بن سکتاہے پس ماننا پڑتاہے کہ اس سارے
جہاں کاخالق ضرور ہے اور جب ہم اپنے مقام پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمخود اپنے جیسے کو
پیدا نہیں کرسکتے تو یقین پیدا ہوجاتاہے کہ ہم کو بھی جس نے پیدا ییاہے وہ ہمارے
جیسا نہیں پس ثابت ہواکہ پورے جہاں کا خالق پرے جہاں کے افراد میں سے کسی فرد
جیسانہیں پس وہ نہکسی جیساہے اور نہ کوئی اس جیسا ہے لیس کمثلہ شئیٌ

بروایت بحارالانوار حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اپنے
آباطاہرین علیہم السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک دھریہ عقیدہ کا
گروہ  حضرت رسالتمآب  کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ان سے مخاطب
ہوکر فرمایاکہ تم کہتے ہو ان تمام ہونے والی چیزوں کی نہ کوئی ابتدا ہے اور نہ
انتہا گویا ہمیشہ سے ہے  اور ہمیشہ رہیں گی
تو اس عقیدہ پر تمہارے پاس کونسی دلیل ہے انہوں نے جواب  دیا کہ ہم نے ان تمام چیزوں کا پیداکرنے والا
کوئی نہیں پایا اور نہ ہمیں ان چیزوں  کی
انتہا معلوم ہے لہذا  ہم یہ سمجھنے پر
مجبور ہیں کہ یہ سب چیزیں ازلی بھی ہیں اور ابدی بھی پس یہ قدیم بھی ہیں اور ہمیشہ
کے لئے باقی بھی ہیں تو آپ نے فرمایا تو کیا تم نے ان کے قدیم ہونے اور دائمی  ہونے کو پالیا ہے ؟ اگر تم یہ کہو کہ ہم نے
انکے قدیم اور دائمی  ہونے کو پالیا
ہے  تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اپنا بھی
ازلی وابدی ہو نا مانتے ہو اور یہ یقینا بھوٹ غلط 
اور بے بنیاد بات ہے اس عقیدہ میں تمام لوگ تمہیں جھوٹا کہیں گے اور خود
تمہارا وجدان بھی نہیں جھوٹا کہے گا پس وہ کہنے لگے کہ حضور ہم نے واقعا  ان چیزوں کی ازلیت وابدیت کو نہیں پایا ہے تو
آپ نے فرمایا جب تم دعوی کرتے ہوکہ چونکہ ہم نے ان کی ابتداء  وانتہاء کو نہیں پایا لہذا یہ ازلی وابدی  ہیں  تو
تمہارے جو اب میں کہنے وال اکہے سکتاہے کہ ہم نے انکی ازلیت وابدیت کو  نہیں پایا لہذا یہ حادث  ہیںتو پھر تمہارے پاس اپنے عقیدہ کی بہتری  کی کیا سند ہے

پھر آ پ نے فرمایا 
کہ یہ دن رات جو تم دیکھ رہے ہوکیا 
یہ ہمیشہ سے ہیں اور ہمشہ رہیں گے  انہوں نے جواب دی اکہ ہاں آپ  نے فرمایاکہ کیایہ ممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں
دن بھی ہو  اور رات بھی ؟ تو انہوں نے
کہاکہ نہیں آپ نے فرمایا  کہ تم اس بات کے
قائل ہوکہ ایک ختم ہوتاہے تو دوسرا اس کی جگہ آتا ہے وہ کہنے لگے کہ بے شک ایساہی
ہے آپ نے فرمایا کہ معلوم  ہوا  اب سے پہلے ککے جس قدر دن اور رات گذرے ہیں وہ
سب حادث  ہیں حالانکہ تم نے انکو دیکھا
نہیں ہے لیکن حادث ہونے  کا حکم لگا رہے ہو
پس اللہ کی ق درت کا انکار نہ کرو پھر آپ نے فرمایا کہ اب سے پہلے کے جس قدر شب
وروز ہیں ومتناہی ہیں  یاغیر متناہی  پس اگر کہو کہ غیر متناہی ہیں تو غیر متناہی
ہونے  کے باوجود یہ سلسلہ تم تک کیسے پہنچا
اور اگر کہو کہ متناہی ہیں تو ماننا پڑے گا کہ ایک وقت تھا جب یہ دن ورات نہ تھے
اور  بعد 
میں ہوگئے پس یہ حادث ثابت ہوئے 
انہوں نے کہاکہ ٹھیک ہے

پھر آپ نے فرمایاکیا تم کہتے ہوکہ یہ سارا جہاں قدیم ہے
حادث نہیں ہے اور تم جس  چیز  کا اقرار کرتے ہو یاجس چیز کا انکار کرتے ہو
یعنی قدیم وحادث  انکے معانی کو بھی سمجھتے
ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں  تو آپ نے
فرمایاکہ جہاں کی جس قدر چیزیں ہمارے سامنے موجود ہیٰں ہم دیکھتے ہیں  کہ یہ سب ایک دوسری کی طرف محتاج ہیں اور
ایک  ددوسرے کے بغیر یہ قطعا نہیں رہ سکتیں
جس طرح ایک مکان کہ اس کی ہر جزو اپنے قیام وبقا میں دوسری جزو کی محتاج ہے کہ اگر
ان کا باہمی ربط واحتیاج ختم ہوجائے تو اس کا استحکام بلکہ ڈھانچہ بے کار وبرباد
ہوجائے گا پس کائنات کی تمام اشیاء کی یہی کیفیت ہے کہ ایک دوسرے کے بغیر انکی
زندگی وبقا ناممکن ہے پس یہ جہان جسکے تمام اجزا ایک دوسرے گے محتاج ہیں اپنی قوت
واستحکام کی بناپر قدیم ہے تو تم خود ہی بتاؤ کہ اگر یہ جہاں حادث ہوتا تو کیونکہ
ہوتا ؟ اور کیسے ہوتا؟ پس وہ لاجواب ومبہوت ہوگئے کیونکہ وہ سمجھ گئے  کہ جس کو ہم قدیم کہہ رہے ہیں اس میں تو حادث
کی تمام صفات موجود ہیں پس وہ کھسانے سے ہوکر کہنے لگے ہم اپنے نظریات میں پھر سے
غور کریںگے  

بہر کیف عقل کے لئے اسکے بغیر کوئی چارہ  ہی نہیں کہ اس جہان کے پیدا کرنے والا ایک خالق
ہے جو ازلی وابدی اور سرمدی ودائمی  ہے وہ
ہر شیئے  پر قادر ہے اور تمام صفات کمال کا
جمع ہے اور صفات اس کی عین ذات ہیں

Similar Posts

  • اعلان نبوت

    اعلان نبوت  حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے اور پچیس برس کی عمر میں حضرت خدیجہ طاہرہ سے ان کی شادی ہوئی  اور ان کے بطن مبارک سے آنحضرت  کی اولاد صرف ایک ہی لڑکی ہے جس کا نام فاطمہ ہے چالیس برس کیعمر میں آپ نے اعلان نبوت…

  • عدل کی فضیلت

    عدل کی فضیلت عدل کا معنی  ہے ہر شیئ کو اس کے موزوں ومناسب مقام پر رکھنا اور صاحبان  حقوق کے حقوق کی پاسداری کرنا عدل مخلوق کےدرمیان اللہ کا قائم کردہ میزان ہے اور عدل ہی سے آسمان وزمین قائم ہیں عقلی احکام میں وجوب عدل سے واضح تر کوئی حکم نہیں کیونکہ کوکئی…

  • ہجرت

     ہجرت تقریبا تیرہ برس مکہ میں اسلامی تبلیغ فرمائی اور حضرت ابوطالب نے پہلے اعلان رسالت سے لے کر  تادم زیست قدم قدم  پر لمحہ بہ لمحہ حضؐور  کی پشت پناہی اور نگہبانی کا فریضہ ادا فرمایا اور ان کی زندگی تک کسی قریشی کو حضور کی ایزارسائی کی جرات نہ ہوسکی  پس یہ وہ…

  • علت مادیت

    علت مادیت مجھے مؐحمد وآل مؐحؐد  علیہ السلام  کاکائنات  کےلئے علت مادیہ قرار دینا بھی پسند  نہیں ہے اس میں شک نہیں کہ خداوندکریم نے معلولات کو اپنی علل کا اور مسببات کو اپنے اسباب  کا مرہون منت قرار دیا ہے  لیکن اول مخلوق ہونے کی بناپر باقی تمام مخلوق کےلئے  انکو اصل واحد قرار …

  • عدل وانصاف

     عدل وانصاف  حضرت رسالتمآبؐ  نے ایک خطبہ کے آخر میں سات قسم  کے آدمیوں  کے لئے  فرمایا کہ انکے لئے طوبیٰ ہے (1) جس کا خلق اچھا ہو  (2) جس کی طینت  پاکیزہ ہو (3) جس کا باطن پاکیزہ ہو  (4) جس کا ظاہر خوب ہو  (5) جو اپنے مال کی بچت مستحقین پر خرچ…

  • شفاعت

     بروز محشر محؐمد  وآل محؐمد  کےلئے حق شفاعت  ہے اور وہ گنہگاروں کے حق میں سفارش کریں گے آپ نے فرمایا بروز محشر تین قسم کےلوگ شفاعت کریں گے  انبیاء علماء اور شہداء  اور آپ نے فرمایا جو شخص میری شفاعت پر ایمان نہیں رکھتا خدا اس کو میری شفاعت نصیب نہکرے  حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  سے منقول ہے  جو شخص…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *