تفسیر رکوع ا — حروفِ مقطعات کا بیان
حروفِ مقطعات کا بیان
لا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ (2) الَّذِيْنَ
يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُقِيمُوْنَ الصَّلا ةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ
يُنفِقُوْنَ(3) وَ الَّذِينَ
يُؤْمِنُونَ بِمَآ اُ نْزِلَ إِلَيْكَ وَ مَآ اُ نْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ بِا لْآخِرَةِ
هُمْ يُوْقِنُوْنَ (4) اُوْلٰٓئِكَ عَلٰى
هُدًى مِنْ رَّبِّهِمْ وَ اُوْلٰٓئِكَ هُمْ الْمُفْلِحُوْنَ(5) اِنَّ الَّذِيْنَ
كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لا
يُؤْمِنُوْنَ(6) خَتَمَ اللّٰهُ
عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ وَ عَلٰى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَّ لَهُمْ
عَذَابٌ عَظِيْمٌ (7)
کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں اور قائم کرتے ہیں نماز کو اور ہمارے دیئے ہوئے رزق سے
خرچ کرتے ہیں(3)وہ جو
ایمان رکھتے ہیں ساتھ اس کے جو آپ پر اتری اور ساتھ اس چیز کے جو آپ سے پہلے اتری
اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں(4) وہ لوگ
ہدایت پر ہیں اپنے ربّ کی طرف سے اور وہی ہیں چھٹکارا پانے والے(5) تحقیق وہ لوگ جو کافر ہیں
ان پر برابر ہے خواہ ان کو ڈراوٴ یا نہ ڈراوٴ ایمان نہ لائیں گے(6)مہر لگا دی اللہ نے ان کے
دلوں پراور کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کےلئے بڑا عذاب ہے(7)
رکوع ا
حروفِ
مقطعات کا بیان
اختلاف ہے:
علامُ الغیوب کے کوئی بھی نہیں سمجھتا-
سورتوں کے نام ہیں-
ہیں جن کے درپے ہونا طول بلاطائل ہے-
کہ ا لٓ م اورجمیع مقطعات اللہ تعالیٰ کے
اسم اعظم پر مشتمل ہیں جس کو نبی یا امام صحیح ترتیب دے سکتا ہے اوراسی کے ذریعہ
سے ان کی دعائیں مستجاب ہوتی ہیں الخبر- [1]
اِن حروف سے ابتدا کا مقصد منکرین کو تحدی کرنا ہے یعنی یہ قرآن صرف انہی حروف کا
مرکب ہے جن سے تم اپنا کلام مرکب کرتے ہو اس کے حروف کوئی نئے نہیں، پس اگر اس
کلام کو تم اللہ کا کلام نہیں مانتے تو انہی حروف سے تم بھی اس جیسا کلام بناکر لاوٴ؟
کہ یہ قسم کے لئے ہیں یعنی الف لام ومیم کی قسم اس کتاب میں کوئی شک نہیں-
عیاشی امام محمد باقر سے منقول ہے آپ ؑنے فرمایا میرے پاس حروفِ مقطعاتِ قرآنیہ کا ایک بہت بڑا ذخیر
ہ موجود ہے-[2]
حروفِ مقطعاتِ قرآنیہ اَسرار ورُموزِ علومِ الٰہیہ کے خزانے ہیں جن کی صحیح خبر
راسخون فی العلم کے علاوہ اورکسی کو نہیں اوریہ کہناکہ سوائے اللہ تعالیٰ کے
اورکوئی جان ہی نہیں سکتا حتی کہ نبی وامام بھی اس سے بے خبر ہیں بالکل غلط ہے
ورنہ یہ کتاب ساری کی ساری ہدایت کیسے ہوسکتی ہے جب کہ اس کے بعض کلمات کسی کی
سمجھ میں ہی نہ آئیں؟ اورپھر اس قسم کے الفاظ نازل کرنے کا فائدہ ہی کیاہے جس کا
علم اس کے اپنے رسول کو بھی نہ ہو؟ پس جس طرح عموماً حبیب ومحبوب کے باہمی مکالمات
ومکاتیب میں بعض اس قسم
کے اَسرار و رموز ہوا کرتے ہیں جن کو غیر نہیں سمجھ سکتا یا یوں سمجھئے کہ جس طرح
ایک افسر اعلیٰ اورحاکم بالا اپنے ماتحت افسر کو رعایا پر نافذ کرنے کےلئے
چنداحکام تحریر کرے اورچٹھی کے سرنامہ پر چندایسے اشارات درج کردے جن کا تعلق صرف
اسی مکتوبِ الٰہیہ افسر سے ہو اوران اشارات میں چٹھی کے تمام مندرجہ احکام کے نافذ
کرنے کی خصوصی ہدایات درج ہوں جن پر عوام کو مطلع کرنا مصلحت ِوقت کے خلاف ہو تو
جب عوام کے سامنے وہ چٹھی آئے گی یقینا وہ سرنامہ پر درج شدہ اشارات کو مہمل خطوط
سمجھیں گے اور ذیل میں مندرجہ احکام کا صحیح فیصلہ وہی افسر کر سکے گا جس کو وہ
چٹھی بھیجی گئی تھی اوراشاراتِ خصوصی پر اسے مطلع کیا گیا تھا اوراس کی عدم موجود
گی میں اس کا صحیح قائم مقام ان مندرجات کے صحیح نفاذ کا ذمہ دار ہوگا-
علوم حضرت محمد مصطفی ﷺاور اُن کی آلِ طاہرین ہی تک محدود ہیں، چنانچہ بعض روایات میں اس کا مضمون
گزر چکا ہے اوروہی (آلِ محمد) قرآن مجید کے جملہ مضامین
کا صحیح حل سمجھ سکتے ہیں ان کے دروازہ سے یکسوئی ہی مسلمانوں کے اختلاف کی سب سے
بڑی وجہ ہے، پس جس طرح سلاطین دنیا کا یہی طرزِ عمل ہے کہ ان کی چٹھیاں دوحصوں پر
منقسم ہوا کرتی ہیں ایک حصہ کا تعلق صرف مکتوبِ الیہ افسر سے ہوتا ہے جس میں عمومی احکام کے نافذکرنے کے
طریقے اوردیگر خصوصی ہدایات ہوتی ہیں اوردوسرے حصے کا تعلق عام رعایا سے ہوتا ہے
لیکن دوسرے حصہ کو کماحقہ وہی سمجھ سکتا ہے جس کو پہلے حصے کا علم ہو اسی طرح قرآن
مجیدمیں مقطعاتِ قرآنیہ کا علم انہی ذواتِ طاہرہ سے مختص ہے جن کو قرآن کا مبلغ قرار دیا گیاہے اورباقی قرآن کا تعلق پوری امت
سے ہے، پس اس سے ثابت ہوا کہ قرآن پورے کا پورا ہدایت ورحمت ہے لیکن ہادی سے کنارہ
کشی اس کے صحیح مطالب سے دُوری کی موجب ہے یہی وجہ ہے کہ جناب رسالتمآبﷺ نے باربار قرآن واہل بیتہر دوسے تمسک کی تاکید
فرمائی اوراِن کے بغیر امت کی گمراہی کا خطرہ ظاہر فرمایا-
کی کل تعداد چودہ ہے) کی صحیح ترتیب خود اس امر کی غماز ہے کہ ان کا علم آلِ محمد تک ہی محدود ہے کیونکہ قرآن کے تمام حروفِ مقطعات کو جمع کر کے دوبارہ آنے
والے حروف کو علیحدہ کیا جائے تو بامعنی عبارت صرف یہ بنتی ہے صِرَاطُ
عَلِیٍّ حَقّ نُّمسِکُہُ یا عَلِیّ صِرَاطُ حَقٍّ نُمسِکُہُ اس کے بغیر اور کوئی صحیح عبارت بن ہی نہیں سکتی-
لام ومیم وغیرہ سے مرکب کامل یہی کتا ب ہے ذرا بھر اس میں شک نہیں–
واسلوبِ بیان کا صحیح مطالعہ کیا جائے تو اس دعویٰ کی تصدیق میں کوئی شک نہیں رہتا
اورپھر بھی اگر کوئی اس کتاب کو غیر اللہ کا کلام کہے تو انہی حروف سے اس جیسا
کلام مرکب کرکے پیش کرے-
کوئی شک نہیں-
کتاب ہے-
رَیْب
کنایہ نسخ سے ہو[3])
کوئی شک وشبہ کی گنجائش ہی نہیں-
کتب سماویہ سابقہ کی بھی یہی صفت ہے کہ ان کی صدق بیانی میں کوئی شک کی گنجائش ہی
نہیں ہوتی لیکن اس مقام پر چونکہ قرآن مجید کے متعلق نزاع تھا لہذا سی مقدس کتاب
کو نفی رَیْب
سے مخصوص کیا گیا حاصل معنی یہ ہے کہ یہ وہ کتابِ کامل بلکہ اکمل ہے
جس میں نہ کوئی لفظی یامعنوی نقص وعیب ہے جو موجب گرفت ہو اور نہ اس میں کو ئی
رخنہ ہے تاکہ قابل ترمیم ہو اورنہ اس میں کوئی کمزوری ہے تاکہ قابل تغیرونسخ ہو
اوریہ جملہ تمام قرآنی مطالب کا موضوعِ بیان اورعنوانِ بحث کی حیثیت رکھتا ہے-
