متقین کی ہدایت

متقین کی ہدایت

ھُدًی لِّلمُتَّقِینَ: متقین کے لئے ہدایت ہے یاہادی ہے مقصد یہ ہے کہ یہ کتاب ہر
شخص کےلئے منارِ ہدایت ہے لیکن چونکہ اس کی ہدایت سے نفع صرف متقی ہی اٹھاتے ہیں
اس لئے ان کا خصوصیت سے ذکر کیا گیا جس طرح جناب رسالتمآب
عالمین کے رسول تھے لیکن چونکہ اسلام لانے والوں نے ہی ان کی تبلیغات سے اثر
لیا لہذا مسلمانوں کے رسول کہلاتے ہیں، یعنی فیض قرآن اگر چہ عام ہے لیکن قبول
کرنے والوں سے منسوب کردیا جائے تو اس میں حرج بھی کوئی نہیں-
اس کی مثال یوں سمجھئے کہ
جسمانی امراض کے علاج کےلئے جو شفاخانہ جات اورڈاکٹر مقرر کئے جاتے ہیں وہ تمام
بیماروں کےلئے یکساں طور پر مفید وکارآمد ہوتے ہیں لیکن اگر مریض ان کے قریب تک نہ
جائے یاجاکر مقررہ علاج سے گریز کرے یاڈاکٹر کے مشوروں پر عمل نہ کرے تو اس کا یہ
مطلب ہر گز نہیں کہ وہ شفا خانہ یا دوا یا ڈاکٹر اس مریض کےلئے مفید نہ تھا لیکن
اس صورت میں اگر کہاجائے کہ وہ صرف ان لوگوں کےلئے کار آمد ہیں جنہوں نے اس
شفاخانہ میں داخل ہوکر ڈاکٹر کی تشخیص ومشورہ کے مطابق ادویہ جات کا استعمال کیا
تو یہ بات اس شفاخانے یاادویہ یاڈاکٹر کے عمومی فائد مند ہونے کے منافی نہیں، اسی
طرح روحانی امراض کے لیے بھی دائرہ اسلام شفاخانہ اور جناب رسالتمآب
اور اُن کی آلِ طاہر ینمعالج اور احکام قرآنیہ
ادویہ جات ہیں اور ان کی افادیت عالمین کے لیے یکساں ہے، پس روحانی شفاخانہ دائرہ
اسلام میں داخل نہ ہونا یا داخل ہو کر اس کے حقیقی معالجین یعنی محمد و آلِ محمد
کو نہ پہچاننا یا ان کی فرمائشات سے انحرا ف کرنا نہ تو قرآن کی عالمی ہدایت
کے منافی ہے اور نہ ہی مبلغین قرآن کی عالمی تبلیغ پر حرف زنی کا موجب ہے-
پس قرآن جس طرح ہدایت کل تھا
لیکن صرف متقین نے ہی اس سے فائدہ اٹھایا لہذا اس کو ھُدًی
لِّلمُتَّقِینَ
کہا گیا اسی طرح جناب رسالتمآب
کے بعد مبلغ قرآن حضرت علیامامُ الخلق تھے لیکن ان کو صرف متقین نے ہی امام تسلیم کیا لہذا ان کا لقب
امام المتقین ہو گیا اور چونکہ اسلام اور قرآن کے ذمہ دار افراد میں سے سب سے
زیادہ اور اہم اختلاف صرف حضرت علی
کی ذاتِ بابر کات میں ہے اسی لیے ان کو اس لقب خصوصی سے ملقب کیا گیا ورنہ
حضرت محمد مصطفی
سے لے کر حضرت قائم آلِ محمد تک سب کے سب متقین کے پیشوا اور ہادی ہیں اور سب قرآن کے ساتھ ہیں نہ وہ قرآن
سے جدا ہیں نہ قرآن اُن سے جدا ہے اور تفسیر برہان میں کتب معتبرہ امامیہ سے منقول
ہے کہ حضرت امام جعفر صادق
نے فرمایا کہ اَلْمُتّقُوْنَ
شِیْعَتُنا
متقی ہمارے شیعہ ہیں-
[1]
اَلَّذِیْنَ یُومِنُوْنَ باِلْغَیْبِ: اس کو جملہ
مستانفہ بھی کہا گیا ہے اور متقین کی صفت بھی کہا گیا ہے بہر کیف یہ متقین کا بیان
ہے اور اس میں متقین کی نشانیاں بتائی گئی ہیں، یہاں غیب سے تین مطلب لیے جاسکتے
ہیں:
   دل         غائب ہونے کی حالت      وہ امور جو حواسِ ظاہر یہ کی پہنچ سے دُور ہیں
پہلی صورت میں معنی یہ ہوگا
کہ متقی لوگ وہ ہیں جو دل سے ایمان رکھتے ہیں یعنی ان کا ایمان صرف لقلقہ لسانی
اور اقرارِ زبانی نہیں ہوا کرتا بلکہ جس طرح وہ منہ سے اقرار کرتے ہیں اسی طرح
اپنے دلوں میں اس کا اعتقاد و یقین بھی رکھتے ہیں-
دوسری صورت میں معنی یہ ہوگا
کہ متقی وہ لوگ ہیں جو غائب ہونے کی حالت میں بھی ایمان رکھتے ہیں، ایسانہیں کہ
تمہارے سامنے ہوں تو ایمان کا اظہار کریں اور غائب ہو جائیں تو اور اور باتیں کریں
بلکہ پاس بیٹھے ہوں یا تنہائی میں ہوں کسی صورت میں ان کے ایمان میں لغزش نہیں آتی
تیسری صورت میں معنی یہ ہوگا
کہ متقی وہ لوگ ہیں جو تمام اُن چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں جو خداوند نے بزبانِ
رسالت
بیان فرمائی ہیں، گو
وہ چیزیں ان کے حواسِ ظاہر یہ کے ادراک سے غائب ہیں مثلاً معراج کے واقعات قیامت
کے مواقف جنت و نا ر کے حالات انبیائے سابقین کی نبوت و رسالت اور ملائکہ کا وجود
وغیرہ اور اس زمانہ میں خود نبوت و بعثت ِرسالتمآب
اور ان کے اوصیائے طاہرین کی امامت بھی انہی امور میں داخل ہیں اور من جملہ
ان امور کے حضرت حجت
کا ظہور اور زمانِ رجعت بھی ہے، چنانچہ آئمہ اہل بیتسے بکثرت روایات موجود ہیں تبرکا ً چند حدیثیں اس مقام پر ذکر کی جارہی
 ہیں:
عَن اِبنِ
بَابوَیہ عَن اَبِی عَبدِاللّٰہِ فِی قَولِہ عَزَّوَجَلَّ اَلَّذِینَ یُومِنُونَ
بِالغَیبِ قَالَ مَن اٰمَنَ بِقِیَامِ القَائمِ اَنَّہ حَقّ وَفِی نُسخَةٍ مَن
اَقَرَّبِقِیَامِ القَائِمِ عَلَیہِ السَّلام
ترجمہ:  خداوند کریم کے فرمان
اَلَّذِینَ
یُومِنُونَ بِالغَیبِ
کی تفسیر میں حضرت امام جعفر صادق
نے فرمایا ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو قائم آلِ محمد کی آمد پر ایمان لائیں اور اس کو حق سمجھیں اور بعض نسخوں
میں ہے جو قیام حضرت قائم
کاا قرار کریں-[2]
وَ عَنہُ فِی حَدِیثٍ
قَالَ اَلمُتَّقُونَ شِیعَةُ عَلِّیٍ وَالغَیبُ فَھُوَالحُجَّةُ الغَائبِ
ترجمہ:  نیز حضرت امام
جعفر صادق
سے مروی ہے کہ آپ ؑنے فرمایامتقین
علی
کے شیعہ ہیں اورغیب سے مراد حضرت حجت غائب ہے (الخبر)[3]
وَ عَن جَابِرِ
بنِ عَبدِاللّٰہِ الاَنصَارِی عَن رَسُولِ اللّٰہِ فِی حَدِیثٍ یَذکُرُ فِیہِ
الاَئِمَّةَ الاِثنَی عَشَرَ وَ فِیھِمُ القَائِمُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ
طُوبٰی لِلصَّابِرِینَ فِی غَیبَتِہ وَ طُوبٰی لِلمُقِیمِینَ عَلٰی مُحَبَّتِھِم
اُولٰئِکَ مَن وَصَفَھُمُ اللّٰہُ فِی کِتَابِہ فَقَالَ الَّذِینَ یُومِنُونَ
باِلغَیبِ ثُمَّ قَالَ اُولٰئِکَ حِزبُ اللّٰہِ اَلااِنَّ حِزبَ اللّٰہِ ھُمُ
الغٰلِبُونَ
ترجمہ:  جابر بن عبداللہ
انصاری سے روایت ہے کہ ایک حدیث میں جناب رسالتمآب
نے فرمایا جس میں بارہ اماموں کا ذکر فرمایا اور حضرت قائم کا بھی اس میں نام لیا تو آپ نے فرمایا طوبیٰ ہے ان لوگوں
کےلئے جو اس کی غیبت میں صبر کریں اور طوبیٰ ہے ان لوگوں کےلئے جو اُس کی محبت پر
ثابت قدم رہیں خداوندکریم نے اپنی کتاب میں اُنہی کا ذکر فرمایا ہے چنانچہ فرماتا
ہے اَلَّذِینَ
یُومِنُونَ بِالغَیبِ
پھر ارشاد فرمایا وہی اللہ کی فوج ہیں اورآگاہ
رہو تحقیق اللہ کی فوج ہی غلبہ حاصل کرنے والی ہے-
[4]
وَیُقِیمُونَ الصَّلٰوةَ: یہ متقین کی دوسری نشانی ہے یعنی متقی وہ لوگ ہیں جو نماز
کو ہمیشہ بروقت اور پوری حدود کے ساتھ خشوع وخضوع سے ادا کرتے ہیں،کیونکہ اقامتُ
الصّلوة کے تین معانی بیان کئے گئے ہیں:
   ہمیشہ ادا کرنا        پوری حدود اور شرائط کے ساتھ ادا کرنا       بروقت ادا کرنا
وَمِمَّا رَزَقنٰھُم یُنفِقُوْنَ: یہ متقین کی تیسری نشانی ہے کہ ہمارے دیئے ہوئے رزق سے خرچ
کرتے ہیں یا ہمارے عطا کردہ علم سے لوگوں کو سکھاتے ہیں گویا رزق سے مراد یہاں عام
ہے خواہ مالی ہو یا بدنی ہو یا علمی ہو، یعنی مالی رزق سے فقرا ومساکین کی خبر
گیری کریں لہذا زکوٰة و خمس و تمام صدقاتِ مالیہ واجبہ و مستحبہ اس میں داخل ہیں
اور بدنی رزق سے بھی محتاجوں کی امداد کریں مثلاً بینا کو چاہیے کہ بوقت ضرورت
نابینا کی دستگیری کرے، تندرست کو چاہیے کہ بیمار کی عیادت و تیمارداری کرے، قوی
کو چاہیے کہ ضعیف کی امداد کرے، صاحب اعضائے صحیحہ پر لازم ہے کہ بے دست و پا  اور اپا ہج لوگوں کی فریاد  رسی کرے
وعلی ھٰذالقیاس
یہ نعماتِ بدنیہ اللہ تعالیٰ
کا عطا کردہ رزق ہیں اور اِن کا خرچ یہی ہے کہ جو لوگ اِن نعمات سے محروم ہیں اُن
کی امداد و اعانت کی جائےاِسی طرح علمی رزق کو بے علم لوگوں پر خرچ کرنا واجب ہے،
عالم کا فریضہ ہے کہ جہلا کو علوم واجبہ شرعیہ کی تعلیم دے-
عبادات میں سے متقین کی
نشانیاں صرف یہی دو(نماز کی ادائیگی اور دئیے ہوئے رزق سے خرچ)بیان فرمائی ہیں
شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ جملہ عبادات سے یہ دو باتیں اہم ترین ہیں، بلکہ جو شخص ان
دوعبادتوں کو اپنے پورے حدود و شرائط کے ساتھ ادا کرے تو باقی تمام واجبات ان کے
اندر آجاتے ہیں اور تمام گناہوں سے وہ خود بخود کنارہ کش ہو جاتا ہے کیونکہ صحیح
معیار پر نمازکا قائم کرنا جملہ حقوق ُاللہ کے ادا کرنے کی دعوت دیتا ہے اور رزقِ
خدا سے صحیح خرچ کرنا جملہ حقوق ُالعباد میں تصرفِ بے جا سے بچاتاہے، پس ان دو
عبادتوں کی صحیح ادائیگی تمام واجباتِ فرعیہ کی ادائیگی کی تفصیلی دعوت ہے اور ان
دو کا ترک کرنا تمام محرماتِ شرعیہ کا پیش خیمہ ہے اس لیے متقین کی عملی زندگی میں
ان دوعبادتوں کو خصوصیت سے ذکر کر دیا گیا-

نتیجہ

قرآن ہدایت ہے متقین کے لیے
یعنی قرآن سے صحیح تمسک وہی رکھتے ہیں جو متقی ہیں اسی طرح اہل بیت
متقین کے آئمہ ہیں یعنی اہل بیت سے صحیح تمسک وہی رکھتے ہیں جو متقی ہوں،تو معلوم ہوا کہ قرآن واہل بیت ہر دو سے صحیح تمسک رکھنے والے ہی متقی ہوتے ہیں اور متقین کی نشانیاں وہی ہیں
جو خداوند کریم نے بیان فرمائی ہیں، پس معلوم ہوا کہ صرف زبانی دعویٰ قرآن و اہل
بیت
سے تمسک کرنے کا کافی نہیں جب تک کہ عملی تصدیق ساتھ نہ ہو-
وَالَّذِینَ یُومِنُونَ بِمَااُنزِلَ اِلَیکَ: متقین کی چوتھی علامت یہ ہے کہ آپ پر نازل شدہ چیز یعنی
قرآن مجیداوراس کے جملہ احکام پر ایمان رکھتے ہیں-
وَمَآ اُنزِلَ مِن قَبلِکَ: اورآپ سے پہلے جو کتابیں نازل کی گئی ہیں ان پر بھی ایمان
رکھتے ہیں-
وَبِالاٰخِرَةِ ھُم یُوقِنُونَ : اورمتقین کی پانچویں نشانی یہ ہے کہ آخرت کایقین رکھتے ہیں-
اُولٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّن رَّبِّھِم: یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پر ہیں یعنی متقین جن
کی پانچ علامتیں مذکور ہوئی ہیں قرآنی ہدایت پر عمل کرنے والے یہی لوگ ہیں-
وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ المُفلِحُونَ : اور روزِ قیامت
یہی رستگاری حاصل کرنے والے ہیں-


[1]
تفسیر عیاشی
[2] البرہان ج۱ ص۵۳ ، اکمال الدین ، معجم
الاحادیث الامام المہدی ص۱۲
[3]
کمالالدين و تمام النعمه ج۲ ص ۳۴۰ ،  برہان ج۱ ص۵۳
[4]
بحار الانوار ج ۵۲ ص۱۴۳ ،  ینابیع المودۃ ج۳ ص۱۰۱

Similar Posts

  • یاعلیؑ مدد

    یاعلیؑ مدد سوال: ہر وقت، ہر مقام پر حاضروناظر ہونا خداوند کریم کی ذات سے مخصوص ہے اور اس میں کسی اورکو شریک کرنا کفر وشرک ہے لہذا شیعوں کا یاعلیؑ مدد اور یاعباس ؑادرکنی کہنا وغیرہ ناجائز وشرک ہے؟ جواب(۱): خدا سے جو صفت اختصاص رکھتی ہے ہمارا اعتقاد ہے کہ واقعی اس میں…

  • ظہور قائم آلِ محمد

    احادیث ظہور قائم آلِ محمد ، رکوع نمبر 2 وَلِکُلِّ وِجْھَۃٌ الخ  ۱۹۳اس آیت کے متعدد معانی کئے گئے ہیں ایک وہ جو زیر آیت موجود ہے ۲ وِجْھَۃٌ  کا معنی طریقہ یعنی ہر نبی اورصاحب ملت کیلئے ایک ہی طریقہ ہے جس پر وہ عامل رہاہے اوروہ طریقہ اسلام ہے اگر چہ وقتی مصالح کے لحاظ…

  • اسماعیل وہاجرہ کی ہجرت ، زمزم کا ظاہر ہونا، وصیت ابراہیمی

    اسماعیل وہاجرہ کی ہجرت تفاسیرمعتبرہ میں حضرت امام جعفر صادق سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم علاقہ شام میں سکونت پزیر تھے، جب جناب ہاجرہ کے شکم سے حضرت اسماعیل کا تولد ہوا تو حضرت ابراہیم کی زوجہ حضرت سارہ بہت مغموم ہوئیں کیونکہ اُن کے ہاں اولاد نہیں تھی پس وہ حضرت ابراہیم کو…

  • پانچ نکات

    پانچ نکات •       کافرین کے متعلق یہ پیشین گوئی ہے کہ ان کو ڈراوٴ یا نہ ڈاروٴ ایمان نہیں لائیں گے حرف بحرف سچی ثابت ہوئی اوریہ قرآن مجید کے معجزہ ہونے اورپیغمبر ﷺکے صادق ہونے کی واضح دلیل ہے- •       سَوَاءٌ عَلَیھِم  فرمایا یعنی ان کی ہٹ دھرمی اورسوئےاختیار کی بنا پر تیرا ڈرانا…

  • تفسیر رکوع ۲ — منافقین کا ذکر

    تفسیر رکوع ۲ — منافقین کا ذکر وَ مِنَ النَّاسِ مَن یَّقُولُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا ھُمْ  بِمُوْمِنِیْنَ (8) یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیْنَ اَمَنُوْا وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّا اَنفُسَھُمْ وَ مَا یَشعُرُوْنَ (9) فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ فَزَادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ مبِمَا کَا نُوْا یَکْذِبُوْنَ (10) وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا…

  • غیر کا مال کھانا حرام ہے

    غیر کا مال کھانا حرام ہے  ولاتاکلوااموالکم یعنی باطل اورغلط طریقہ سے ایک دوسرے کا مال نہ کھاو شرعی جائز طریقہ کے علاوہ اورجس طریقہ سے انسان کو ئی مال حاصل کرے وہ سب باطل ہے چوری ڈاکہ ٹھگی دھوکا جوابازی رشوت غصب نااجائز بیع وشرا ء خیانت وغیرہ ان تمام کے ذریعہ مال کا حاصل کرنا باطل اوراس کا کھانا حرام ہے  امام محمد باقرسے مروی ہے کہ جھوٹی قسم کے ذریعہ سے مال حاصل کرنا باطل ہے  بعض کتب میں مروی ہے کہ اگر انسان قرض لے اورنیت ادائیگی کی نہ رکھتا ہو تو وہ بھی باطل میں داخل ہے  وتدلو ابھا الی الحکام   ابو بصیر سے مروی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا اے ابو بصیر تحقیق اللہ کو علم تھا کہ امت میں حکام جو رہوں گے پس اس آیت میں اس نے حکام عدل مراد نہیں لئے بلکہ حکام جو ر مراد لئے ہیں اے ابو محمد اگر تیرا کسی شخص پر کچھ حق ہو اورتو اس کو حکام عدل کے فیصلہ کی طرف دعوت دے اوروہ تجھے حکام فور کی طرف جانے کے لئے مجبور کرے تو البتہ وہ طاغوت کے فیصلہ کو ماننے والاہے اس کے بعد آپ نے ایک آیت پڑھی جس کا مطلب یہ ہے کہ بعض لو گ ایسے ہیں جو قرآن اورسابقہ کتابوں پر ایمان لانے کے دعویدار ہیں حالانکہ اپنے فیصلے طاغوت کی طرف لے جانے کے خواہشمند ہوتے ہیں  مسئلہ   حاکم جائز کی طرف مقدمہ لے جانا حرام ہے اوراس کے فیصلہ سے جو مال حاصل ہو وہ بھی حرام ہے خواہ واقع میں یہ اس کا حقدار ہی کیوں نہ ہو  وماتوفیقی الا باللہ العلی العظیم وھو حسبی ونعم الوکیل  اللھم صل علی محمد وآل محمد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *