جنادہ بن کعب
وارد ہوا اور حملہ اولیٰ میں شہید ہوا۔
(۱) انس بن حارث کاہلی (۲)بکر بن حی ثعلبی (۳)جابر بن عروہ غفاری (۴)جنادہ بن حارث انصاری (۵) جنادہ بن بنہان (۶)حبیب بن مظاہر اسدی (۷) ربیعہ بن خوط (۸)زاہربن عمرواسلمی (۹)زیادبن عریب ہمدانی (۱۰) سعد بن حارث (۱۱)شبیب بن عبداللہ بن حارث (۱۲)عبدالرحمن بن عبدربہ انصاری (۱۳)عبدالرحمن الارحبی (۱۴)عقبہ بن صلت جہنی (۱۵)…
مختارکے کوفہ میں داخلے سے بنی اُمیہّ کو جان کے لالے پڑگئے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ شیعان علی ؑ سب مختار کے ہمنواہیں، پس عمر سعد اورشبث بن ربعی اوردیگر ہوا خواہانِ بن اُمیہّ عبداللہ بن یزیدکے پاس جمع ہوئے جو اس وقت ابن زبیر کی جانب سے کوفہ کا گورنر تھا اوراسے اطلاع…
زیارت ناحیہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے۔
شہردمشق بنی اُمیہ کا پایہ تخت تھا اورمعاویہ سے لے کر بنی امیہ کے آخری بادشاہ مروان حمار تک اسلامی حکومت کا دارالسلطنت رہا، اس زمانہ میں شام مملکت اسلامیہ کا ایک صوبہ تھا جس میں لبنان۔۔ فلسطین اوراردن وغیرہ کے علاقے داخل تھے اورپوری عرب آبادی میں یہ علاقہ نہایت زرخیز تھا اورخلیفہ دوّم…
صبح عاشور جب شہزادہ علی اکبر ؑ نے دیکھا کہ باپ تنہاہے اورقربانی کے بغیر چارہ نہیں حاضر خدمت ہوکرطالب اذنِ جہاد ہوا، پس امام عالیمقام ؑ نے اجازت دی ثَمَّ نَظَرَاِلَیْہِ نَظْرآئِسٍ مِنْہُ وَاَرْخٰی عَیْنَیْہِ وَبَکیٰ (ملہوف) امام مظلوم ؑ نے اپنے نوجوان فرزند کو سرسے پاؤں تک ایک مرتبہ مایوسانہ نگاہوں سے دیکھا…
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے لیکن ’’ناسخ‘‘ سے منقول زیاد بن مصاہر کندی ہے جس نے لشکر اعدا پر حملہ کر کے نو (۹)افراد کو فی النار کیا اور پھر شہید ہوا ۔۔۔ واللہ اعلم