حکم جہاد

حکم جہاد

وَقَاتِلُواْ
فِي سَبِيلِ اللّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّهَ
لاَ يُحِبِّ الْمُعْتَدِينَ {البقرة/190}وَاقْتُلُوهُمْ
حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ
أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلاَ تُقَاتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى
يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ فَإِن قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذَلِكَ جَزَاء
الْكَافِرِينَ {البقرة/191}

اور لڑو اللہ کی راہ  میں  ان
لوگوں سے  جو تم سے لڑیں  اور تجاوز 
نہ کرو  تحقیق اللہ کو پسند
نہیں  جو تجاوز کریں 0 اور ان کو قتل
کرو  جہاں 
ان کو پاؤ  اور نکال  دو ا ن کو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا اور
فتنہ زیادہ سنگین (جرم) ہے  قتل سے  اور نہ لڑو ان سے مسجد الحرام کے  پاس یہاں تک کہ  وہ لڑیں تم سے 
اس میں  پس اگر  وہ تم سے لڑیں تو تم انکو قتل کرو اسی طرح
جزا  ہے کافروں  کی 0
وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ
اللّٰہِ:شانِ نزول کے متعلق تفسیر مجمع البیان میں ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ آیت
صلح حدیبیہ کے بارے میں نازل ہوئی کہ جب آنحضر ت بمعہ اپنے چودہ سو (1400) اصحاب
کے عمرہ ادا کرنے کے لئے مقام حدیبیہ پر فرو کش ہوئے تو مشرکین نے مکہ کے داخلے سے
روک دیا چنانچہ آپ نے قربانیوں کو وہاں نحر کردیا اورمشرکین سے اس شرط پر صلح ہوئی
کہ اس سال واپس پلٹ جائیں اوراگلے سال تشریف لائیں اوریہ طے ہوا کہ مشرکین تین روز
کے لئے وہاں سے نکل جائیں گے اورآنحضرت اپنے مناسک حسب منشاادا فرمائیں گے، پس
حضور واپس مدینہ تشریف لائے اوراگلے سال عمرہ قضا کے لئے بمعہ صحابہ تیار ہوکر
روانہ ہوئے لیکن یہ ڈر تھا کہ کہیں مشرکین اپنے عہد کو تو ڑ کر رکاوٹ پیدا کر کے
لڑائی نہ چھیڑدیں؟ اورمہینہ کی حرمت کا خیال بھی ساتھ تھا پس یہ آیتیں اُتریں کہ
جو لوگ تم سے لڑائی کی ابتداکریں ان سے بےشک لڑائی کرو اوراس سے تجاوز نہ کرو صلح
حدیبیہ کی تفصیل تفسیر ہذا کی جلد 13 صفحات 61تا66 اور ص72تا76 پر ملاحظہ فرمائیں۔
فَاِنِ
انْتَھَوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْر رَّحِیْم ( 192) وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّی لا
تَکُوْنَ فِتْنَة وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ  فَاِنِ انْتَھَوْا فَلا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَی
الظّٰلِمِیْنَ(193) اَلشَّھْرُ الْحَرَامُ بِالشَّھْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمٰتُ
قِصَاص فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی
عَلَیْکُمْ  وَاتَّقُوا اللّٰہَ
وَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ ( 194) وَاَنْفِقُوْا فِیْ
سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلٰی التَّھْلُکَةِ  وَاَحْسِنُوْا  اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ( 195)
ترجمہ:
پس اگر باز آجائیں تو تحقیق اللہ
بخشنے والارحم کرنے والاہے
o اوران سے
لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اوراللہ کا دین (عام) ہوجائے پس اگر بازآجائیں تو
نہیں جائز ہے کوئی زیادتی مگر ظالموں پر
o حرمت
والامہینہ بدلے حرمت والے مہینے کے ہے اورحرمتیں ایک دوسری کا بدلہ ہیں پس جو
زیادتی کرے تم پر تو تم بھی زیادتی کر سکتے ہو اس پر جس قدر اس نے زیادتی کی ہو تم
پر اوراللہ سے ڈرو اوریقین جانو کہ اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے
o اورخرچ کرو اللہ کی راہ میں اورنہ بڑھااپنے ہاتھ طرف ہلاکت کے اورنیکی کرو
تحقیق اللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتاہے
o
فَاِنِ انْتَھَوْ: اگر وہ تائب ہو
جائیں تو خداان کی سابقہ لغزشوں کو معاف فرمادے گا اوران کی تو بہ مقبول ہوگی۔
فَلا عُدْوَانَ اِلَّا: اس آیت میں
ظالمین کی باطنی تاویل حضرت امام حسین ؑ کے قاتلین اوران کی اولاد سے کی گئی ہے
چنانچہ تفسیر برہان میں اس مضمون کی متعدروایات منقول ہےں:
عبدالسلام بن صالح ہروی کہتا ہے کہ
میں نے حضرت امام رضا ؑ کی خدمت میں عرض کیا کہ امام جعفر صادقؑ سے مروی ہے کہ جب
حضرت قائم آلِ محمدعجّل اللّٰہ فرجہ تشریف لائیں گے تو حضرت امام حسین ؑ کے قاتلین
کی اولاد سے قصاص لیں گے اوران کو قتل کریں گے کیا یہ درست ہے؟ تو آپ ؑ نے
فرمایاکہ ہاں درست ہے میں نے عرض کیا کہ خدافرماتا ہے لا تَزِرُ وَازِرَة وِزْرَ
اُخْرٰی کا پھر کیا مطلب ہے ؟ تو آپ ؑنے فرمایا کہ خدانے سچ فرمایاہے، لیکن امام
حسین ؑ کے قاتلوں کی اولاد اپنے باپ دادا کے فعل پر راضی ہے اوران کے فعل پر فخر
کرتے ہیں اورجو شخص کسی کے فعل پر راضی ہو تو وہ بھی اسی جیسا مجرم ہوا کرتا ہے
یہاں تک کہ اگر ایک شخص مشرق میں کسی کو قتل کرے اورمغرب میں رہنے والاشخص اس پر
راضی ہو تو وہ بھی اس میں برابر کا شریک ہے، پس حضرت قائم آلِ محمد عجّل اللّٰہ
فرجہان کو اس لئے قتل کریں گے کہ وہ اپنے باپ دادا کے فعل پر راضی ہوں گے۔
وَ الْحُرُمَاتُ قِصَاص: اس کے معنی
میں دووجہیں بیان کی گئی ہیں:
(1) قریش نے اس بات پر فخر کیا تھا
کہ ہم نے رسول اللہ کو ماہِ ذیقعدہ میں بحالت احرام واپس کر دیا ہے اوران کو مکہ
میں داخل نہیں ہونے دیا خداوندکریم نے اسی ماہ میں باذنِ قتال مکہ میں داخل ہونے
کا حکم دیا تاکہ یہ پہلے سال کا عوض اورحرمت والے مہینہ میں واپسی کا بدلہ حرمت
والے مہینہ ہی کا داخلہ ہوجائے۔
(2) حرمت حرمت کا بدلہ ہے، اس کا یہ
مطلب ہے کہ اگر کوئی حرمت والے مہینہ کا احترام نہ کرتے ہوئے خواہ مخواہ تمہیں
چھیڑے تو تم بھی اس سے بیشک لڑو اور کوئی تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس کو جیسے
کا بدلہ تیسا اسی ماہ میں دے سکتے ہو۔

Similar Posts

  • اۤل محمد ابواب اللہ ہیں

     یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَھِلَّةِ  قُلْ ھِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ وَلَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوتَ مِنْ ظُھُوْرِھَا وَلَکِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰی  وَاْ تُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِھَا  وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن ( 189) وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوا اِنَّ اللّٰہَ لا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ( 190) وَاقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّن حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ…

  • پارہ2 رکوع 8

    یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَھِلَّةِ  قُلْ ھِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ وَلَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوتَ مِنْ ظُھُوْرِھَا وَلَکِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰی  وَاْ تُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِھَا  وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن ( 189)  ترجمہ : آپ سے دریافت کرتے ہیں پہلی رات کے چاندوں کے متعلق فرمادیجئے کہ یہ تعیین اوقات کا ذریعہ ہیں لوگوں کے لئے، اورحج…

  • رکوع 9 — نکتہ علمیّہ

    رکوع 9 حج کے مہینے اَلْحَجُّ اَشْھُر مَّعْلُوْمٰت حج کے مہینے تین ہیںشوال ذوالقعدہ ذوالحجہ لہذا حج تمتع کے عمرہ کا احرام ماہِ شوال سے پہلے نہیں باندھا جاسکتا۔  فَمَنْ فَرَضَ: اپنے اوپر حج فرض کرنے سے مراد ہے کہ جس شخص نے حج کا احرام باندھ لیا تو پھر آئندہ ذکر ہونے والی چیزوں…

  • تتمہ تمام اورکمال میں فرق

    تتمہ تمام اورکمال میں فرق   تمامیت: کسی مرکب کے بعض اجزاشروع ہو جانے کے بعد اس کے آخری جز تک انضمام کانام ہے۔ کمال: تمامیت کے بعد ایک وصف کے ساتھ اس کامتصف ہو نا جس پر اس شئے کے آثار کا ترتب موقوف ہو مثلاًانسان کے تمام اجزاکاپورے طور پر موجود ہونا یہ اس…

  • اختلاف کا علاج

    اختلاف کا علاج  کَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً: لوگ ایک امت تھے یعنی اصل فطرت کے لحاظ سے ان میں یگا نگت واتحاد تھا اورتمدن ان کی عین جبلت تھا لیکن ان کو اختلاف وانتشار نے بے راہ روی اور امن سوزی کے تاریک گڑھے میں ڈال کر وحشت زدہ اور دحشت خوردہ بنا دیا لہذا…

  • تفسیر رکوع 10 — ربط آیات

    تفسیر رکوع 10 ربط آیات اصول اسلام بیان کرنے کے بعد خداوند کریم نے یہ فروعی مسائل بیان فرمائے اورعمل کرنے والوں کے لئے وعدہ جنت اورنافرمانی کرنے والوں کے لئے وعید جہنم کاذ کرکیا اوربیان فرمایا کہ لوگوںکی تین قسمیں ہیں:  (1) مومن جو دنیا وآخرت کی بھلائی چاہتے ہوئے نیک اعمال بجالاتے ہیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *