ریڈیو یا ٹیلی ویژن

 ریڈیو یا ٹیلی ویژن

یہ دونوں چیزیں زمانہ حاضہ میں ابلاغ عامہ کے بہترین ذرائع میں سے ہیں ۔ ان کے
ذریعے سے اسلامی حقائق اور اس کی تعلیمات کو بڑی آسانی سے عام کیا جا سکتا ہے نیز
عالمی حالات دنیا کے ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک فوری طور پر پہنچائے جا سکتے ہیں
اور لوگ ایک دوسرے کی ہمدردی کا فریضہ باحسن طریق ادا کر سکتے ہیں لیکن نہایت
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دور حاضر کی عیاش طبع پود نے ان کی افادیت کو نظر انداز
کر کے اسے گانے بجانے تک ہی تقریباً محدود کر دیا ہے تلاوت قرآن یا ترجہ یا ملکی
خبریں برائے نام ہی رہ گئی ہیں ورنہ دن رات کے چوبیس گھنٹے رقص و سرود کے لئے وقف
کئے جاتے ہیں ۔

اس بناء پر ان کی اصلی غرض وضع چونکہ افادی پہلو کے پیش نظر ہے لہذا افادی
پہلو کے اعتبار سے ان کی خرید و فروخت بھی جائز ہے اور ان کا گھر میں رکھنا بھی
ردست ہے کیونکہ ان کو آلات لہو و لعب سے شمار نہیں کیا جا سکتا  لیکن گانا بجا سننا ناجائز ہے اسی طرح ناچ
دیکھنا بھی حرام ہے صرف خبروں یا دیگر جائز مقاصد کے لئے اس کو استعمال کیا جا
سکتا ہے ۔

 

Similar Posts

  • استمناء

    استمناء (یعنی ہر وہ فعل جس سے بوجہ شہوت منی نکل آئے ) ایک شخص نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ اگر کوئی کسی حیوان سے بد فعلی کرے یا اپنے آلہ کو رگڑے ؟ آپ نے فرمایا ہر وہ فعل جس سے منی نکل آئے یہ یا اس جیسا کوئی…

  • ذاکری

       ذاکری اس مقام کا بیان کرنا اگرچہ  بہت سخت ہے اور دور حاضر کی ذاکری روش نے  اس کو افسوس ناک حالت  تک جاپہنچایا ہے لیکن  اپنی ذمہ داری کے احساس کے ماتحت عرض کرنا بھی ضروری  ہے خداکرے اس کی استفادہ کی نیت سے دیکھاجائے نہ کہ  نکتہ چینی کی نظر  سے اس…

  • لواء الحمد

    لواء الحمد  بروایت بحارالانوار حجرت پیغمبرؐ  سےمنقول ہے فرمایا  یاعلؑی تمام امتوں  میں سے سب سے پہلے میری امت کا حسابہوگا اور بروز محشر سب سے پہلےنداتجھے آئے گی اور تجھےمیرا جھنڈا دیاجائے گا جس کانام لواء الحمد  ہے اور آدم سےلے کر آخر  تک تمام مخلوق میرے جھنڈے  کےسایہ کے نیچے  ہوگی جس کی…

  • الزام تراشی اور عیب جوئی

     الزام تراشی اور عیب جوئی اپنی دوکان کو چمکانے اور دوسروں کو زیر کرنے ، گرانے اور بد نام کرنے کے لئے اپنی عیب پوشی اور دوسروں کی عیب جوئی کی جاتی ہے اپنے اندر نہ ہونے والی خوبی کو خوبی ظاہر کیا جاتا ہے اور دوسروں کی واقعی خوبی چھپایا جاتا ہے بلکہ اپنی…

  • صدق

    صدق یعنی سچائی  اور اس کے تین مراحل ہیں نیت  میں سچائی  قول میں سچائی اور عمل میں سچائی  اور پوراسچاانسان وہہے جو تینوں مراحل میں صادق ہو  کیونکہ نیت میں سچائی ہوگی تو منافقت  سے بچ جائے گا قول میں سچائی ہوگی تو جھوٹ سے بچ جائے گا اور عمل میں سچائی ہوگی توخدا…

  • پرہیز گاری وپاکدامنی

    پرہیز گاری وپاکدامنی  حضرت رسالتماآب  نے فرمایا یاعلی جس میں تین خصلتیں پائی جائیں وہ اللہ کے نزدیک افضل الناس ہے  1 وہ شخص  جو اپنے اوپر عائد شدہ  تمام  فرائض سے عہدہ برآ ہو وہ  بہت بڑا عبادت گزارہے  2 وہ شخص جو اللہ کی حرام کردہ تمام چیزوں سے اپنے آپ کو بچالے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *