ساتواں باب — مدفن سر اقدس امام حسین ؑ
آٹھ اقوال ہیں:
الفراد یس میں مدفون ہے۔
شہرقاہرہ میں مدفون ہے۔
میں دفن کیا گیا۔
کے باہر مسجد حنانہ میں مدفون ہے۔
میں حضرت امیر ؑ کے حرم پاک میں دفن ہے، چنانچہ سرمبارک کی وہاں ایک زیارت بھی
پڑھی جاتی ہے۔
قافلہ اہل بیت کے سپرُد کیا گیا اوراُنہوں نے آکر کربلامیں دفن کیا، گویا جسم
اطہر کے ساتھ ملحق کیا گیا۔
اسیرانِ اہل بیت نے اپنے ساتھ لاکر جنت البقیع میں جناب بتول معظمہ کی قبر کے پہلو
میں دفن کیا۔
سرہائے شہدأ دمشق میں پہنچے توان کوملائکہ نے اٹھالیا پس وہ عالم بالامیں لے جائے
گئے۔
نمبر ۱ ‘‘ میں ایک روایت ہے زندانِ شام میں وہ سرغائب
ہوگیا اورپھر کسی کو نہ مل سکا، آقائے ذبیح محلاتی نے ’’فرسان الہیجا‘‘میں ذکر
کیا ہے شاید سر مبارک کے مدفن کے متعلق اس قدر زبردست اختلاف کی مصلحت یہ ہوگی کہ
جگہ جگہ سر اقدس کی زیارت گاہیں تعمیر ہوں اورہرجگہ زائر ین پہنچ کرامام ؑ کی
مظلومیت کی داستان کو تازہ کریں اوران کی یاد جگہ جگہ مومنین کے دلوں میں ہر وقت
قائم رہے؟
