حصین بن نمیر لعنہٗ اللہ
علمبردار تھا حکم دیا کہ ابرہیم کے لشکرہ کے میسرہ پر یکبار گی حملہ کریں، چنانچہ
انہوں نے حملہ کیا اور ایک ہی حملے میں ابرہیم کی فوج کے کافی سپاہی مارے گئے، پس
حصین میدان میں آگے کو بڑھا اور رجز پڑھ کر مبارزطلبی کرنے لگا تو ابراہیم کی فوج
سے شریک تغلبی شعلہ جوالہ بن کر اس کے مقابلہ میں پہنچا ان دونوںکے درمیان مقابلہ
بڑے زور وشور کا ہوا کافی ردّو بدل کے بعد تغلبی جوان نے حصین بن نمیر کو واصل
جہنم کیا۔
اس کا بڑا ہاتھ تھا اور کربلا میں امام مظلوم ؑ پر اس کا تشدد حدّواندازہ سے زیادہ
تھا، یہ شخص واقعہ حر ّہ کے مظالم میں پیش پیش تھاو ر ابن زبیر کے ساتھ جنگ میں
بیت اللہ کی توہین میں یہ حرا مزادہ نمایاں کردار کا مالک تھا۔
