سعد مولیٰ عمرو بن خالد صیداوی
مسہر صیداوی نے امام ؑ پیغام پہنچایا تو یہ شخص اپنے آقا عمرو اور دیگر ہمراہیوں
کے ہمراہ امام ؑ کے ساتھ جا ملا اور روز عاشور شہید ہوا۔
ان کے شہدائے کربلا میں درج ہونے میں اختلاف ہے لیکن بہت سے علمائے تاریخ مثلاً ابن شہرآشوب، ابومخنف، علامہ مجلسی، مامقانی، شیخ عباس قمی اورصاحب ناسخ نے ان کو شہدائے کربلا میں سے شمارکیا ہے، جیساکہ مناقب، بحارالانوار اورنفس المہموم میں ہے ان کی والدہ ماجدہ صہبا تغلبیہ تھیں جن کی کنیت اُمّ حبیبہ…
جب ابن زیاد نے ابن سعد کو خط لکھ کرشمر کے حوالہ کیا جس کا مضمون یہ تھا: اگرامام حسین ؑ یزید کی بیعت نہ کرے تو فور اًاس کو قتل کردیاجائے! اس وقت ایک شخص عبداللہ بن ابی محل وحیدی نے کھڑے ہوکر درخواست کی کہ حضرت امیر المومنین علی ؑ بن ابیطالب نے…
زیارت ناحیہ و رجبیہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے دیگر تفصیلی حالات معلوم نہیں ہو سکے۔
یہ شخص حضرت سید الشہدأ کا غلام تھا زیارت رجبیہ وناحیہ میں اس پرسلام واردہے۔ ’’ربیع الابرار۔۔زمحشری‘‘ سے مروی ہے کہ حضرت امام حسین ؑنے نوفل بن حارث سے ایک کنیز خریدی تھی جس کا نام حُسنیہ تھا ااور آپ ؑ نے اس کی شادی سہم نامی ایک شخص سے کردی تھی اوراس سے منحج…
یہ حضرت ابوالفضل عباس ؑ کا یک مادری بھائی امّ البنین کا لخت جگر تھا، اس کی عمرواقعہ کربلامیں ۲۹برس تھی حضرت امیر ؑ نے اپنے بھا ئی حضرت جعفر طیارکی یاد میں اس فرزند کا نام جعفر رکھا تھا۔۔۔۔ ’’اعیان الشیعہ‘‘ سے مروی ہے کہ امّ البنین کی اولاد میں سے پہلے عبداللہ شہید…
یہ زہیر بن قین کا چچازاد بھائی تھا۔۔۔ جس وقت وہ امام ؑ کی خدمت میں آیا تھا اس وقت سے یہ بھی امام ؑ کے ہمرکاب ہو گیا تھا اور روز عاشور درجہ رفیعہ شہادت پر فائز ہوا۔