سورہ آلِ عمران
(200) ہیں اور بسم اللہ کو شامل کر کے کل تعداد دو سو ایک (201) ہو گی
السلام سے مروی ہے کہ جو شخص سورہبقرہ اور سورہآلِ عمران کو پڑھے گا تو بروز محشر
یہ دونوں سورتیں اس کے سر پر مثل بادل کے سایہ فگن ہو ں گی
منقول ہے کہ جو شخص سورہ آلِ عمران کو جمعہ کے دن پڑھے گا تو غروب شمس تک اس پر
اللہ کی رحمت برستی رہے گی اور ملائکہ اس کے لئے استغفار کرتے رہیں گے
جس عورت کو حمل نہ ہوتا تو اِس سورہمبارکہ کو زعفران سے لکھ کر اس کے گلے میں ڈالا
جائے تو اسے حمل ہو گا اور اگر کسی کھجور یا درخت پر پھل گرا دیتا ہویا اس کے پتے
گر جاتے ہوں اگر لکھ کر یہ سورہ لٹکائے تو اس کے پھل پتے گرنے سے رک جائیں گے
(باذنِ خدا)
صادق علیہ السلام سے مروی ہے اگر تنگدست آدمی اس کو لکھ باندھے تو اس کی روزی فراخ
ہو گی اور خدا وند کریم اس کو رزق وسیع عطا فرمائے گا
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اِلہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ (2) نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ
بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰةَ
وَالْاِنْجِیْلَ (3) مِنْ قَبْلُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ اِنَّ
الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَھُمْ عَذَاب شَدِیْد وَاللّٰہُ عَزِیْز
ذُوانْتِقَامٍ (4) اِنَّ اللّٰہَ لا یَخْفٰی عَلَیْہِ شَیْئ فِی الْاَرْضِ وَلا
فِی السَّمَآئِ (5)ھُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآئُ
لآ اِلہَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (6)
ٓo اللہ کہ
اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں جو حی ّ و قیّوم ہےo اتاری اس نے آپ پر کتاب
برحق جو تصدیق کرنے والی ہے (ان کتابوں) کی جو اس سے پہلے ہیں اور اتارا تورات و
انجیل کوo اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لئے اور اتارا فرقان کو تحقیق جو
لوگ کفر کرتے ہیں اللہ کی آیات سے ان کے لئے عذاب ہے سخت اور اللہ غالب اور بدلہ
لینے والا ہےo تحقیق اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میںo اور وہی ہے جو تمہاری
صورتیں رحم مادر میں جیسی چاہتا ہے بناتا ہے کوئی لائق عبادت نہیں مگر وہی جو غالب
حکمت والا ہےo
البیان میں ابن عباس سے مروی ہے کہ اَلْحَیُّ الْقَیُّوم اسم اعظم ہے، حضرت آصف بن
برخیانے اسی کے ذریعہ سے دعا مانگ کر بلقیس کا تخت ملک سبا سے چشم زدن میں حضرت
سلیمان ؑ کے لئے حاضر کیا تھا۔
علیہ السلام سے منقول ہے کہ قرآن ساری کتاب ہے اور فرقان سے مراد وہ آیات ہیں جو
محکم اور واجب العمل ہیں۔
