شان نزول
محدثین کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جب سورہ برات نازل ہوئی تو حضرت رسالت ماب
نے اہل مکہ کو حکم خداوندی سنانے کےلئے حضرت ابوبکر کو مامور فرمایا اور پھر ان کو
اس عہدہ جلیلہ سے معزول کرکے حضرت علیؑ کو متعین
فرمایا اس کی تفصیل میں الفاظ روایات میں قدرے اختلاف ہے لیکن مقصد سب کا ایک ہے کہ حضور نے ابوبکر کو روانہ
فرمایا کہ سورہ برات کی دس اۤیتیں ان کے سامنے جاکر پڑھے اور ان کے ساتھ کئے ہوئے عہدوپیمان کو منسوخ کردے اور پھر حضرت
علیؑ کو روانہ فرمایا کہ حضرت ابوبکرسے عہدہ لے کر خود جائے چنانچہ حضرت علی ؑ
جناب رسالت ماب کی مخصوص سواری ناقہ عضباء
پر سوار ہو تیزی سے روانہ ہوئے اور مقام ذوالحیلفہ یاعرج
یاضخبان یاحجفہ پر انکو جاملے اور ان کو اپنی معزولی کا مذدہ سنا کر اپنے
عہدہ کا چارج سنبھالا اور اۤگے روانہ ہوئے کہتے ہیں حضرت ابوبکر واپس ائے اور خدمت نبوی میں پہنچ
کر عرض کی کہ حضور کیا میرے حق میں کوئی
سرزنش کی قسم کی آیت تو نہیں اُتری آپ ﷺنے فرمایا نہیں کوئی بات نہیں لیکن یہ
اعلان چونکہ میری طرف سے ہے لہذااس کو میں
نے ہی پہنچانا ہے یامیری جانب سے صرف وہی
پہنچاسکتاہے جو مجھ سے ہو روایت کے لفظ یہ
ہیں لَایُؤَدِّیْ عَنِّیْ اِلَّا اَنَا
اَوْ رَجُلٌ مِّنِّیْ اور یہ روایت اکابر صحابہ
سے مروی ہے
السلام جب جناب رسالتمآبؐ پر سورہ
برات کی دس اۤیتیں اُتریں تو اۤپ نے ابوبکر کوبلایا تاکہ اہل مکہ کے سامنے
پڑھے پھر مجھے بلایا اور فرمایا جلدی سے
جاؤ ابوبکر کو جس مقام پر ملو اس سے کتاب لے لو
اور خود جاکر اہل مکہ کو سناؤ پس میں مقام حجفہ پر جاملا اور ان سے کتاب لےلی ابوبکر واپس ائے اور عرض
کی یارسول اللہ کیا میرے بارے میں کچھ اُترا ہے تو آپؐ نے فرمایا نہیں بلکہ جبریل
پہنچا ہے اور اس نے اطلاع دی ہے کہ آپؐ خود پہنچائیں یاوہ شخص پہنچائے جو تجھ
سے ہو
کنزالعمال ج 1 ص247 مسند احمد ج
1 ص151 تفسیر
شوکانی ج 2 ص319 تاریخ ابن کثیر ج 5 ص38
وج7 ص357 عینی شرح بخاری
ج 8 ص637 خصائص نسائی
ص2 میں ہے کہ ابوبکر غمگین واپس
آئے اور پوچھا کہ کیا میرے بارے میں کچھ
اُترا ہے تو آپؐ نے فرمایا نہی
لیکن مجھے حکم ہوا ہے کہ یاخود پہنچاؤں یا وہ شخص پہنچائے جو میری اہل بیت سے ہو
کی طرف روانہ کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج
نہ کرے گا اور کوئی برہنہ بیت اللہ
کا طواف نہ کرے گا اور جنت میں صرف مسلمان ہی جائے گا اور جس جس کاجناب
رسولؐ خدا کے ساتھ عہدوپیمان ہے تو وہ
اپنی مدت تک رہے گا اور اللہ اور اس کا رسولؐ مشرکوں سے بیزار
ہیں پھر تین روز کے بعد حضرت علیؑ کو
روانہ فرمایا کہ ابوبکر کو واپس بھیج دو
اور خود برات کااعلان پہنچاؤ چنانچہ ایسا
ہی ہوا تو ابو بکر نے خدمت بنوی میں پہنچ
کررودیا اور عرض کی حضور کیامجھ سے کچھ
صادر ہو اہے آپﷺ نے فرمایا نہیں تم سے کچھ
صادر نہیں ہوا لیکن مجھے حکم ہوا ہے کہ خود پہنچاؤں یاوہ پہنچائے
جو مجھ سے ہو
کنزالعمال ج 1 ص 246 کفائی کنجی ص 125 تاریخ ابن کثیر ج 7ص 357
رسالتماب نےابوبکر کو بھجا کہ اہل مکہ میں
مندرجہ بالااعلان کرے پھر علیؑ کو پیچھے روانہ کیا ابوبکر نےراستہ میں ایک مقام پر پیچھے سے جناب
رسالتمآب کی ناقہ قصواء کی اواز سنی تو گھبرا گیا کہ شاید حضورؐ خود ہی تشریف
لارہے ہیں پس حضرت علی ؑپہنچے اور ابوبکر
سے جناب رسولؐ خدا کا نوشتہ لے لیا اور
جاکر اہل مکہ کو سنایا
ج 9ص224 مناقب خوار زمی ص 99
مطالب الئسول ابن طلحہ ص17تفسیر شوکانی ج 2 ص 319
جناب رسالتمآب نے ابوبکر کو برات دی کہ
اہل مکہ کو پہچائے لیکن پھر ان کو واپس بلالیا اور فرمایا کہ یہ اور کوئی نہیں پہنچا سکتا مگر وہ جو میری اہل سے ہو پس علیؑ کو بلایا اور ان کو یہ عہدہ تفویض کیا
دوسری روایت میں ہے کہ جب
ابوبکرذوالحیلفہ پر پہنچ گئے تو حضرت علیؑ کو مامور فرمایا کہ اس کونہ
پہنچائے مگر میں خود یا وہ
جو میری اہل بیت سے ہو
ص283ترمزی ج2ص135خصائص نسائی ص20 تاریخ ابن کثیر ج 5
ص38 تفسیر ابن کثیرج 2ص 333 قسطلانی شرح صحیح بخاری
ج27 ص 126فتح الباری ج8 ص256
عینی ج8 ص637 درمنثور ج3 ص209 وغیرھا
کو یامیں پہنچاؤں یاتم پہنچاؤ پس اپنی
ناقہ عضبا ء پر سوار کرکے روانہ کیا اور راستہ میں انہوں
نے ابوبکر سے وہ عہدہ سنبھال لیا پس ابوبکر کو خوف لاحق ہوا کہ کہیں میرے بارے میں کچھ اترا نہ ہوتو خدمت نبوی میں آکر
عرض کی کہ حضورﷺ کیا بات ہے
الحدیث درمنثور ج ص روح المعانی ج ص وغیرذلک
ابوبکر کو بھیجاتو بعد میں جبریل نازل ہوا کہ یاخود پہنچاؤ یاوہ پہنچائے جو تجھ سے ہو
پس حضرت نے علیؑ کو روانہ
فرمایاجنہوں نے مکہ اور مدینہ
م کے درمیان ابو بکر سے اپناعہدہ سنبھال لیا فتح الباری ج ص
درمنثور ج ص
علیؑ نے بحکم رسولؐ ابوبکر سے عہدہ لے لیا تو ابو بکر غمگین ہوئے جناب رسالت مآب
نے فرمایا اس کو ادا نہیں کرسکتا مگر میں یاوہ جو مجھ سے ہو خصائص نسائی ص
درمنثور ج ص
حارث بن مالک سے روایت کی ہے کہ میں نے
مکہ میں سعد بن ابی وقاص سے ملاقات کی اور پوچھا کہ تو نے علی ؑ کی کوئی فضیلت سنی ہے تو سعد نے جواب دیا کہ میں
حضرت علیؑ کی چار فضیلتوں کا شاہد ہوں کہ اگر ان میں سے میرے لئے ایک بھی ہوتی تو
میں پوری دنیا کی حکومت سے افضل سمجھتا جب
کہ حضرت نوح کے برابر عمر بھی دی جاتی ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضور نے ابوبکر کو برات دے کر مشرکین مکہ
کی طرف روانہ کیا وہ ایک دن رات کا سفر کرچکا تو علیؑ کو فرمایا کہ ابوبکر کو جاکر
ملو اور ان سے وہ لے لو اور خود جاکر پہنچاؤ اور ابوبکر کو واپس میری طرف بھیج دو پس ابوبکر روتا ہو اواپس ایا اور عرض کی یارسول اللہ کیا میرے کیامیرے بارے
میں کچھ اُترا ہے تو آپ نے فرمایا نہیں
بلکہ اچھائی ہے ہاں میری طرف سے نہیں پہنچاسکتا مگر میں خود یاوہ جو مجھ سے ہو یاوہ جو میری اہل بیت سے ہو
عبداللہ بن عمر حبشہ بن جنادہ عمران بن حصین
ابوذر غفاری جابر بن عبداللہ ان سے بھی کتب صحاح میں اسی مضمون کی احادیث
باختلاف الفاظ مروی ہیںٰ تفصیلی بحث
الغدیر ج ص تا ص بہر کیف
ہے تہتر اہل سنت کے علمائے اعلام نے اپنی معتبر تصانیف میں اس حدیث کو تیرہ اکابر صحابہ سے روایت کیا
ہے اگر
چہ جزوی طور پر اختلاف ہے کہ حضرت
علیؑ مقام ضنحبان میں یاعرج میں
یاذوالحلیفہ میں یاحجفہ میں جاکر
ابوبکر سے ملے اور عہدہ ان سے واپس
لیا بہر کیف اس میں شک نہیں کہ حضرت نے
پہلے ابوبکر کو بھیجا تھا اور وحی کے اُترنے کے بعد حضرت علیؑ کو بھیج کر ابوبکر کو اس عہدہ سے معزول کیاگیااس حدیث سےچند نتائج
نکلتے ہیں جوارباب بصیرت کےلئے غور
وفکر کا محل ہیں
کرکے واپس بلالیا گیا
خود پہنچائے یا وہ پہنچائے جو رسولؐ سے ہو
یا رسولؐ کی اہلبیت سے ہو
واپس ائے حتی کہ فرط غم سے رودیا
اللہ کے حکم کےماتحت ہوتاہے
تبلیغ برات کےلئے اللہ کے نزدیک موزوں ہوتے تو ان کی بلاوجہ معزولی خلاف عدل قرار پاتی
نازل ہوئی ہے یامجھ سے کوئی غلطی صادر ہوئی ہے باختلاف روایت اور حضور ؐکا نہیں میں جواب دے کر فرمانا کہ یہ میرا
یامیری اہل بیت کافریضہ ہے یعنی ہم خود ہی اس کے اہل ہیں اس کا صاف مطلب ہے کہ تم کو اس لئے معزول کیا گیا ہے کہ تم اس کے اہل نہیں ہو
ئیتوں کی تبلیغ کےلئے صرف اہل مکہ کا مبلغ نہیں ہو سکتا توکل قرآن کی تبلیغ
کےلئے کل عالم کا مبلغ کیسے بن سکتا ہے
وحیثیت تھی جو خود جناب رسالت مآب کی ہے
واضح اشارہ ہے کہ جو مقام رسولﷺ کےلئے ہے ان کے بعد وہ مقام صرف علیؑ کو ہی زیب دے سکتا ہے چنانچہ یہاں
اپنی سواری عطافرمائی اور شب ہجرت اپنا بستر عنایت فرمایا
01سعد
بن ابی وقاص کیروایت سے معلوم ہوتا ہےکہ لوگ حضرت علیؑ کی فضیلت پر پر دہ ڈالنے کے
عادی تھے اور اس امر کی کوشش کی جاتی تھی کہ حضرت علیؑ کی منقبت لوگوں کے کانوں تک
نہ پہنچ سکے اور ڈھوند نے والے صحابہ رسولؐ
سے علیحد گی اور خلوت میں کچھ نہ کچھ پوچھ
ہی لیا کرتے تھے جیسا کہ حضرت حارث بن
مالک نے ایک ڈھنگ سے سعد بن ابی وقاص سے پوچھا لیا
اور یہ فضیلت اتنی واضح تھی کہ سعد
بن ابی وقاص کو کہنا پڑا کہ پوری روئے
زمین کی حکومت سے یہ فضیلت بہتر ہے
