شبیب بن عبداللہ نہشلی
اور نہروان میں حضرت امیر ؑ کے ہمرکاب رہا، حضرت امیر ؑ کی شہادت کے بعد امام حسن
ؑ کی خدمت میں اور پھر امام حسین ؑ کی خدمت میں رہا تااینکہ واقعہ کربلا میں شہید
ہوا۔۔۔ زیارت ناحیہ اور زیارت رجبیہ دونوں میں اس پر سلام وارد ہے۔
اس نے جناب زینب عالیہ کے بدن پر تازیانہ مارا تھا، پس اس کو ہزار تازیانہ مروا کر داخل آگ کیا گیا کہ وہ جہنم میں پہنچ گیا۔
حضرت سیدالشداؑء کے وہ انصار جوبنی ہاشم میں سے تھے اورکربلا میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے:
یہ شخص جناب رسالتمآبؐ کے صحابہ میں سے تھے۔۔۔ واقعہ کربلا میں کافی سن رسیدہ تھے، انہوں نے جناب رسالتمآبؐ سے حدیثیں نقل بھی کی ہیں۔۔۔ چنانچہ عسقلانی نے ’’اصابہ ‘‘ میں انس بن حارث سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ حضرت رسالتمآبؐ سے اس نے خود سنا تھا کہ خود فرماتے تھے: میرا…
جناب رسالتمآبؐ کے صحابہ میں سے تھا اور حضرت علی ؑ کا تلمیذ رشید تھا، ’’اصابہ‘‘ میں حدیث غدیر مَنْ کُنْتُ مَوْلاہ اسی سے روایت کی گئی ہے اور ’’اسد الغابہ‘‘ میں مذکور ہے کہ عبدالرحمن نے شہادت دی کہ میں نے یہ حدیث جناب رسالتمآبؐ سے اپنے کانوں سے سنی ہے اور ’’اصابہ‘‘ میں…
اس کی عمر ۱۲یا۱۳برس تھی واقعہ کربلامیں شہید ہوا ،زیارت ناحیہ میں ان پر سلام وارد ہے اس محمد کے علاوہ ہے جو کوفہ میں اپنے بھائی ابراہیم کے ساتھ ایک سال قید رہ کر شہید ہوا۔
زیارت ناحیہ و رجبیہ میں اس پر سلام وار دہے اس کا باپ قرظہ صحابی رسول تھا، جنگ احد اور اس کے بعد جتنی جنگیں ہوئیں ان سب میں شریک تھا بعد میں کوفہ میں سکونت اختیار کر لی، پھر جنگ جمل صفین و نہروان میں حضرت علی ؑ کی رکابِ ظفر انتساب میں شامل…