شہادتِ شہزادۂ علی اصغر ؑ
شاہ صاحب قبلہ مدظلّہ العالی کی کتاب مجالس المرضیہ سے نقل کرتاہوں؟
دیکھا کہ لوگ میرے قتل پرآمادہ ہیں توقرآن مجید کو کھول کرسرپررکھا اورباآواز
بلند ندادی:
ہوں۔۔۔ بتاؤ میرے خون کو کیوں جائز سمجھتے ہو؟
جوشدت تشنگی سے رو رہاتھا؟ پس اس کو ہاتھوں پراٹھایا اورفرمایااے قوم اگرتم لوگ
مجھے قابل رحم نہیں سمجھتے تواس بچہ پر تورحم کرو، کیا عرض کروں کہ اس کا جواب کیا
ملا؟ ایک شقی ازلی نے چلّہ کمان سے تیر رہاکیا اوربچہ باپ کی گود میں شہید ہوگیا،
امام ؑنے رودیا اوربارگاہِ خداوندی میں عرض کیا میرے اور اس قوم کے درمیان تو ہی
فیصلہ کرنا جنہوں نے ہمیں دعوت دی اور پھر ہماری نصرت سے دستبردار ہو کر ہمارے قتل
کے درپے ہوئے ؟ ہاتف غیبی کی ایک ندا آئی دَعْہُ یاَ حُسَیْنؑ فَاِنَّ لَہُ
مُرْضِعَۃً فِی الْجَنْۃِ اے حسین ؑفکر نہ کرو اس بچہ کیلئے جنت میں ایک دایہ مقرر
ہے(نفس المہموم ص۱۸۵)
ہوں؟ ایک روایت میں ہے کہ آپ ؑ نے جناب زینب خاتون سے بچہ طلب فرمایا تھا کہ مجھے
شیر خوار لادیجئے تاکہ میں اس سے وداع کرلوں لیکن جب دیکھا کہ پیاس سے اس کے لب
خشک ہیں اور رو رہا ہے توپانی طلب کرنے کی خاطرہاتھوں پراُٹھا کر میدان میں لے
آئے اورشیر خوار کے لئے پانی طلب فرمایا اورارشاد فرمایا:
اس بچے کے سوامیرے پاس اورکوئی باقی نہیں رہا کم ازکم اس کو توپانی پلادو ؟اگر
میرے اوپر تم رحم نہیں کرتے تو اس بچہ پر رحم کرو۔
عرض کرتاہوں کہ ایک تیر جفاگلوئے نازنین کی طرف آیاجس کے صد مہ سے بچہ باپ کی گود
میں ہمک ہمک کر ہمیشہ کی نیند سوگیا۔
حُرملہ بن کاہل اسدی نے تیر مارا جو علی اصغر ؑ کی گردن سے گذرکر امام حسین ؑ کے
بازو میںپیوست ہوگیا، حضرت نے وہ تیر زور سے کھینچا اور حلق علی اصغر ؑ سے بہنے
والا خون اپنے چلّو میںلے کر آسماں کی طرف پھینکا ؟بچے نے پُرارمانِ نگاہ اپنے
باپ کے چہرے پر دوڑائی اور ایک تبسم کرکے آنکھیں بند کر لیں، امام ؑ نے سرد آہ کھینچی
کہ زمین میں زلزلہ آیا پس خیام کی طرف رُخ فرمایا اور قریب پہنچ کر اہل حرم کو
صدادِی کہ لو علی اصغر ؑ حوضِ کوثر سے سیراب ہو چکاہے، جونہی بیبیوں نے آوازسنی؟
سرا سیمہ دو ڑ کر آئیں، حضرت ؑ نے وہ بچہ ماں کی گود میں دیا اس میں شک نہیں کہ
اس دنیاوی پانی کے بدلہ میں امام ؑ حسین ؑکو چارقسم کے پانی عطاہوئے:
کوپی کرمسرور ہوں گے۔
آنسوسے ملایا جاتاہے اوراس کی شیرینی میں اضافہ ہوتا ہے یہ بھی حسین ؑ کے ماتم
داروں کیلئے جنت میں ہوگا۔
کیونکہ حضرت حسین ؑقتیل العبرۃ ہیں۔
مومن پانی پیتاہے تواپنے آقاومولا کی تشنہ لبی کو یاد کرتاہے۔
اوران کے قاتلوں پرلعنت بھیجے ؟ ایسے کیوں نہ ہوجب کہ دین خدا کی حفاظت کے لئے آپ
ؑ کو پانی کے چار قسموں کے حقوق سے محروم کردیا گیا:
پانی کے استعمال کیلئے بالعموم حاصل ہے۔
ہرذی روح کی زندگی کا دارومدار پانی پر ہے حتیٰ کہ اگرکوئی مخلوق حیوان پیاس کی
شدت سے مررہاہو اورپانی میسر نہ آتاہو تونماز خداکے لئے تیمم کرلیا جائے اوراس
حیوان کی زندگی کو بچانے کے لئے پانی اس کو پلادیا جائے ۔
کہ آپ ؑ نے کئی مرتبہ پیاس سے جان بلب ہونے کی حالت میں ان کوسیراب فرمایاتھا،
ایک دفعہ قحط سالی میں امام حسین ؑ کی دُعاسے بارانِ رحمت کا نزول ہوا تھا، دوسری
مرتبہ جنگ صفین میں جب فوج شام نے پانی پر قبضہ کیا تو امام حسین ؑ نے باعجاز
امامت ان کوسیراب کیا تھا؟ تیسری مرتبہ لشکر حُر کوسیراب فرمایا تھا، ان ہرسہ حقوق
کے باوجود آپ ؑ کو دریائے فرات کے کنارے پربمعہ اصحاب واہل بیت پیاساشہید کردیا
گیا!
دریائے فرات بالخصوص جناب بتول معظمہ کے حق مہر میں داخل تھا۔
مبارکہ پیاس سے سخت طور پر متاثر تھے:
مبارک بالکل خشک تھے۔
تھی۔
کے سامنے سماں تاریک تھا۔ (ملخص ازخصائص)
گلوئے بریدہ سے آپ ؑ یہ فرمارہے تھے:
مَا اِنْ شَرِبْتُمْْ مَائَ عَذْبٍ فَاذْکُرُوْنیِْ
سردپانی پینا تومجھے یاد کرنا۔
بِغَرِیْبٍ اَوْشَھِیْدٍ فَانْدُبُوْ نِیْ
شہید کا ذکرسننا تومیرے اُوپرآنسوبہالینا۔
السِّبْطُ الَّذِیْ بِغَیْرِ جُرْمٍ قَتَلُوْنِیْ
مجھے انہوں نے بغیرجرم کے قتل کیاہے۔
بِجُرْدِ الْخَیْلِ بَعْدَ الْقَتْلِ عَمْدًا سَحَقُوْنِیْ
کے سموں سے مجھے پامال کیا ہے۔
قَدْ جَرَحُوْا قَلْبَ الرَّسُوْلِ الَّثَقَلِیْنِ
انہوں نے رسول الثقلین کے دل کو زخمی کیا ہے۔
وَمُصَابٍ ھَدَّ اَرْکَانَ الْجَحُوِْن
ہے جس نے ارکانِ عالم کو منہدم کرڈالاہے؟
فِیْ یَوْمِ عَاشُوْرَا جَمِیْعًا تَنْظُرُوْنِیْ
مجھے دیکھتے ہوتے؟
اَسْتَسْقِیْ لِطِفْلِیْ فَاَبَوْا اَنْ
یَرْحَمُوْنِیْ
بچے کیلئے پانی مانگ رہاتھا اوروہ رحم نہ کرتے تھے؟
سَھْمَ بَغْیٍ عِوَضَ الْمَائِ الْمَعِیْنِ
کے بدلے میں اس کو انہوں نے تیر جفاکا پانی پلایا!
مَااسْتَطَعْتُمْ شِیْعَتِیْ فِیْ کُلِّ حِیْنِ
جتناکرسکو ہروقت اُن پرلعنت بھیجو۔
طرف پھینکا؟کہ ایک قطرہ واپس نہ آیا غالباًوہ ملائکہ کرام نے اپنے پاس محفوظ
کرلیاہے! کہ بروزمحشراسے بطور شہادت کے پیش کیا جاسکے۔
میں ہے کہ پس آپ ؑ گھوڑے سے اُترے اورخون آلود نازنین کو سپردِ خاک فرمایا، مروی
ہے کہ نوک تلوارسے قبر کھودی اورنماز جنازہ ادا فرمائی پھر دفن کیا، لیکن یہ سوال
پیداہوتاہے کہ تمام شہدأ میں سے اس شہید کے ساتھ یہ نرالاسلوک کیوں ہوا؟ تواس کے
کئی وجوہ ہوسکتے ہیں:
وجہ ہوکہ باقی شہیدوں میں سے کسی کیلئے اس قدروقت نہ مل سکاہو؟
گوارا نہ تھا کہ اس نازنین کا سربھی تن سے جُدا ہوکرنوک نیزہ پرآئے؟
ناگوار ہو؟
گھوڑں کے سموں میں پامال ہونے سے حفاظت کیلئے ایسا کیا ہو؟
لٹنا منظور خاطرنہ ہو؟
کی خوردسالی وپیاس کی شدت اورمظلومیت سے تیر جفاکا
بننا ایسے روح فرساواقعات تھے جن کے پیش نظر معصوم کی لاش کو
کی تاب برداشت نہ ہو؟
میں آئے گی توشاید بچہ کی معصومیت ومظلومیت اورپھر جسم نازک کاگرم زمین پررہنا
برداشت نہ کرسکے؟ اورنیزاس کی یتیم بہنیں اورپھوپھیاں بھی ضبط نہ کرسکیں گی؟ پس
امام ؑ نے مصلحت اسی میں سمجھی کہ اس کی لاش کو سپر دخاک کیا جائے، لیکن کہتے ہیں
کہ ظالموں نے نوک ہائے نیزہ سے بچہ کی مدفون لاش کوتلاش کرلیا اورسرنازنین کوتن سے
جداکرکے نوک نیزہ پرماں بہنوں اورپھوپھیوں کے سامنے سوار کیا؟
