عبداللہ اصغربن عقیل ؑ
الدارین‘‘ سے منقول ہے کہ یہ حضرت عقیل کا فرزند تھا اوراس کی والدہ امّ ولد تھیں
اورکربلامیں شہید ہوا، نیز رجال مامقانی سے بھی اس کا شہید کربلامیں سے ہونا منقول
ہے۔
’’مخزن البکا‘‘ میں واقعہ شہادت اس طرح مرقوم ہے کہ بروایت ’’منتخب‘‘ خولی نے امام مظلوم ؑ کی پشت پرزور سے ایک نیزہ کا وار کیا کہ بروایت ابومخنف امام مظلوم ؑ تین گھنٹے منہ کے بل زمین پرپڑے رہے فَبَقِیَ ثَلَاثَ سَاعَاتٍ مَکْبُوْبًا عَلَی الْاَرْضِ امام مظلوم ؑ آخری وقت تک استغاثہ کرتے رہے…
جب خیمہ میں پہنچے تو خیام کو صحیح و سالم دیکھا، بچوں کی صدائے العطش العطش جگر کو کباب کر رہی تھی، ایک سہ سالہ بچی پانی پانی کر رہی تھی، آپ ؑ نے اس کو تسلی دی، بچی نے عرض کیا بابا جان! آپ ؑ دریا سے میرے لئے کچھ پانی لائے ہیں؟ تو…
زیارت رجبیہ میںاس پر سلام وارد ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہدائے کربلا میں سے تھا۔
زیارت ناحیہ ورجبیہ میں اس پرسلام وارد ہے، ’’نفس المہموم‘‘ سے منقول ہے کہ جب امام حسین ؑ کے تمام انصار شہید ہوگئے اورصرف بنی ہاشم یعنی عقیل وجعفر طیار کی اولادامام حسن ؑ حسین ؑ کی اولاد اورحضرت امیر ؑ کی اولاد بچ گئی اوریہ وہ جوان تھے کہ ان کا ہر ایک اپنی…
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر بھی سلام ہے۔۔۔ ’’منتہی الآمال‘‘ سے منقول ہے کہ عامر بن مسلم اور اس کا غلام سالم شیعان بصرہ میں سے تھے اور حملہ اولیٰ میں شہید ہوئے، یہ دونوں اور سیف بن مالک، ادہم بن امیہ، یزید بن ثبیت اور اس کے دونوں بیٹے سب اکٹھے بصرہ سے…
شجاعانِ کوفہ میں سے ان کا شمار ہوتا ہے۔۔۔ حضرت امیرالمومنین ؑ کے باوفا اصحاب میں سے تھے اور ان کے ہمرکاب ہو کر جنگ صفین میں بھی شریک رہے، انہوں نے حضرت امیرمسلم کی بیعت کی اور جب لوگوں نے ان کی بیعت توڑ دی تو یہ اپنے قبیلے میں چھپے رہے۔۔ اور جب…