مالک بن عبد اللہ جابری
زیارت رجبیہ میںاس پر سلام وارد ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہدائے کربلا
میں سے تھا۔
میں سے تھا۔
’’ریاض الشہادۃ‘‘ میں اس کو شہدائے کربلا میں سے شمار کیا گیا ہے۔
جب ابن زیاد نے ابن سعد کو خط لکھ کرشمر کے حوالہ کیا جس کا مضمون یہ تھا: اگرامام حسین ؑ یزید کی بیعت نہ کرے تو فور اًاس کو قتل کردیاجائے! اس وقت ایک شخص عبداللہ بن ابی محل وحیدی نے کھڑے ہوکر درخواست کی کہ حضرت امیر المومنین علی ؑ بن ابیطالب نے…
زیارت رجبیہ میں اس پرسلام واردہے۔
زیارت ناحیہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے۔
جون غلام ابوذر یہ علاقہ نوبہ کے رہنے والا سیاہ فام غلام تھا۔۔ حضرت امیر ؑ نے فضل بن عباس سے ایک سو پچاس دینار پر خرید کر ابوذر کو بخشا تھا تاکہ ان کی خدمت کرے، پس یہ ابوذر کی خدمت میں رہا۔۔۔ جب خلیفہ عثمان نے ابوذر کو ربذہ کی طرف جلاوطن کیا…
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وار دہے۔