عبید اللہ بن امیرالمومنین ؑ
ہے کہ یہ وہی ہیں جن کی کنیت ابو بکر تھی۔۔۔ لیکن زیارت مذکورہ میں عبد اللہ کے
بعد ابو بکر بن امیر المومنین ؑ پر بھی علیحدہ سلام وارد ہے اور بعض کہتے ہیں کہ
ابو بکر کا نام محمد تھا۔۔۔ واللہ اعلم
اس کاباپ بنہان حضرت حمزہ کا غلام تھا اورنہایت بہادر ودلاور تھا، حضرت حمزہ کی شہادت کے دو سال بعد بنہان کا انتقال ہوگیا توحارث حضرت امیر ؑ کی غلامی کرتارہا اورآپ ؑ کی شہادت کے بعد امام حسن ؑ کے ہمرکاب رہااوراُن کی شہادت کے بعد امام حسین ؑ کی غلامی کرتارہا۔۔۔ اور روز…
زیارت ناحیہ و رجبیہ میں اس پر سلام وار دہے اس کا باپ قرظہ صحابی رسول تھا، جنگ احد اور اس کے بعد جتنی جنگیں ہوئیں ان سب میں شریک تھا بعد میں کوفہ میں سکونت اختیار کر لی، پھر جنگ جمل صفین و نہروان میں حضرت علی ؑ کی رکابِ ظفر انتساب میں شامل…
غالباً حبیب بن مظا ہر کا بھائی ہے، رجز پڑھتے ہوئے فوج اشقیأ پر حملہ آور ہوا اورستّر ملاعین کوتہ ِتیغ کرکے شہید ہوا۔
یہ شخص منزل جہنیہ سے امام ؑ کے ہمرکاب ہوا تھا جب منزل زبالہ میںاکثر لوگ چھوڑگئے تویہ شخص ثابت قدم رہا، حتیٰ کہ کربلامیں بروز عاشور حملہ اولیٰ میں شہید ہوا، اورعسقلانی سے ’’اصابہ‘‘ میں مذکور ہے کہ یہ عقبہ بن صلت جہنی صحابہ رسول میں سے تھا اوراس سے روایات بھی منقول ہیں،…
ان کے نام میں قدرے اختلاف ہے ۔۔۔ بعض کتب میں حبیب بن عبداللہ نہشلی مذکور ہے اور بعض نے زیاد بن عریب لکھا ہے۔۔۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں الگ الگ شخص ہوں جن کی کنیت ابوعمرو ہو۔۔ اور زیاد بن عریب کا ہمدانی ہونا بھی اس کا شاہدہے۔ بہر کیف ابوعمرو…
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔۔۔ باقی اس کے حالات نہیں مل سکے۔