Similar Posts
وہ صحابۂ رسول اکرمؐ جوواقعہ کربلا میں درجہ شہادت پرفائز ہوئے:
(۱) انس بن حارث کاہلی (۲)بکر بن حی ثعلبی (۳)جابر بن عروہ غفاری (۴)جنادہ بن حارث انصاری (۵) جنادہ بن بنہان (۶)حبیب بن مظاہر اسدی (۷) ربیعہ بن خوط (۸)زاہربن عمرواسلمی (۹)زیادبن عریب ہمدانی (۱۰) سعد بن حارث (۱۱)شبیب بن عبداللہ بن حارث (۱۲)عبدالرحمن بن عبدربہ انصاری (۱۳)عبدالرحمن الارحبی (۱۴)عقبہ بن صلت جہنی (۱۵)…
عباس بن جعدہ
یہ شخص حضرت امیرالمومنین ؑکے شیعوں میں سے تھا اورخود مسلم کی بیعت کرنے کے بعد لوگوں سے امیر مسلم کے لئے بیعت لیا کرتاتھا۔ جب ہانی گرفتارہوا اورابن زیاد نے اس پرتشددکیا تو اس وقت حضرت مسلم نے دارُالامارہ پرچڑھائی کی اورعباس بن جعدہ کو ایک چوتھائی فوج کا سالارمقررکیا پھر واقعات بدل گئے…
یزید بن مظاہر اسدی
مقتل ابی مخنف سے منقول ہے کہ روز عاشور اس نے شیر غضبنا ک کی طرح قوم اشقیأ پر حملہ کیا اورایک ہی حملہ میں پچاس ملاعین کا سر قلم کرڈالا،آخر ہر طرف سے فوج یزید ی نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیا اورنیزہ تلوار کے پے درپے واروں سے شہیدکرڈالا۔
سالم مولیٰ عامر بن مسلم
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر بھی سلام ہے۔۔۔ ’’منتہی الآمال‘‘ سے منقول ہے کہ عامر بن مسلم اور اس کا غلام سالم شیعان بصرہ میں سے تھے اور حملہ اولیٰ میں شہید ہوئے، یہ دونوں اور سیف بن مالک، ادہم بن امیہ، یزید بن ثبیت اور اس کے دونوں بیٹے سب اکٹھے بصرہ سے…
ابوالشعثاء الکندی
اس کانام یزید بن زیاد بن مہاجر ہے اور قبیلہ کندہ کا فردِ فرید ہے، شہسواری اور فن تیر اندازی میں اپنی آپ نظیر تھا اور اپنے دور کا عالم اور محدث تھا۔۔۔ علاوہ بریں نہایت شریف، مردِ میدان اور دلیر تھا۔ قبل اس کے کہ لڑائی کی نوبت حضرت سید الشہدأ تک پہنچے۔۔۔تلوار میان…
عبدالرحمن الیزنی
یہ شخص بھی شہدائے کربلا میں سے شمار کیا گیا ہے اور روز عاشور میدان میں جاکر اس نے جہاد کیا اور چند ملاعین کو تہِ تیغ کر کے شہید ہوا۔
