عمرو بن صبیح لعنہٗ اللہ
میں نے قتل کسی کو نہیں کیا، پس بحکم مختار نیزہ سے ہی اس کے جسم کو پارہ پارہ
کردیا گیا۔
’’رجال مامقانی‘‘ سے منقول ہے کہ احمد بن حسن ؑ کی والدہ امّ بشر بنت ابی مسعود انصاری تھی یہ اپنے بھائی قاسم اوردوبہنوں امّ الخیر وامّ الحسن کو ساتھ لے کر اپنے عم ّ بزرگوار کے ساتھ کربلا میں آیا تھا۔۔ اس کی عمر واقعہ کربلا میں سولہ سال تھی۔ ’’ناسخ‘‘ سے منقول ہے…
امام عالیمقامؑ نے عالم تنہائی میں آخری اِستغاثہ کے وقت اپنے جن جن صحابہ کو نام لے کر پکارا ہے ا ن میں سے ایک یہ بھی تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی سر برآوردہ جانثاروں اور بلند مرتبہ فداکاروں میں سے تھے ورنہ امام پاک ایسے آڑے وقت میں ان کو…
یہ بزرگ باتفاق شیعہ وسنی صحابہ رسول میں سے تھے اورحضرت امیرعلیہ السلام کی غلامی کا بھی ان کو شرف حاصل تھا، چنانچہ جنگ جمل صفین ونہروان میں آپؑ کے ہمرکاب تھے۔۔ عبادت گزار۔۔ شب بیداراورقاری قرآن تھے، نیر شجاعت میں بھی اپنی آپ نظیر تھے، ’’مہیج الاحزان‘‘ سے منقول ہے کہ انہوں نے کئی…
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وار دہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص شہدائے کربلا میں سے ہے۔
’’ریاض الشہادۃ‘‘ میں اس کو شہدائے کربلا میں سے شمار کیا گیا ہے۔
’’وقائع الایام جلد چہارم‘‘ اور دوسری کتب میں بھی امام جعفرصادقؑ سے منقول ہے کہ جب روز عاشور لڑائی شروع ہوئی تو خدا نے امام حسین ؑ پر نصرت نازل فرمائی جو امام پاک کے سر پر پرواز کرتی تھی اور امام حسین ؑ کو نصرت اور لقائے پروردگار میں اختیار دیا گیا تھا لیکن…