ظہیر بن حسان اسدی
الشہادۃ‘‘ میں اس کو شہدائے کربلا میں سے شمار کیا گیا ہے۔
اس کی عمر ۱۲یا۱۳برس تھی واقعہ کربلامیں شہید ہوا ،زیارت ناحیہ میں ان پر سلام وارد ہے اس محمد کے علاوہ ہے جو کوفہ میں اپنے بھائی ابراہیم کے ساتھ ایک سال قید رہ کر شہید ہوا۔
اس کا نام عروہ مذکور ہے لشکر اشقیا ٔ میں داخل تھا جب اپنے آقا حُر کو شہید دیکھا تو فوج اشقیا ٔ پر حملہ آور ہو گیا کافی ملاعین کو تہِ تیغ کر کے خدمت امام ؑ میں پہنچا اور اذن جہاد حاصل کر کے دوبارہ میدان میں گیا اور مصروف جہاد ہو کر…
ابومخنف سے منقول ہے کہ یہ شخص جرأت وشجاعت میں یگانہ ٔدہرتھا میدان جنگ میں اس نے خوب دادشجاعت دی اور(۶۴) نام برآوردہ اشخاص کوتہِ تیغ کیا جب لشکراعدأ نے اس بیشہ شجاعت کے شیر کے مقابلہ میں بزدلی کا مظاہرہ کیا تو ازراہ مکروفریب ہرطرف سے تیرو تلوار ونیزہ وسنگ بارانی سے اس پرحملہ…
نصر کا باپ ابو نیزر بقول مبرّد سلاطین عجم کی اولاد میں سے تھا اور علامہ نوری سے ’’مستدرک‘‘ میںمنقول ہے کہ نجاشی کی اولاد میں سے تھا، بچپنے سے اسلام قبول کر کے مدینہ میں آیا اور شرف صحابیت رسول ؐ حاصل کیا، حضرت رسالتمآبؐ بنفس نفیس اس کی سر پرستی فرماتے تھے اور…
یہ بزرگوار قبیلہ ہمدان سے تھے۔۔ کوفہ میں سکونت پذیر تھے۔۔ حضرت سید الشہدأ کے بزرگ ترین صحابہ میں سے ان کا شمار ہوتا ہے، عبادت گزاروں۔۔پرہیزگاروں اور زُھّاد میں سے آپ صف اوّ ل میں تھے۔۔۔ ان کو سیدالقرأ کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔۔۔۔ نیز حضرت امیر ؑ کے حواریّین اور اشراف کوفہ…
زیارت ناحیہ و رجبیہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے دیگر تفصیلی حالات معلوم نہیں ہو سکے۔