مالک بن دودان
سے مروی ہے کہ یہ شخص رجز پڑھتے ہوئے دشمنان حسین ؑ پر حملہ آور ہو ا اور بروایت
ابو مخنف ساٹھ ملاعین کو جہنم پہنچا کر درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
یہ شخص حضرت امام حسین ؑ کا غلام تھا اس کو آپ ؑ نے امام حسن ؑ کی شہادت کے بعد خرید لیا تھا اور پھر امام زین العابدین ؑ کو بخش دیا تھا۔۔۔ اس کا باپ تُرک تھا اور یہ غلام قاری قرآن اور امام عالیمقام ؑ کا منشی بھی تھا، مکہ سے مدینہ…
حضرت علی ؑکے خاص الخاص شیعوں میں سے تھا اور جناب رسالتمآب کی صحبت کا شرف بھی اسے حاصل تھا، بوقت شہادت اس کی عمر ۹۸ برس تھی، قبیلہ مراد کا سردار تھا، جب سوار ہوتا تھا تو بروایت چارہزار جنگی سوار اور آٹھ ہزار پیادے سلاح پوش اس کے ہمر کاب ہوا کرتے تھے،…
امام حسین ؑ کے اصحاب میں سے اس کا شمار ہے اورزیارت رجبیہ میں اس پر سلام بھی وارد ہے، یقطر جناب رسالتمآبؐ کا خادم تھا اوراس کی زوجہ میمونہ حضرت امیرالمومنین ؑ کے گھر میں رہتی تھی، جب حضرت امام حسین ؑ پیداہوئے تو ان سے تین دن بعد عبداللہ بن یقطر پیداہوا اسی…
’’قمقام فرہاد میرزا‘‘ سے منقول ہے کہ انہوں نے ’’تذکرہ الخواص‘‘ سے نقل کیا ہے جب سرہائے شہدأ کو کوفہ میں لایا گیا توقاسم بن اصبغ مجاشعی روایت کرتاہے میں نے ایک گھوڑے سوار کودیکھا کہ اس کے گھوڑے کی گردن سے ایک نوجوان کا سرلٹکا ہواتھا جس کا چہرہ مبارک چودھویں کے چاند کی…
’’نفس المہموم و منتہی الآمال‘‘ سے منقول ہے کہ یہ شخص امام حسین ؑ کے لشکر کے سربرآوردہ افراد میں سے تھا۔۔ روز عاشور مردانہ جہاد کر کے درجہ شہادت پر فائز ہوا لیکن اس کے مقتولین کی تعداد نہیں بیان کی گئی۔
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وار دہے۔