محمد بن انس بن ابی دجانہ
الشہادہ‘‘ میں اس کو شہدائے کربلا میں سے شمار کیا گیا ہے۔
یہ شخص اور اس کا بھائی سعد بن حارث فوج اشقیا ٔ میں تھے اور خوارج میں شمار ہوتے تھے۔۔ جب امام ؑنے استغاثہ کی آواز بلند فرمائی اور خیمہ ہائے اہل بیت سے بچوں اور بیبیوں کے گریہ کی آواز بلند ہوئی تو ان دونوں بھائیوں کی قسمت نے یاوری کی اور آپس میں…
حسن مثنیٰ بن امام حسن ؑ | hassan mussana bin imam hassan as | shia books online ان کی والدہ کا نام خولہ بنت منظور بن ریان فزاری تھا، یہ حسن مثنی کے نام سے مشہو رہیں۔۔۔ یہ فاضل جلیل اورنہایت متقی تھے، اپنے زمانہ میں حضرت امیر ؑ کے صدقات کے نگران رہے، لہوف…
زیارت ناحیہ و رجبیہ میں اس پر سلام وار دہے اس کا باپ قرظہ صحابی رسول تھا، جنگ احد اور اس کے بعد جتنی جنگیں ہوئیں ان سب میں شریک تھا بعد میں کوفہ میں سکونت اختیار کر لی، پھر جنگ جمل صفین و نہروان میں حضرت علی ؑ کی رکابِ ظفر انتساب میں شامل…
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے اس کے علاوہ اس کے تفصیلی حالات کا علم نہیں ہو سکا۔
(۱) ادہم بن امیہ عبدی (۲)امیہ بن سعدطائی (۳)بشربن عمروحضرمی (۴)بکربن حی (۵)جابربن حجاج (۶)جبلہ بن عمردشیبانی (۷)جنادہ بن کعب (۸)جندب بن حجیر (۹)جوین بن مالک تمیمی (۱۰)حارث بن امرأ القیس کندی (۱۱)حارث بن بنہان (۱۲)حباب بن حارث (۱۳)حباب بن عامر تمیمی (۱۴)حجاج بن زیدسعدی (۱۵) حجیربن جندب (۱۶)حلّاس بن عمرو راسبی (۱۷)زاہربن عمروراسبی…
شیخ سے مروی ہے کہ یہ شخص بھی امام حسین ؑ کے اصحاب میں سے تھا۔