محمد بن عباس بن امیر المومنین ؑ
تھا جو واقعہ کربلامیں شہید ہوا، محمد کے علاوہ حضر ت ابوالفضل العباس ؑ کے
چارلڑکے بیان کئے گئے ہیں:
عبیداللہ ، فضل
، حسن ، قاسم
اولاد کا سلسلہ عبیداللہ کی صلب سے ہے۔
اس کی کوفہ میں رہائش تھی حضرت علی ؑ کے صحابہ میں سے تھا اورآپ ؑ کے ہمراہ جنگ جمل وصفین میں شریک رہ چکا تھا، کہتے ہیں کہ حجر بن عدی کا ہمنشین تھا جب حجر گرفتارہو اتویہ کسی طریقہ سے جان بچاکربھاگ نکلا تھا جب زیادواصل جہنم ہوا، تویہ دوبارہ واپس کوفہ میںآگیا…
ابن شہر آشوب اور دوسرے محققین نے ان کو بھی شہدائے کربلا کی فہرست میں ذکر کیا ہے۔۔۔ انہوں نے بیس سے زیادہ ملاعین کو فی النار کر کے جام شہادت نوش فرمایا۔۔۔ اس کے علاوہ ان کے متعلق اور کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر اسلم بن کثیر ازدی کے نام سے سلام وارد ہے۔۔ لیکن کتب رجال اورصحائف تاریخ میں اس کا نام مسلم بن کثیر وارد ہے، لہذا غالب خیال یہ ہے کہ کاتب کی غلطی سے مسلم کی بجائے اسلم لکھا گیا ہو مروی ہے کہ جنگ جمل میں ایک تیراس…
زیارت رجبیہ وناحیہ میں اس پر سلام وارد ہے، اس کی والدہ کا نام خوصا بنت عمروکلابی منقول ہے، رجز پڑھتے ہوئے میدان کارزار میں آئے اورپندرہ ملاعین کو دارالبوار پہنچایا، آخر عبداللہ بن عروہ خثعمی نے ایک تیر مارا جس سے یہ زمین پرگرپڑے اوربشربن خوط ملعون نے اس مظلوم کا سرتن سے جداکردیا۔
(۱)عبداللہ بن حارث (۲) عبداللہ بن عفیف ازدی (۳) ہانی بن عروہ مرادی (۴)سلیمان بن صردخزاعی
یہ شخص حضرت امیر ؑ کے صحابہ میں سے تھا اور اس کا باپ صحابی رسول تھا، یہ مجمع جنگ صفین میں شاہِ ولایت کے ہمرکاب تھا یہ اور اس کا بیٹا عائذ کوفہ میں مقیم تھے جب امام حسین ؑ کے سفیر قیس بن مسہّر صیداوی نے آکر خبر دی کہ امام عالیمقام ؑ…