رسول اکرمؐ کے وہ صحابہ جو نصرت حسین ؑ میں شہید کئے گئے:
(۱)عبداللہ
بن حارث (۲)
عبداللہ بن عفیف ازدی
بن حارث (۲)
عبداللہ بن عفیف ازدی
(۳) ہانی بن
عروہ مرادی (۴)سلیمان
بن صردخزاعی
عروہ مرادی (۴)سلیمان
بن صردخزاعی
زیارتِ رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے اسکے علاوہ اسکے حالات کا کوئی علم نہیں۔
یہ بزرگوار بہت بوڑھے اور عبادت گزار تھے۔۔۔ جناب رسالتمآب کی صحابیت کا شرف بھی ان کو حاصل تھا، جنگ بدر۔۔حنین اور دیگر غزواتِ نبویہ میں شریک رہے، پس کمر کو مضبوط باندھا اور ایک رومال اپنے اَبروئوں کے بلند کرنے کے لئے پیشانی پر باندھا۔۔۔ حضرت امام حسین ؑ اس کی یہ جاں فشانی…
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔۔۔ باقی اس کے حالات نہیں مل سکے۔
’’نفس المہموم‘‘ سے منقو ل ہے کہ یہ شخص رجز پڑھتا ہوا میدان کی طرف بڑھا اور نہایت بہادری اور دلیری سے قوم اشقیأ پر حملہ آور ہو ا (۶۸) ملاعین کو تہِ تیغ کر کے درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
زیارت ناحیہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے۔
اس ملعون نے امام مظلوم ؑ کی پیشانی کوپتھرسے زخمی کیاتھا۔