محمد بن مسلم بن عقیل
وارد ہے اس محمد کے علاوہ ہے جو کوفہ میں اپنے بھائی ابراہیم کے ساتھ ایک سال قید
رہ کر شہید ہوا۔
’’ارشاد شیخ مفید‘‘ میں ہے کہ امام حسن ؑ کے تین فرزند کربلامیں شہید ہوئے: عمر، قاسم اورعبداللہ اوریہ تینوں ایک ماں کے شکم سے تھے، لیکن صاحب ناسخ التواریخ نے پانچ شمار کئے ہیں: احمد، قاسم، عبداللہ اکبر،عبداللہ اصغر اورابوبکر، وہ لکھتاہے کہ عمربن حسن ؑ میدانِ کربلا میں موجود تھا لیکن شرفِ شہادت…
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پرسلام وارد ہے، بصرہ سے اپنے باپ کے ہمراہ آیا اورحملہ اولیٰ میں درجہ شہادت پرفائزہوا۔
جس طرح ضرغام کا معنی شیر ہے اسی طرح بنابر نقل مورّخین کے یہ شخص اسم بامسمّیٰ تھا، پیشہ شجاعت کا شیر صف شکن، شہسوار اور مشاہیر شیعان کوفہ میں سے تھا، حضرت مسلم کی بیعت میں داخل ہوا جب لوگوں نے غداری کی تو یہ شخص عمر بن سعد کی فوج میں شامل ہو…
جب امیر مختار نے کوفہ کو دشمنانِ حسین ؑ سے پاک صاف کر دیا باختلاف روایات ابرہیم بن مالک اشتر کو ۹، ۱۲ ، ۲۰ہزارکے لگ بھگ فوج دے کر ۲۲ذوالحجہ کوابن زیادکے مقابلہ کے لئے روانہ کیا، مختارخود ابراہیم کی مشایعت کے لئے شہرسے باہر تک آیا پس ابراہیم کوچند ہدایات دے کرروانہ کیا اورخود واپس آگیا، چنانچہ ابراہیم…
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔
اس کی کنیت ابوعمر تھی اور قبیلہ ہمدان سے تھا۔۔۔’’ استیعاب و دیگر کتب‘‘ میں ہے کہ اس کا باپ صحابی رسول تھا اور ’’اصابہ‘‘ سے منقول ہے کہ عریب کا بیٹا بھی رسول کی صحبت کا شرف رکھتا ہے جو میدانِ کربلا میں امام حسین ؑ کے ہمرکاب شہید ہوا، ’’رجال مامقانی‘‘ سے منقول…