یحییٰ بن حسن بن علی ؑ
ہے تفصیل معلوم نہیں۔
مسلم بن عوسجہ کا ایک فرزند تھا جس کا نام خلف لکھا گیا ہے، ’’ناسخ‘‘ سے منقول ہے کہ جب مسلم بن عوسجہ شہید ہوا تو اُس کا جواں سال فرزند (خلف) شیر غضبناک کی طرح میدان کی طرف بڑھا لیکن جب حضرت حسین ؑ نے دیکھا تو فرمایا اے جوان! تیرا باپ شہید ہو…
یہ شخص حضرت امیر ؑ کے مخلص شیعوں میں سے تھا۔۔ کربلا میں اپنی عیال سمیت وارد ہوا اور حملہ اولیٰ میں شہید ہوا۔
علمائے رِجال نے ذکر کیا ہے کہ یہ بزرگوار جناب رسالتمآب کی صحابیت کا شرف بھی رکھتے تھے اور کربلا میں ان کے ساتھ ان کا چچازاد ربیعہ بن خوط بھی آیا تھا اور وہ بھی صحابی رسول تھا۔۔ چنانچہ بعد میں اس کا ذکر بھی آجائے گا۔۔ یہ بزرگوار حضرت امیر ؑ کے خاص…
علمائے تاریخ نے اس کو بھی شہدائے کربلا میں شمار کیا ہے۔۔ حالات کی تفصیل معلوم نہیں۔
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر اسلم بن کثیر ازدی کے نام سے سلام وارد ہے۔۔ لیکن کتب رجال اورصحائف تاریخ میں اس کا نام مسلم بن کثیر وارد ہے، لہذا غالب خیال یہ ہے کہ کاتب کی غلطی سے مسلم کی بجائے اسلم لکھا گیا ہو مروی ہے کہ جنگ جمل میں ایک تیراس…
’’ریاض الشہادۃ‘‘ میں اس کو شہدائے کربلا میں سے شمار کیا گیا ہے۔