یحییٰ بن کثیر انصاری
میدانِ قتال میں خوب جوہر شجاعت دکھائے اور پچاس ملاعین کو تہِ تیغ کیا اور درجۂ
رفیعہ شہادت پر فائز ہوا۔
ابن شہر آشوب اور دوسرے محققین نے ان کو بھی شہدائے کربلا کی فہرست میں ذکر کیا ہے۔۔۔ انہوں نے بیس سے زیادہ ملاعین کو فی النار کر کے جام شہادت نوش فرمایا۔۔۔ اس کے علاوہ ان کے متعلق اور کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔
ذاکرین و واعظین کی زبان پر اس روایت کو شہرت حاصل ہے اگرچہ میں نے کسی معتبر مدرک میں اس کو نہیں دیکھا کہ شب یازدہم جناب زینب علیا وجناب امّ کلثوم نے جب بچوں کو ادھر ادھر سے تلاش کر کے جمع کیا تو ایک نشیب میں دو بچوں کو مو ت کی نیند…
حصین بن نمیر کے قتل کے بعد تغلبی نوجوان نے شرجیل کو بھی واصل جہنم کیا، یہ بھی رئیس فوج تھا اور اب تو لڑائی کی گہماگہمی حد سے بڑھ گئی اور لوہے پر لوہے کی آواز آہن گروں کے بازار کی یاد کو تازہ کررہی تھی، گرز گرز پر۔۔ نیز ہ نیزہ پر اور…
جس طرح ضرغام کا معنی شیر ہے اسی طرح بنابر نقل مورّخین کے یہ شخص اسم بامسمّیٰ تھا، پیشہ شجاعت کا شیر صف شکن، شہسوار اور مشاہیر شیعان کوفہ میں سے تھا، حضرت مسلم کی بیعت میں داخل ہوا جب لوگوں نے غداری کی تو یہ شخص عمر بن سعد کی فوج میں شامل ہو…
ابن زیاد نے یزید کو واقعہ کربلاکی اطلاع بذریعہ ہر کارہ کے بھیجی تووہاں سے حکم پہنچا کہ شہدأ کے سروں کو بمعہ قافلہ اسیرانِ اہل بیت کے شام لے جائیں، چنانچہ زجربن قیس کو پچاس آدمیوں کے ہمراہ سروں پر نگران کرکے شام کو روانہ کیا، حضرت سجاد ؑکے ہاتھوں میں زنجیرڈالے گئے اورایک…
اسکے متعلق صرف اسی قدر ملتا ہے کہ روزِ عاشور حملہ اولیٰ میں درجہ شہادت پر فائز ہوا۔