یحییٰ بن سلیم مازنی
معلوم نہیں۔
زیارت رجبیہ میں اس پرسلام واردہے۔
بعض کتب معتبرہ میں اس بزرگوار کو شہدائے کربلا میں شمار کیا گیا ہے اور اس کا شہدائے کربلا میں ہونا اس سے بھی ثابت ہے کہ حضرت امام حسین ؑ نے آخری استغاثہ میں جب اپنے اصحاب کو نام لے لے کر پکارا تو ان میں ابراہیم بن حصین کانام بھی آتا ہے۔ ’’نفس…
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وار دہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص شہدائے کربلا میں سے ہے۔
مختار نے پوچھا تووہ ہے جوعورتوں کوپیدل دوڑاتاتھا اورننگے پائوں ان کوچلنے کو کہتاتھا؟ پس اس کو لٹا کراوپرسے کچل دیا گیا ۔
جب حصین بن نمیر نے یہ منظر دیکھا تو یہ ملعون چونکہ لشکر کے میمنہ کا علمبردار تھا حکم دیا کہ ابرہیم کے لشکرہ کے میسرہ پر یکبار گی حملہ کریں، چنانچہ انہوں نے حملہ کیا اور ایک ہی حملے میں ابرہیم کی فوج کے کافی سپاہی مارے گئے، پس حصین میدان میں آگے کو…
’’مقاتل الطالبین‘‘ سے مروی ہے کہ ابرہیم بن علی کی والدہ امّ ولد تھی اوریہ میدانِ کربلامیں شہید ہوا۔