سلمان بن مضارب
تھا اس وقت سے یہ بھی امام ؑ کے ہمرکاب ہو گیا تھا اور روز عاشور درجہ رفیعہ شہادت
پر فائز ہوا۔
اس کی ماں عمروبن حجاج زبیدی کی لڑکی تھی، جب ہانی شہید ہوگیاتو یحییٰ کوفہ میں اپنی قوم کے ہاں مخفی رہا، جب امام حسین ؑ کی کربلا میں آمد سنی تو فوراً کربلا پہنچا روز عاشور جب آتش حرب مشتعل ہوئی تو میدانِ کا رزار میں مردانہ وار لڑائی کی اوربہت سے ملاعین کو…
یہ شخص شہدائے کربلامیں سے ہے، نہایت شجاع اوربہادر تھا، اس نے اپنے جہاد میں چالیس سے زیادہ ملاعین کو دارلبوارپہنچا اورپھر جام شہادت نوش کیا۔
’’اصابہ‘‘ سے منقول ہے کہ یہ شخص حضرت امیر ؑ کا غلام تھا کوفہ میں حضرت امیر ؑ کی طرف سے پولیس کا افسر مقرر تھا اور پھر آپ ؑ نے اس کو آذربائیجان کا والی مقرر کیا تھا، اس کو جناب رسالتمآب کی صحابیت کا شرف بھی حاصل تھا، حضرت امیر ؑ کے بعد…
زیارت رجبیہمیں ان پر بھی سلام کیا گیا ہے۔۔ باقی حالات کہیں نہیں ملتے۔
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے لیکن ’’ناسخ‘‘ سے منقول زیاد بن مصاہر کندی ہے جس نے لشکر اعدا پر حملہ کر کے نو (۹)افراد کو فی النار کیا اور پھر شہید ہوا ۔۔۔ واللہ اعلم
میں اس شہادت کو سیّد العلما ٔواستاذ الفضلاعلاّمہ مولانا سید محمد باقر شاہ صاحب قبلہ مدظلّہ العالی کی کتاب مجالس المرضیہ سے نقل کرتاہوں؟ تذکرہ سبط بن جوزی میں ہشام کلبی سے مروی ہے کہ جب حضرت امام حسین ؑنے دیکھا کہ لوگ میرے قتل پرآمادہ ہیں توقرآن مجید کو کھول کرسرپررکھا اورباآواز بلند ندادی:…